Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 166 · Chapter 1987

توبہ کی کتاب

اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے

5 hadiths in this chapter

10191

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10191

Sahih

۔ (۱۰۱۹۱)۔ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: بَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: (( لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِائَۃُ رَحْمَۃٍ، وَاِنَّہُ قَسَمَ رَحْمَۃً وَاحِدَۃً بَیْنَ اَھْلِ الْاَرْضِ فَوَسِعَتْھُمْ اِلٰی آجَالِھِمْ، وَذَخَرَ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ رَحْمَۃً لِاَوْلِیَائِہِ، وَاللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قَابِضٌ تِلْکَ الرَّحْمَۃَ الَّتِیْ قَسَمَھَا بَیْنَ اَھْلَ الْاَرْضِ اِلَی التِّسْعَۃِ وَّالتِسْعِیْنَ فَیُکَمِّلُھَا مِائَۃَ رَحْمَۃٍ لِاَوْلِیَائِہیَوْمَ الْقِیَامَۃِ )) قَالَ مُحَمَّدٌ: فِیْ حَدِیْثِہِ وَحَدَّثَنِیْ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ مُحَمَّدُ بْنُ سِیْرِیْنَ وَخِلَاسٌ کِلَاھُمَا، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حسن بصری کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ایک رحمت کو اہل زمین کے مابین تقسیم کیا، وہ ان کے لیے ان کی موتوں تک پوری ہو گئی، اور ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء کے لیے ذخیرہ کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس رحمت کو زمین والوںمیں تقسیم کیا ہے، وہ قیامت کے دن اس کو بھی واپس کر کے ننانوے کے ساتھ ملا کر سو پورا کر دے گا۔ محمد بن سیرین اور خلاس نے اس حدیث کو سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرفوعا بیان کیا ہے۔

10192

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10192

Zaeef

۔ (۱۰۱۹۲)۔ عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِیِّ ، قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌ فَاَنَاخَ رَاحِتَلَہُ ثُمَّ عَقَلَھَا، ثُمَّ صَلّٰی خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتٰی رَاحِلَتَہَ فَاَطْلَقَ عِقَالَھَا ثُمَّ رَکِبِھَا ثُمَّ نَادٰی: اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِیْ وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِکْ فِیْ رَحْمَتِـنَا اَحَدًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَتَقُوْلُوْنَ ھٰذَا اَضَلُّ اَمْ بَعِیْرُہُ؟ اَلَمْ تَسْمَعُوْا مَاقَالَ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: ((لَقَدْ حَظَرْتَ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ، اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ مِائَۃَ رَحْمَۃً فَاَنْزَلَ اللّٰہُ رَحْمَۃً وَاحِدَۃًیَتَعَاطَفُ بِھَا الْخَلَائِقُ جِنُّھَا وَاِنْسُھَا وَبَھَائِمُھَا، وَعِنْدَہُ تِسْعٌ وَتِسْعُوْنَ، اَتَقُوْلُوْنَ ھُوَ اَضَلُّ اَمْ بَعِیْرُہُ؟)) (مسند احمد: ۱۹۰۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جندب بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو آیا، اپنے اونٹ کو بٹھا کر اس کے گھٹنے کو باندھا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو وہ اپنے سواری کے پاس آیا، اس کی رسی کھولی اور اس پر سوار ہوا اور کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) پر رحم فرما اور اپنی رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی یہ دعا سن کر فرمایا: کیا تم یہ کہو گے کہ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم لوگوں نے اس کی کہی ہوئی بات سنی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تنگ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع چیز ہے، بیشک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت نازل کی ہے، اسی کی وجہ سے جنوں، انسان اور جانوروں سمیت تمام مخلوقات ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ننانوے رحمتیں اس کے پاس محفوظ ہیں، اب کیا تم کہو گے کہ وہ خود زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ؟

10193

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10193

Sahih

۔ (۱۰۱۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (( لِلّٰہِ مِائَۃُ رَحْمَۃٍ اَنْزَلَ مِنْھَا رَحْمَۃً وَّاحِدَۃً بَیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ وَالْھَوَامِّ، فِیْھَایَتَعَاطَفُوْنَ، وَبِھَا یَتَرَاحَمُوْنَ، وَبِھَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلٰی اَوْلَادِھَا، وَاَخَّرَتِسْعَۃً وَّتِسْعِیْنَ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ یَرْحَمُ بِھَا عِبَادَہُ۔)) (مسند احمد: ۹۶۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ان میں ایک رحمت انسانوں، جنوں اور کیڑوں مکوڑوں کے درمیان نازل کی ہے، اس کی وجہ وہ ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اسی کے اثر سے وحشی جانور اپنے بچوں پر مہربانی کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتوں کو قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔

10194

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10194

Sahih

۔ (۱۰۱۹۴)۔ عَنْ سَلْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ مِائَۃَ رَحْمَۃٍ فَمِنْھَا رَحْمَۃٌیَتَرَاحَمُ بِھَا الْخَلْقُ، فِبْھَا تَعْطِفُ الْوُحُوْشُ عَلٰی اَوْلَادِھَا، وَاَخَّرَ تِسْعَۃً وَّتِسْعِیْنَ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں ایک رحمت کا اثر ہے کہ مخلوقات ایک دوسرے سے محبت رکھتی ہیں، وحشی جانور اسی رحمت کی وجہ سے اپنی اولاد سے شفقت کرتے ہیں اور اس نے ننانوے رحمتیں قیامت کے دن تک مؤخر کر دی ہیں۔

10195

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10195

Sahih

۔ (۱۰۱۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ یَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الْعُقُوْبَۃِ مَاطَمَعَ فِیْ الْجَنَّۃِ اَحَدٌ، وَلَوْ یَعْلَمُ الْکَافِرُ مَا عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رَحْمَۃٍ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنّۃِ اَحَدٌ، خَلَقَ اللّٰہُ مِائَۃَ رَحْمَۃٍ فَوَضَعَ رَحْمَۃً وَاحِدَۃً بَیْنَ خَلْقِہِ یَتَرَاحَمُوْنَ بِھَا، وَعِنْدَ اللّٰہِ تِسْعَۃٌ وَّتِسْعُوْنَ رَحْمَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مؤمن کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت کی طمع نہیں رکھے گا اور اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت اپنی مخلوق کے اندر نازل کی ہے، اسی کی وجہ سے یہ ایک دوسرے پر رحیم ہے اور ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہیں۔