Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2038

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان

3 hadiths in this chapter

10387

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10387

Sahih

۔ (۱۰۳۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدْ کَانَ مَلَکُ الْمَوْتِ یَاْتِیْ النَّاسَ عَیَانًا، قَالَ: فَاَتٰی مُوْسٰی فَلَطَمَہُ فَفَقَأَ عَیْنَہُ، فَاَتٰی رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، فَقَالَ: یَا رَبِّ! عَبْدُکَ مُوْسٰی فَقَأَ عَیْنِیْ،وَ لَوْلَا کَرَامَتُہُ عَلَیْکَ لَعَنُفْتُ بِہٖ، (وَقَالَیُوْنُسُ: لَشَقَقَتُ عَلَیْہِ) فَقَالَ لَہُ: اذْھَبْ اِلٰی عَبْدِیْ فَقُلْ لَہُ فَلْیَضَعْیَدَہُ عَلٰی جِلْدِ اَوْ مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ وَارَتْ یَدُہُ سَنَۃٌ، فَاَتَاہُ فَقَالَ لَہُ: مَا بَعْدَ ھَذَا؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ، قَالَ: فَشَمَّہُ شَمَّۃً فَقَبَضَ رُوْحَہُ قَالَ یُوْنُسُ: فَرَدَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَیْنَہُ وَ کَانَ یَاْتِیْ النَّاسَ خُفْیَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملک الموت (موت والا فرشتہ) لوگوں کے پاس آتا تھا اور وہ اس کو دیکھتے تھے، اسی طرح وہ موسی علیہ السلام کے پاس آیا لیکن انھوں نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: اے میرے ربّ! تیرے بندے موسی نے (طمانچہ مار کر) میری آنکھ پھوڑ دی، اگر تو نے اسے معزز نہ بنایا ہوتا تو میں بھی اس پر سختی کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا: تو میرے بندے کے پاس واپس جا اور اس سے کہہ کہ وہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال تم زندہ رہو گے۔ موسی علیہ السلام نے (فرشتے کی یہ بات سن کر) کہا: اس کے بعد پھر کیا ہو گا؟ جواب ملا: پھر تجھے موت آئے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھیں ایک بو سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی۔ یونس راوی نے کہا: پس اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو آنکھ عطا کر دی، اس کے بعد فرشتہ لوگوں کے پاس مخفی انداز میں آنے لگ گیا۔

10388

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10388

Sahih

۔ (۱۰۳۸۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: ((اُرْسِلَ مَلَکُ الْمَوْتِ اِلَی مُوْسٰی فَلَمَّا جَائَ ہُ صَکَّہُ فَفَقَأَ عَیْنَہُ، فَرَجَعَ اِلٰی رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، فَقَالَ: اَرْسَلْتَنِیْ اِلٰی عَبْدٍ لَا یُرِیْدُ الْمَوْتَ، قَالَ: فَرَدَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلَیْہِ عَیْنَہُ وَ قَالَ: ارْجِعْ اِلَیْہِ فَقُلْ لَہُ یَضَعُیَدَہُ عَلٰی مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَہُ بِمَا غَطَّتْ یَدُہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ سَنَۃٌ فَقَالَ: اَیْ رَبِّ! ثُمَّ مَہْ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فاَلْآنَ، فسَاَلَ َاللّٰہَ اَنْ یُدْنَیَہُ مِنَ الْاَرْضِ الْمُقَدَّسَۃِ رَمْیَۃً بِحَجَرٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :(( فَلَوْ کُنْتُ ثَمَّ لَاَرَیْتُکُمْ قَبْرَہُ اِلٰی جَانِبِ الطَّرِیْقِ تَحْتَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملک الموت کو موسی علیہ السلام کی طرف بھیجا گیا، پس جب وہ ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کو تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ دی، پس وہ اپنے ربّ کی طرف لوٹ گیا اور کہا: تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے، جس کا موت کا ارادہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کی آنکھ واپس لوٹا دی اور اس سے کہا: تو اس کی طرف لوٹ جا اور اس کو کہہ کہ وہ اپنا ہاتھ بیل کی کمر پر رکھے، جتنے بال ہاتھ کے نیچے آ جائیں گے، اتنے سال زندگی مل جائے گی، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! پھر کیا ہوگا؟ اس نے کہا: پھر موت ہو گی، انھوں نے کہا: تو پھر ابھی سہی، پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ اس کو پاک زمین سے ایک پتھر کی پھینک تک قریب کر دے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو تمھیں سرخ ٹیلے کے نیچے راستے کی ایک طرف ان کی قبر دکھاتا۔

10389

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10389

Sahih

۔ (۱۰۳۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَرَرْتُ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ عَلٰی مُوْسٰی فَرَاَیْتُہُ قَائِمًا یُصَلِّیْ فِیْ قَبْرِہِ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: (عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ) (مسند احمد: ۱۲۵۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے سیر کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے۔ ایک روایت میں یہ زائد بات ہے: یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔