Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2015

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر

4 hadiths in this chapter

10329

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10329

Sahih

۔ (۱۰۳۲۹)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحِجْرِ قَالَ: ((لَا تَسْاَلُوْا الْآیَاتِ وَ قَدْ سَاَلَھَا قَوْمُ صَالِحٍ فَکَانَتْ تَرِدُ مِنْ ھٰذَا الْفَجِّ، وَ تَصْدُرُ مِنْ ھٰذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ فَعَقَرُوْھَا، فَکَانَتْ تَشْرَبُ مَائَ ھُمْ یَوْمًا وَ یَشْرَبُوْنَ لَبَنَھَا یَوْمًا فَعَقَرُوْھَا فَاَخَذَتْھُمْ صَیْحَۃٌ، اَھْمَدَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ تَحْتِ اَدِیْمِ السَّمَائِ مِنْھُمْ اِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا کَانَ فِیْ حَرَمِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) قِیْلَ: مَنْ ھُوَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَبُوْ رِغَالٍ فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ اَصَابَہُ مَا اَصَابَ قَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران قومِ ثمود کے شہر) حجر کے پاس سے گزرے تو فرمایا: معجزات کی طرح کی نشانیوں کا مطالبہ نہ کیا کرو، صالح علیہ السلام کی قوم نے ان کے بارے میں سوال کیا تھا، (پس اونٹنی کی صورت میں ان کا یہ مطالبہ پورا کیا گیا)، وہ ایک راستے سے آتی تھی اور دوسرے راستے سے نکل جاتی تھی، لیکن انھوں نے سرکشی کی اور اس کی کونچیں کاٹ دیں، وہ ایک دن میں ان کا پانی پی جاتی تھی اور وہ ایک دن میں اس کا دودھ پیتے تھے، لیکن انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، اس وجہ سے ایک چیخ ان پر چھا گئی اور اللہ تعالیٰ نے آسمانی کی نچلی سطح کے نیچے والے ان سب کو ہلاک کر دیا، صرف ایک آدمی بچا، وہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا۔ کسی نے کہا: وہ آدمی کون تھا؟ اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ابو رغال تھا، جب حرم سے نکلا تو وہ اسی مصیبت میں مبتلاہو گیا، جس میں اس کی قوم مبتلا ہوئی تھی۔

10330

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10330

Sahih

۔ (۱۰۳۳۰)۔ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اَنَا وَ عَلِیٌّ رَفِیْقَیْنِ فِیْ غَزْوَۃِ ذَاتِ الْعَشِیْرَۃِ فَذَکَرَ قِصَّۃً، وَ ذَکَرَ اَنَّھُمَا نَامَا عَلَی التُّرَابِ، قَالَ: فَیَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَلِیٍّ: ((یَا اَبَا تُرَابٍ!)) لِمَا یَرٰی عَلَیْہِ مِنَ التُّرَابِ، قَالَ: ((اَلَا اُحَدِّثُکُمَا بِاَشْقَی النَاسِ رَجُلَیْنِ ؟)) قَالَ: قُلْنَا: بَلیٰ،یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اُحَیْمِرُ ثَمُوْدَ الَّذِیْ عَقَرَ النَّاقَۃَ وَالَّذِیْیَضْرِبُکَیَا عَلَیُّ! عَلٰی ھٰذِہِ (یَعْنِیْ قَرْنَہُ) حَتّٰی تُبَلَّ مِنْہُ ھٰذِہِ (یَعْنِیْ لِحْیَتَـہُ)۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غزوۂ ذت العشیرہ میں رفیق تھے، پھر انھوں نے ایک قصہ بیان کیا، اس میں یہ ذکر بھی تھا کہ وہ دونوں مٹی پر سو گئے، اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اے ابو تراب کی کنیت سے پکارا، کیونکہ ان کے وجود پر مٹی نظر آ رہی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔

10331

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10331

Sahih

۔ (۱۰۳۳۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ النَّاقَۃَ وَ ذَکَرَ الَّذِیْ عَقَرَھَا فَقَالَ: {اِذِ انْبَعَثَ اَشْقَاھَا …} اِنْبَعَثَ رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِیْزٌ مَنِیعٌ فِیْ رَھْطِہِ مِثْلُ ابْنِ زَمْعَۃَ۔)) ثُمَّ ذَکَرَ النَّسَائَ فَوَعَظَھُمْ فِیْھِنَّ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطاب کیا اور اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا ذکر کیا اور فرمایا: جب اس قوم کا بدبخت شخص اٹھا، … ایک خبیث، شریر، سردار اور اپنی قوم کا مطاع کھڑا ہوا، جیسے ابن زمعہ ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کا ذکر کیا اور ان کے متعلق مردوں کو وعظ و نصیحت کی …۔

10332

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10332

Zaeef

۔ (۱۰۳۳۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَادِیْ عُسْفَانَ حِیْنَ حَجَّ قَالَ: ((یَا اَبَا بَکْرٍ! اَیُّ وَادٍ ھٰذَا؟)) قَالَ: وَادِیْ عُسْفَانَ، قَالَ: ((لَقَدْ مَرَّ بِہٖھُوْدٌوَصَالِحٌعَلٰی بَکَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُھَا اللِّیْفُ، اُزُرُھُمُ الْعَبَائُ، وَاَرْدِیَتُھُمُ النِّمَارُ، یُلَبُّوْنَیَحُجُّوْنَ الْبَیْتَ الْعَتِیْقَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفرِ حج میں وادیٔ عسفان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے ابو بکر! یہ وادی کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: وادیٔ عسفان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام اس وادی کے پاس سے گزرے، وہ سرخ اونٹوں پر سوار تھے، ان کی لگامیں کھجور کے پتوں کی تھیں،ان کے ازار اوڑھنے والی چادر کے تھے، ان کی چادریں دھاری دار تھیں اور وہ اس پرانے گھر کا حج کرنے کے لیے تلبیہ پکارتے ہوئے جا رہے تھے۔