Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 164 · Chapter 1939

زبان کی آفتوں کے مسائل

ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے

2 hadiths in this chapter

9897

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9897

Sahih

۔ (۹۸۹۷)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُیَقُوْلُ : ((یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا، مَا یَحْمِلُکُمْ عَلٰی اَنْ تَتَابَعُوْا فِیْ الْکَذِبِ کَمَا یَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِیْ النَّارِ، کُلُّ الْکَذِبِ یُکْتَبُ عَلَی ابْنِ آدَمَ اِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ، رَجُلٌ کَذَبَ عَلَی امْرَاَتِہِ لِیُرْضِیَھَا، اَوْ رَجُلٌ کَذَبَ فِیْ خَدِیْعَۃِ حَرْبٍ، اَوْ رَجُلٌ کَذَبَ بَیْنَ امْرَاَیْـنِ مُسْلِمَیْنِ لِیُصْلِحَ بَیْنَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ایمان والو! تم لوگوں کو کون سی چیز اس طرح لگاتار جھوٹ بولنے پر آمادہ کرتی ہے، جیسے پتنگے لگاتار آگ میں گرنا شروع ہو جاتے ہیں، ابن آدم پر اس کے ہر جھوٹ کو لکھ لیا جاتا ہے، ما سوائے تین امور کے، (۱) وہ خاوند جو اپنی بیوی سے جھوٹ بولتا ہے، تاکہ اس کو راضی رکھے، (۲) وہ آدمی جو جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ بولتا ہے اور (۳) وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔

9898

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9898

Sahih

۔ (۹۸۹۸)۔ عَنْ حُمَیِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، اَنَّ اُمَّہُ اُمَّ کُلْثُوْمٍ بِنْتَ عُقْبَۃَ اَخْبَرَتْہُ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَیْسَ الْکَذَّابُ الَّذِیْیُصْلِحُ بَیْنَ النَّاسِ فَیَنْمِیْ خَیْرًا، اَوْ یَقُوْلُ خَیْرًا۔)) وَقَالَتْ: لَمْ اَسْمَعْہُ یُرَخِّصُ فِیْ شَیْئٍ مِمَّا یَقُوْلُ النَّاسُ اِلَّا فِیْ ثَلَاثٍ، فِیْ الْحَرْبِ، وَالْاِصْلَاحِ بَیْنَ النَّاسِ، وَحَدِیْثِ الرَّجُلِ اِمْرَاتَہُ، وَحَدِیْثِ الْمَرْاَۃِ زَوْجَھَا، وَکَانَتْ اُمُّ کُلْثُوْمِ بِنْتُ عُقْبَۃَ مِنَ الْمُھَاجِرَاتِ اللَّاتِیْ بَایَعْنَ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا نہیں ہے ، جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے اور خیر کو آگے پہنچاتا ہے یا اچھی بات کرتا ہے۔ سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو گفتگو میں جھوٹ بولنے کی رخصت دی ہو، ما سوائے تین امور کے، جنگ میں، لوگوں کے ما بین اصلاح کرتے وقت اور خاوند کااپنی بیوی اور بیوی کا اپنے خاوند سے گفتگو کرتے وقت۔ سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ان مہاجر خواتین میں سے تھیں، جنہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی۔