Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 164 · Chapter 1954

زبان کی آفتوں کے مسائل

چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان

6 hadiths in this chapter

9995

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9995

Sahih

۔ (۹۹۹۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا، اَوْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ الْاَرْبَعِ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتّٰییَدَعَھَا، اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ، واِذَا عَاھَدَ غَدَرَ، واِذَا خَاصَمَ فَجَرَ۔)) (مسند احمد: ۶۸۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ منافق ہو گا اور جس میں ان چار میں سے ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ کر جائے اور جب جھگڑا کرے تو گالی نکالے۔

9996

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9996

Sahih

۔ (۹۹۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ اَمْرِ الْجَاھِلیَّۃِ لَنْیَّدَعَھُنَّ النَّاسُ، التَّعْیِیْرُ فِیْ الْاَحْسَابِ، وَالنِّیَاحَۃُ عَلَی الْمَیِّتِ، وَالْاَنْوَائُ، وَاَجْرَبَ بَعِیْرٌ فَاَجْرَبَ مِائَۃً، مَنْ اَجْرَبَ الْبَعِیْرَ الْاَوَّلَ؟)) (مسند احمد: ۷۸۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار چیزیں ، امورِ جاہلیت میں سے ہیں، لوگ ان کو بالکل نہیں چھوڑیں گے: (۱) حسب پر طعن کرنا، (۲) میت پر نوحہ کرنا، (۳) ستاروں کا معاملہ اور (۴) یہ کہنا کہ ایک اونٹ کو خارش لگی، پس اس نے سب کو خارش لگا دی،یہ تو بتاؤ کہ پہلے کو کس نے خارش لگائی؟

9997

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9997

Zaeef

۔ (۹۹۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْقُلُوْبُ اَرْبَعَۃٌ، قَلْبٌ اَجْرَدُ فِیْہِ مِثْلُ السِّرَاجِ یُزْھِرُ، وَقَلْبٌ اَغْلَفُ مَرْبُوْطٌ عَلٰی غِلَافِہِ، وَقَلْبٌ مَنْکُوْسٌ، وَقَلْبٌ مُصْفَحٌ، فَاَمَّا الْقَلْبُ الْاَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ سِرَاجُہُ فِیْہِ نُوْرُہُ، وَاَمَّا الْقَلْبُ الْاَغْلَفُ فَقَلْبُ الْــکَافِرِ، وَاَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْـکُوْسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ اَنْـکَرَ، وَامَّا الْقَلْبُ الْمُصْفَحُ فَقَلْبٌ فِیْہِ اِیْمَانٌ وَنِفَاقٌ، فَمَثَلُ الْاِیْمَانِ فِیْہِ کَمَثَلِ الْبَقْلَۃِیَمُدُّھَا الْمَائُ الطَّیِّبُ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِیْہِ کَمَثَلِ الْقُرْحَۃِیَمُدُّھَا الْقَیْــحُ وَالدَّمُ، فَاَیُّ الْمَدَّتَیـْنِ غَلَبَتِ الْاُخْرٰی غَلَبَتْ عَلَیْہِ ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دل چار قسم کے ہوتے ہیں: (۱) خالص اور صاف دل، جو چراغ کی طرح روشن ہوتا ہے، (۲) پردے میں بند دل، جس سے پردہ ہٹ ہی نہیں سکتا، (۳) الٹا کیا ہوا دل اور (۴)دو رُخا دل۔ ان کی تفصیل یہ ہے: صاف دل سے مراد مومن کا دل ہے، اس کا چراغ اس کا نور ہے، پردے میں بند دل کافر کا ہوتا ہے، الٹا ہوا دل اس منافق کا ہوتا ہے، جو حق کی معرفت حاصل کرنے کے بعد اس کا انکار کر دیتا ہے اور دو رُخا دل وہ ہوتا ہے، جس کے اندر ایمان بھی ہو اور نفاق بھی، اس میں ایمان کی مثال سبزی کیسی ہے کہ پاکیزہ پانی جس کو بڑھاتا ہے اور نفاق کی مثال اس پھوڑے کی سی ہے کہ جو پیپ اور خون کی وجہ سے بڑھتاہے، ان دو میں سے جس کی بڑھوتری غالب آ جاتی ہے، سو وہ غالب رہتی ہے۔

9998

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9998

Sahih

۔ (۹۹۹۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَرْبَعًا فَاَعْجَبْتَنِیْ وَاَیْنَقْنَنِیْ، قَالَ عَفَّانُ: وَاَنْقَنَنِیْ، ((نَھٰی اَنْ تُسَافِرَ الْمَرْاَۃُ مَسِیْرَۃَیَوْمَیْنِ)) قَالَ عَفَّانُ: اَوْ لَیْلَتَیْنِ اِلَّا وَمَعَھَا زَوْجٌ اَوْ ذُوْ مَحْرَمٍ، وَنَھٰی عَنِ الصَّلَاۃِ فِیْ سَاعَتَیْنِ بَعْدَ الْغَدَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغِیْبَ، وَنَھٰی عَنْ صِیَامِیَوْمَیْنِیَوْمِ النَّحْرِ، وَیَوْمِ الْفِطْرِ، وَقَالَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَّا اِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْاَقْصٰی، وَمَسْجِدِیْ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چار چیزیں سنی، انھوں نے مجھے تعجب میں ڈال دیا اور مجھے حیران کر دیا ، (۱) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ عورت دو دنوں کی مسافت کا سفر کرے، مگر اس کے ساتھ اس کا خاوند یا کوئی محرم ہونا چاہیے، (۲)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو گھڑیوں میں نماز سے منع فرمایا، نمازِ فجر کے بعد، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور نماز عصر کے بعد، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، (۳)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر کے دو دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا، نیز (۴) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ پالان نہ کسے جائیں، ما سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور یہ مسجد نبوی۔

9999

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9999

Sahih

۔ (۹۹۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنَ الْجَاھِلیَّۃِ لَا یُتْرَکْنَ، اَلْفَخْرُ فِیْ الْاَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِیْ الْاَنْسَابِ، وَالْاِسْتِسْقَائُ بِالنُّجُوْمِ، وَالنِّیَاحَۃُ، وَالنَّائِحَۃُ اِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِھَا تُقَامُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلَیھَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ اَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاہلیت کے چار امور کو نہیں چھوڑا جائے گا، حسب میں فخر کرنا، نسب میں طعن کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا، اگر نوحہ کرنے والی خاتون نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو اس کو قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کر دیا جائے گا کہ اس پر گندھک کا لباس ہو گا یا خارش کی قمیص ہو گی۔

10000

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10000

Sahih

۔ (۱۰۰۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ: یَتَعَوَّذُ مِنْ اَرْبَعٍ، مِنْ عَذَابِ جَھَنّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔ (مسند احمد: ۷۸۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار چیزوں سے پناہ طلب کرتے تھے، جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، حیات و ممات کے فتنے سے اور دجال کے فتنے سے۔