Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 167 · Chapter 2009

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب

آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان

1 hadith in this chapter

10316

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10316

Zaeef

۔ (۱۰۳۱۶)۔ عَنْ عُتَيٍّ، قَالَ: رَاَیْتُ شَیْخًا بِالْمَدِیْنَۃِیَتَکَلَّمُ فَسَاَلْتُ عَنْہُ، فَقَالُوْا: ھٰذَا اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اِنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِیْہِ: اَیْ بَنِیَّ! اِنِّیْ اَشْتَھِی مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ فَذَھَبُوْا یَطْلُبُوْنَ لَہُ فَاسْتَقْبَلَتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَ مَعَھُمْ اَکْفَانُہُ وَحُنُوْطُہُ وَ مَعَھُمُ الْفُؤْسُ وَالْمَسَاحِیْ وَالْمَکَاتِلُ فَقَالُوْا لَھُمُ:یَا بَنِیْ آدَمَ! مَا تُرِیْدُوْنَ وَمَا تَطْلُبُوْنَ اَوْ مَا تُرِیْدُوْنَ وَاَیْنَ تَذْھَبُوْنَ؟ قَالُوْا: اَبُوْنَا مَرِیْضٌ قَالُوْا: فَاشْتَھٰی مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ، قَالُوْا لَھُمْ : ارْجِعُوْا فَقَدْ قُضِیَ قَضَائُ اَبِیْکُمْ فَجَاؤْا فَلَمَّا رَاَتْھُمْ حَوَّائُ عَرَفَتْھُمْ فَلَاذَتْ بِآدَمَ فَقَالَ: اِلَیْکِ عَنِّیْ فَاِنِّیْ اِنّمَا اُوْتِیْتُ مِنْ قِبَلِکِ خَلِّیْبَیْنِیْ وَ بَیْنَ مَلَائِکَۃِ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَقَبَضُوْہُ وَغَسَّلُوْہُ وَکَفَّنُوْہُ وَحَنَّطُوْہُ، وَحَفَرُوْا لَہُ وَاَلْحَدُوْا لَہُ وَصَلَّوْا عَلَیْہِ، ثُمَّ دَخَلُوْا قَبْرَہُ فَوَضَعُوْہُ فِیْ قَبْرِہِ وَ وَضَعُوْا عَلَیْہِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوْا مِنَ الْقَبَرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَیْہِ التُّرَابَ ثُمَّ قَالُوْا : یَابَنِیْ آدَمَ ھٰذِہِ سُنَّتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عُتَیّ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ دیکھا اور جب اس کے بارے پوچھا تو لوگوں نے کہا: یہ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، انھوں نے کہا: بیشک جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا توا نھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں جنت کے پھل چاہتا ہوں، پس وہ یہ پھل تلاش کرنے کے لیے نکل پڑے، آگے سے ان کو فرشتے ملے، ان کے پاس کفن، حنوط خوشبو، کلہاڑے، بیلچے اور ٹوکرے تھے، انھوں نے اِن سے پوچھا: اے بنو آدم! تمہارا کیا ارادہ ہے، تم کون سی چیز تلاش کر رہے ہو اور تم کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہمارے ابو جان بیمار ہیں اور جنت کے پھل کھانا چاہتے ہیں، ان فرشتوں نے کہا: چلو واپس چلو، تمہارے باپ کی وفات کا وقت آ چکا ہے، پس جب وہ پہنچے اور سیدہ حوائ ‌رحمۃ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے ان کو پہنچان لیا تو وہ آدم علیہ السلام کے ساتھ چمٹ گئیں، لیکن آدم علیہ السلام نے کہا: پرے ہٹ جا، پہلے بھی تیری وجہ سے مجھے مصیبت میں مبتلا کیا گیا، ہٹ جا میرے اور میرے ربّ کے فرشتوں کے درمیان سے، پس انھوں نے ان کی روح قبض کی، ان کو غسل دیا، تکفین کی، خوشبو لگائی، پھر گڑھا کھودا اور لحد بنائی اور ان کی نماز جنازہ ادا کی، پھر وہ قبر میں داخل ہوئے اور ان کو قبر میں رکھ کر کچی اینٹیں لگائیں، پھر وہ قبر سے باہر آ گئے اور ان پر مٹی ڈال دی اور کہا: آدم کے بیٹو! یہ تمہارا طریقہ ہے۔