Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 167 · Chapter 2005

کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب

جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان

2 hadiths in this chapter

10305

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10305

Zaeef

۔ (۱۰۳۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ یَھُوْدِیٌّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُحَدِّثُ اَصْحَابَہُ، فَقَالَتْ قُرَیْشٌ : یَایَھُوْدِیُّ! اِنَّ ھٰذَا یَزْعَمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ، فَقَالَ: لَاَسْاَلَنَّہُ عَنْ شَیْئٍ لَا یَعْلَمُہُ اِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ ثُمَّ قَالَ: یَامُحَمَّدُ! مِمَّ یُخْلَقُ الْاِنْسَانُ؟ قَالَ: ((یَایَھُوْدِیُّ! مِنْ کُلٍّ یُخْلَقُ، مِنْ نُطْفَۃِ الرَّجُلِ وَمِنْ نُطْفَۃِ الْمَرْاَۃِ، فَاَمَّا نُطْفَۃُ الرَّجُلِ فَنُطْفَۃٌ غَلِیْظَۃٌ مِنْھَا الْعَظَمُ، وَالْعَصَبُ، وَاَمَّا نُطْفَۃُ الْمَرْاَۃِ فَنُطْفَۃٌ رَقِیْقَۃٌ مِنْھَا اللَّحْمُ، وَالدَّمُ۔)) فَقَامَ الْیَھُوْدِیُّ فَقَالَ: ھٰکَذَا کَانَ یَقُوْلُ مَنْ قَبْلَکَ۔ (مسند احمد: ۴۴۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایکیہودی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کو احادیث بیان کر رہے تھے، قریشیوں نے یہودی سے کہا: اے یہودی! یہ آدمی اپنے آپ کو نبی خیال کرتا ہے، اس نے کہا: میں اس سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہوں کہ اس کو جاننے والا صرف نبی ہوتا ہے ، پس وہ آیا اور بیٹھ گیا، پھر اس نے کہا: اے محمد! انسان کو کس چیز سے پیدا کیا جاتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہودی! مرد و زن میں سے ہر ایک سے انسان کو پیدا کیا جاتا ہے، مرد کے نطفے سے بھی اور عورت کے نطفے سے بھی، مرد کا نطفہ گاڑھا ہوتا ہے، اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ پتلا ہوتا ہے، اس سے گوشت اور خون بنایا جاتا ہے۔ یہودی نے کہا: آپ سے پہلے والے لوگ بھی اسی طرح کہتے تھے۔

10306

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10306

Zaeef

۔ (۱۰۳۰۶)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ النُّطْفَۃَ تَکُوْنُ فِیْ الرَّحِمِ اَرْبَعِیْنَیَوْمًا عَلٰی حَالِھَا لَا تَغَیَّرُ، فَاِذَا مَضَتِ الْاَرْبَعُوْنَ صَارَتْ عَلَقَۃً، ثُمَّ مُضْغَۃً کَذٰلِکَ، ثُمَّ عِظَامًا کَذٰلِکَ، فاِذَا اَرَادَ اللّٰہُ اَنْ یُسَوِّیَ خَلْقَہُ بَعَثَ اِلَیْھَا مَلَکًا، فَیَقُوْلُ الْمَلَکُ الَّذِیْیَلِیْہِ: اَیْ رَبِّ! اَذَکَرٌ اَمْ اُنْثٰی؟ اَشَقِیٌّ اَمْ سَعِیْدٌ؟ اَقَصِیْرٌ اَمْ طَوِیْلٌ؟ اَ نَاقِصٌ اَمْ زَائِدٌ؟ قُوْتُہُ وَاَجَلُہُ، اَ صَحِیْحٌ اَمْ سَقِیْمٌ؟ قَالَ: فَیُکْتَبُ ذٰلِکَ کُلُّہُ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَفِیْمَ الْعَمَلُ اِذًا وَقَدْ فَزِعَ مِنْ ھٰذَا کُلِّہِ؟ قَالَ: ((اِعْمَلُوْا فَکُلٌّ سَیُوَجَّہُ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۵۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بشیک نطفہ چالیس ایام تک اپنی حالت پر رہتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جب چالیس دن گزر جاتے ہیں تو وہ جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، پھر چالیس دنوں کے بعد گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے، پھر چالیس دنوں کے بعد ہڈیاں بنتی ہیں، پس جب اللہ تعالیٰ اس کی تخلیق کو برابر کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اس کام کو سنبھالنے والا فرشتہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! یہ مذکر ہے یا مؤنث؟ خوش بخت ہے یا بد بخت؟ کوتاہ قد ہے یا دراز قد؟ ناقص الخلقت ہے یا زائد الخلقت؟ نیز اس کی روزی اور موت؟ اور یہ تندرست ہے یا بیمار؟ پس یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اگر اس سارے معاملے سے فارغ ہوا جا چکا ہے تو پھر عمل کا کیا تک ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عمل کرو، پس جس شخص کو جس چیز کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس کو اس کی طرف متوجہ کر دیا جائے گا۔