Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2030

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

موسی علیہ السلام کا پتھر کے ساتھ واقعہ

3 hadiths in this chapter

10374

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10374

Sahih

۔ (۱۰۳۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ کَانُوْا یَغْتَسِلُوْنَ عُرَاۃً (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی سَوْاَۃِ بَعْضٍ) وَ کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ مِنْہُ الْحَیَائُ وَ السِّتْرُ، وَ کَانَ یَتْسَتِرُ اِذَا اغْتَسَلَ فَطَعَنُوْا فِیْہِ بِعَوْرَۃٍ (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالُوْا: وَاللّٰہِ! مَا یَمْنَعُ مُوْسٰی اَنْ یَغْتَسِلَ مَعَنَا اِلَّا اَنَّہُ آدَرُ) قَالَ: فَبَیْنَمَا نَبِیُّ اللّٰہِ یَغْتَسِلُیَوْمًا وَضَعَ ثِیَابَہُ عَلٰی صَخْرَۃٍ فَانْطَلَقَتِ الصَّخْرَۃُ بِثَیَابِہٖ، فَاَتْبَعَھَا نَبِیُّ اللّٰہِ ضَرْبًا بِعَصَاہُ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! حَتَی اِنْتَھٰی بِہٖاِلٰی مَلَاٍ مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ وَ تَوَسَّطَھُمْ فَقَامَتْ (اَیْ: اَلصَّخْرَۃُ) وَ اَخَذَ نَبِیُّ اللّٰہِ ثِیَابَہُ فَنَظَرُوْا فَاِذَا اَحْسَنُ النَّاسِ خَلْقًا وَ اَعْدَلُھُمْ صُوْرَۃً، فَقَالَتْ بَنُوْ اِسْرَئِیْلَ: قَاتَلَ اللّٰہُ اَفَّاکِی بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ فَکَانَتْ بَرَائَ تَہُ الَّتِیْ بَرَّأَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا۔)) (مسند احمد: ۹۰۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بنو اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی موسی علیہ السلام اس چیز سے حیا اور شرم محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ پردہ کر کے غسل کرتے تھے، لیکن بنو اسرائیل نے اس وجہ سے ان پر ان کی شرمگاہ کے بارے میں طعن کیا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسی کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ ان کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں، پس ایک دن اللہ کے نبی نہا رہے تھے اور اپنے کپڑے ایک چٹان پر رکھ دیئے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان کپڑوں سمیت چل پڑی، موسی علیہ السلام بھی اس کے پیچھے ہو لیے، اپنی لاٹھی ماری اور یہ آواز دی: اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، لیکن اتنے میں وہ پتھر بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گیا اور ان کے درمیان جا کر کھڑا ہو گیا، اللہ کے نبی نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، جب انھوں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے خوبصورت تخلیق والا اور سب سے معتدل صورت والا پایا، اس کے بعد بنو اسرائیل نے کہا: اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد کو ہلاک کرے، پس یہی وہ براء ت تھی کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بری کیا تھا۔

10375

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10375

Sahih

۔ (۱۰۳۷۵)۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) فَاَخَذَ ثَوْبَہُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا، فَقَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَ اللّٰہِ! اِنَّ بِالْحَجَرِ نَدَبًا سَتَۃً اَوْ سَبْعَۃً ضَرَبَ مُوْسٰی بِالْحَجَرِ۔ (مسند احمد: ۸۱۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک روایت میں ہے: موسی علیہ السلام نے اپنے کپڑے لیے اور پتھر کو مارنا شروع کر دیا، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! موسی علیہ السلام کے مارنے کی وجہ سے پتھر پر چھ سات نشان تھے۔

10376

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10376

Sahih

۔ (۱۰۳۷۶)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قَالَ لِیْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مِنْ اَیْنَ اَقْبَلْتَ؟ قُلْتُ: مِنَ الشَّامِ، قَالَ: فَقَالَ لِیْ: ھَلْ رَاَیْتَ حَجَرَ مُوْسٰی؟ قُلْتُ: وَ مَا حَجَرُ مُوْسٰی؟ قَالَ: اِنَّ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ قَالُوْا لِمُوْسٰی قَوْلًا تَحْتَ ثِیَابِہٖ فِیْ مَذَاکِیْرِہِ قَالَ: فَوَضَعَ ثِیَابَہُ عَلٰی صَخْرَۃٍ وَ ھُوَ یَغْتَسِلُ قَالَ: فَسَعَتْ ثِیَابَہُ قَالَ: فَتَبِعَھَا فِیْ اَثَرِھَا وَ ھُوَ یَقُوْلُ: یَاحَجَرُ! اَلْقِ ثِیَابِیْ، حَتّٰی اَتَتْ بِہٖ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ فَرَاَوْا سَوِیًّا حَسَنَ الْخَلْقِ فَلَجَبَہُ ثَلَاثَ لَجَبَاتٍ فَوَالَّذِیْ نَفْسُ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ لَوْ کُنْتُ نَظَرْتُ لَرَاَیْتُ لَجَبَاتِ مُوْسٰی فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۸۲۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا: جی شام سے، انھوں نے کہا: کیا تم نے موسی علیہ السلام کا پتھر دیکھا ہے؟ میں نے کہا: موسی علیہ السلام کے پتھر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: بنو اسرائیل نے موسی علیہ السلام کے خصیتین کے معیوب ہونے کے بارے میں کوئی بات کی، ایک دن وہ ایک چٹان پر کپڑے رکھ کر نہانے لگے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان ان کے کپڑوں سمیت دوڑ پڑی، وہ اس کے پیچھے دوڑے اور کہا: اے پتھر! میرے کپڑے پھینک دے، لیکن وہ پتھر بنو اسرئیل کے پاس پہنچ گیا، پس انھوں نے دیکھا کہ وہ بالکل ٹھیک اور خوبصورت تخلیق والے ہیں، پھر موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس پتھر کو اپنی لاٹھی سے تین ضربیں لگائیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر میں اس پتھر کو پا لیتا تو اس میں موسی علیہ السلام کی ضربوں کے نشانات دیکھ لیتا۔