Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 166 · Chapter 1983

توبہ کی کتاب

توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے

7 hadiths in this chapter

10173

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10173

Sahih

۔ (۱۰۱۷۳)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْیَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الثَّقَفِیِّ، عَنْ عَلَیِّ بْنِ رَبِیْعَۃَ الْوَالِیْ، عَنْ اَسْمَائَ بْنِ الْحَـکَمِ الْفَزَارِیِّ، عَنْ عَلَیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا نَفَعَنِی اللّٰہُ بِمَا شَائَ مِنْہُ، وَاِذَا حَدَّثَنِیْ عَنْہُ غَیْرِیْ اسْتَحْلَفْتُہُ فَاِذَا حَلَفَ لِیْ صَدَّقْتُہُ، وَاِنَّ اَبَا بَکْرٍ حَدَّثَنِیْ وَصَدَقَ اَبُوْ بَکْرٍ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یُذْنِبُ ذَنْبًا، فَیَتَوَضَّاُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوْئَ۔)) قَالَ مِسْعَرٌ: ((وَیُصَلِّیْ۔)) وَقَالَ سُفْیَانُ: ((ثُمَّ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ فَیَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ،اِلَّا غَفَرَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی حدیث سنتا تھا، تو اللہ تعالیٰ مجھے اس سے نفع عطا کرتا، جتنا وہ چاہتا، لیکن جب کوئی اور آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا، اگر وہ قسم اٹھاتا تو میں اس کی تصدیق کرتا اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا اور ابو بکر سچے ہیں، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی گناہ کرتا ہے، پھر اچھے انداز میں وضو کرکے دو رکعت نماز ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتاہے۔

10174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10174

Sahih

۔ (۱۰۱۷۴)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ عَلَیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثًا فَذَکَرَ نَحْوَہَ وَفِیْہِ ((ثُمَّ یَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ تَعَالٰی لِذٰلِکَ الذَّنْبِ اِلَّا غَفَرَ لَہُ، وَقَرَاَ ھَاتَیْنِ الْآیَتَیْنِ {وَمَنْ یَعْمَلْ سُوْئً اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَحِیْمًا} {وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ} الآیۃ (مسند احمد: ۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنتا، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ تفصیل ہے: پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش طلب کرتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے، پھر یہ دو آیتیں تلاوت کیں: {وَمَنْ یَعْمَلْ سُوْئً اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَحِیْمًا} اور جو آدمی برائی کرتا ہے یا اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتا ہے۔ اور {وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ } اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں،یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔

10175

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10175

Sahih

۔ (۱۰۱۷۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعْقَلِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ اَبِیْ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فَقَالَ: اَنْتَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((النَّدَمُ تَوْبَۃٌ؟)) قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ مَرَّۃً : سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : ((النَّدَمُ تَوْبَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۳۵۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن معقل کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، انھوں نے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ندامت توبہ ہے۔؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

10176

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10176

Sahih

۔ (۱۰۱۷۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَفَّارَۃُ الذَّنْبِ النَّدَامَۃُ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ لَمْ تُذْنِبُوْا لَجَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِقَوْمٍ یُذْنِبُوْنَ لِیَغْفِرَ لَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گناہ کا کفارہ ندامت ہے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا، جو گناہ کرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بخشے گا۔

10177

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10177

Zaeef

۔ (۱۰۱۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلتَّوْبَۃُ مِنَ الذَّنْبِ اَنْ یَّتُوْبَ مِنْہُ ثُمَّ لَا یَعُوْدَ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی گناہ سے توبہ کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اس سے توبہ کرے اور پھر اس کا ارتکاب نہ کرے۔

10178

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10178

Sahih

۔ (۱۰۱۷۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاعَائِشَۃُ! اِنْ کُنْتِ الْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِیْ اللّٰہَ، فَاِنَّ التَّوْبَۃَ مِنَ الذَّنْبِ النَّدَمُ وَالْاِسْتِغْفَارُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تم سے گناہ ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو، پس بیشک گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہے۔

10179

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10179

Sahih

۔ (۱۰۱۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ مَظْلَمَۃٌ مِنْ اَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہِ، اَوْ مَالِہِ، فَلْیَتَحَلَّلْہُ الْیَوْمَ قَبْلَ اَنْ یُؤْخَذَ حِیْنَ لَا یَکُوْنُ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْھَمٌ، وَاِنْ کَانَ لَہُ عَمَلٌ صَالِحٌ اُخِذَ مِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِہِ، وَاِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ، اُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہٖفَجُعِلَتْعَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت یا مال (کے معاملے میں) ناانصافی کی ہو، وہ آج اس کے پاس جا کر اس سے معذرت کر لے، قبل اس کے کہ (وہ دن آ جائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اُس کے ظلم کے بقدر اس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اُس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (اس کے مظلوم) لوگوں کی برائیاں اُس پر ڈال دی جائیں گی۔