Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2033

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

کلیم اللہ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت شروع کر دینا اور اس چیز کو دیکھ کر موسی علیہ السلام کا تورات کی تختیوں کو پھینک دینا اور ان کا ٹوٹ جانا

1 hadith in this chapter

10380

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10380

Sahih

۔ (۱۰۳۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْخَبْرُ کَالْمُعَایَنَۃِ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَخْبَرَ مُوْسٰی بِمَا صَنَعَ قَوْمُہُ فِیْ الْعِجْلِ فَلَمْ یُلْقِ الْاَلْوَاحَ، فَلَمَّا عَایَنَ مَاصَنَعُوْا اَلْقَی الْاَلْوَاحَ فَانْکَسَرَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اطلاع دینا، مشاہدہ کرنے کی طرح نہیں ہے، بیشک جب اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بتلایا کہ اس کی قوم نے بچھڑے کے معاملے میں یہ رویہ اختیار کر لیا ہے، تو انھوں نے تختیاں نہیں پھینکی، لیکن جب انھوں نے خود مشاہدہ کیا تو ان کو پھینک دیا اور وہ ٹوٹ گئیں۔