Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2012

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان

3 hadiths in this chapter

10322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10322

Sahih

۔ (۱۰۳۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُدْعٰی نُوْحٌ علیہ السلام یَوْمَ الْقَیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہُ: ھَلْ بَلَّغْتَ؟ فَیَقُوْلُ : نَعَمْ، فَیُدْعٰی قَوْمُہُ، فَیُقَالُ لَھُمْ: ھَلْ بَلَّغَکُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: مَا اَتَانَا مِنْ نَذِیْرٍ اَوْ مَا اَتَانَا مِنْ اَحَدٍ، قَالَ: فَیُقَالُ لِنُوْحٍ: مَنْ یَشْھَدُ َلکَ فَیَقُوْلُ : مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُمَّتُہُ قَالَ: فَذٰلِکَ قَوْلَہُ تَعَالٰی: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَسَطًا} قَالَ: اَلْوَسَطُ اَلْعَدْلُ قَالَ: فَیُدْعَوْنَ فَیَشْھَدُوْنَ لَہُ بِالْبَلَاغِ قَالَ: ثُمَّ اَشْھَدُ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کو قیامت والے دن بلا کر ان سے کہا جائے گا: کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا،یا ہمارے پاس کوئی بھی ایسا آدمی نہیں آیا، پس نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: کون تمہارے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: اور اسی طرح ہم نے تم کو امت ِ وسط بنایا ہے۔ وسط کا معنی انصاف کرنے والے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کو بلایا جائے گا، سو وہ نوح علیہ السلام کے حق میں پیغام پہنچا دینے کی شہادت دیں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر میں تم پر گواہی دوں گا۔

10323

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10323

Sahih

۔ (۱۰۳۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفَوْعًا: ((اِنَّ اَھْلَ الْمَوْقِفِ یَاْتُوْنَ نُوْحًا فَیَقُوْلُوْنَ: یَانُوْحُ! اَنْتَ اَوَّلُ الرُّسُلِ اِلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ وَسَمَّاکَ اللّٰہُ عَبْدًا شَکُوْرًا، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّکَ، اَلَا تَرٰی مَا نَحْنُ فِیْہِ، اِلَا تَرٰی مَا قَدْ بَلَغَنَا؟ فَیَقُوْلُ نُوْحٌ: اِنَّ رَبِّیْ قَدْ غَضِبَ الْیَوْمَ غَضْبًا لَمْ یَغْضَبْ قَبْلَہُ مِثْلَہُ، وَلَنْ یَغْضَبَ بَعْدَہُ مِثْلَہُ، وَاِنَّہُ کَانَتْ لِیْ دَعْوَۃٌ عَلٰی قَوْمِیْ، نَفْسِیْ نَفْسِیْ نَفْسِیْ، اذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میدان حشر والے لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آ کر کہیں گے: اے نوح! آپ اہل زمین کی طرف پہلے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت شکر گزار بندہ کہا ہے، پس اپنے ربّ کے ہاں ہمارے لیے سفارش تو کر دو، کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس حالت میں ہیں، کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ ہم کس تکلیف میں مبتلا ہیں؟ نوح علیہ السلام کہیں گے: بیشک میرا ربّ آج اتنے غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے اتنے غصے میں آیا تھا اور نہ بعد میں اتنا غصے میں آئے گا، مجھے ایک دعا کا حق تھا، لیکن وہ میں نے اپنی قوم پر پورا کر لیا، ہائے میری جان، میری جان، میری جان، جاؤ تم چلے جاؤ کسی اور کے پاس۔

10324

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10324

Sahih

۔ (۱۰۳۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فِیْ حَدِیْثِ الشّفَاعَۃِ اَیْضًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ (یَعْنِیْ نُوْحًا): اِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ اِنِّیْ دَعَوْتُ بِدَعْوَۃٍ اَغْرَقَتْ اَھْلَ الْاَرْضِ وَاِنَّہُ لَا یُھِمُّنِی الْیَوْمَ اِلَّا نَفْسِیْ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما شفاعت والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس نوح علیہ السلام کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا کر لی، جس کی وجہ سے اہل زمین غرق ہو گئے تھے، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔