Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 164 · Chapter 1957

زبان کی آفتوں کے مسائل

چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان

6 hadiths in this chapter

10009

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10009

Sahih

۔ (۱۰۰۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا یَبِیْعُ اَحَدُکُمْ عَلٰی بَیِعِْ اَخِیْہِ وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا۔)) (مسند احمد: ۷۷۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بیع نجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔

10010

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10010

Sahih

۔ (۱۰۰۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا یَبِیْعُ اَحَدُکُمْ عَلٰی بَیِعِْ اَخِیْہِ وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا۔)) (مسند احمد: ۷۷۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔

10011

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10011

Sahih

۔ (۱۰۰۱۱)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی النِّسَائِ حِیْنَ بَایَعَھُنَّ اَنْ لَا یَنُحْنَ، فَقُلْنَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ نِسَائً اَسْعَدْنَنَا فِیْ الْجَاھِلیَّۃِ اَفَنُسْعِدُھُنَّ فِی الْاِسْلَامِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اِسْعَادَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا شِغَارَ، وَلَا عَقْرَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا جَلَبَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا جَنَبَ، وَمَنِ انْتَھَبَ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ان سے یہ معاہدہ لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، کچھ خواتین نے کہا: اے اللہ کے رسول! بعض خواتین نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں ہماری مدد کی تھی، کیا ہم اسلام میں ان کی مدد کر سکتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں نہ ایسی مدد ہے، نہ شغار ہے، نہ عَقْر ہے، نہ جلب ہے اور نہ جنب ہے اور جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

10012

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10012

Sahih

۔ (۱۰۰۱۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَنْھٰی عَنْ صِیَامِیَوْمَیْنِ، وَعَنْ صَلَاتَیْنِ، وَعَنْ نِکَاحَیْنِ، سَمِعْتُہُ یَنْھٰی عَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرِبَ الشَّمْسُ، وَعَنْ صِیَامِیَوْمِ الْفِطْرِ وَالْاَضْحٰی، وَاَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْمَرْاَۃِ وَخَالَتِھَا، وَبَیْنَ الْمَرْاَۃِ وَعَمَّتِھَا۔ (مسند احمد: ۱۱۶۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو دنوں کے روزے سے، دو نمازوں سے اور دو قسم کے نکاحوں سے منع فرمایا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عید الفطر اور عید الاضحی کے روزوں سے اور بھانجی اور اس کی خالہ کو اور بھتیجی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔

10013

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10013

Sahih

۔ (۱۰۰۱۳)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: ثَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ زَاذَانَ اَبِیْ عُمَرَ، عَنْ عُلَیْمٍ، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عَلَی سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَزِیْدُ: لَا اَعْلَمُہُ اِلَّا عَبْسًا الْغَفَّارِیُّ، وَالنَّاسُ یَخْرُجُوْنَ فِیْ الطَّاعُوْنِ، فَقَالَ عَبْسٌ: یَاطَاعُوْنُ! خُذْنِیْ، ثَلَاثًایَقُوْلُھا، فَقَالَ لَہُ عُلَیْمٌ: لِمَ تَقُوْلُ ھٰذَا؟ اَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَتَمَنّٰی اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ فَاِنَّہُ عِنْدَ اِنْقِطَاعِ عَمِلِہِ، وَلَا یُرَدُّ فَیَسْتَعْتِبُ۔)) فَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَادِرُوْا بِالْمَوْتِ سِتًّا، اِمْرَۃَ السُّفَھَائِ، وَکَـثْرَۃَ الشُّرَطِ، وَبَیْعَ الْحُـکْمِ، وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ، وَقَطِیْعَۃَ الرَّحِمِ، وَنَشْوًا یَتَّـخِذُوْنَ الْقُرْآنَ مَزَامِیْرَ یُقَدِّمُوْنَہُ یُغَنِّیْھِمْ وَاِنْ کَانَ اَقَلَّ مِنْھُمْ فِقْھًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ علیم کہتے ہیں: ہم ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک صحابی بھی ہمارے پاس موجود تھے، یزید راوی کہتے ہیں: میرا خیال یہی ہے کہ وہ سیدنا عبس غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، اس وقت لوگ طاعون میں نکل رہے تھے، اتنے میں عبس نے تین بار کہا: اے طاعون! مجھے پکڑ لے، عُلَیم نے کہا: تم یہ دعا کیوں کرتے ہو؟ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اس وقت اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں اور نہ اس کو واپس لوٹایا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکے۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: چھ چیزوں سے پہلے پہلے مر جاؤ، بیوقوفوں کی حکومت ، پولیس کی کثرت، انصاف کے بکنے، خون کے کم قیمت ہو جانے اور قطع رحمی سے پہلے اور قبل اس کے کہ لوگ قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر کیف و سرور میں آئیں اور کسی آدمی کو صرف اس لیے (امامت کے لیے) آگے کریں کہ وہ گاگا کر تلاوت کرتا ہے، اگرچہ وہ ان میں سب سے کم فہم و فقہ والا ہو۔

10014

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10014

Sahih

۔ (۱۰۰۱۴)۔ عَنْ شَدَّادٍ اَبِیْ عَمَّارٍ الشَّامِیِّ، قَالَ: قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ: یَاطَاعُوْنُ! خُذْنِیْ اِلَیْکَ، قَالَ: فَقَالُوْا: اَلَیْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا عُمِّرَ الْمُسْلِمُ کَانَ خَیْرًا لَہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یَزِیْدُہُ طُوْلُ الْعُمَرِ اِلَّا خَیْرًا) قَالَ: بَلٰی وَلٰکِنِّی اَخَافُ سِتًّا، اِمَارَۃَ السُّفَھَائِ، وَبَیْعَ الْحُـکْمِ، وَکَثْرَۃَ الشُّرَطِ، وقَطِیْعَۃَ الرَّحِمِ، وَنَشَاً یَنْشَؤُوْنَیَتَّخِذُوْنَ الْقُرْآنَ مَزَامِیْرَ، وَسَفْکَ الدَّمِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ شداد بن ابی عمار شامی سے مروی ہے کہ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف کھینچ لے، لوگوں نے کہا: تم یہ کیوں کہتے ہو جبکہ تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مؤمن کو زیادہ عمر ملتی ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، میں نے یہ حدیث سنی ہے، لیکن میں چھ چیزوں سے ڈرتا ہوں: بیوقوفوں کی حکومت، انصاف کے فروخت ہونے، پولیس کی کثرت، قطع رحمی اور لوگوں کا قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر مزے لینا اور قتل۔