Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10353
۔ (۱۰۳۵۳)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلٰی قَوْمٍ مِنْ اَسْلَمَ وَھُمْ یَتَنَاضَلُوْنَ فِیْ السُّوْقِ، فَقَالَ: ((ارْمُوْا یَا بَنِیْ اِسْمَاعِیْلَ فَاِنَّ اَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا، ارْمُوْا وَ اَنَا مَعَ بَنِیْ فُلَانٍ لِاَحَدِ الْفَرِیْقَیْنِ)) فَاَمْسَکُوْا اَیْدِیَھُمْ، فَقَالَ: ((ارْمُوْا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ نَرْمِیْ وَ اَنْتَ مَعَ بَنِیْ فُلَانٍ؟ قَالَ: ((ارْمُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۴۳)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو اسلم کے کچھ لوگوں کے پاس گئے اور وہ بازار میں تیراندازی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اولادِ اسماعیل! تم تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا اور میں بنوفلاں کے ساتھ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ایک فریق تھا، یہ سن کر دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم تیر اندازی کرو (کیوں رک گئے ہو؟) انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے تیر اندازی کریں، جبکہ آپ بنو فلاں کے ساتھ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔