Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9800
۔ (۹۸۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللہ عنہ ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اِذَا رَاَیْتَ اللّٰہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلٰی مَعَاصِیْہِ مَا یُحِبُّ فَاِنّمَا ھُوَ اسْتِدْرَاجٌ، ثُمَّ تَلَارَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : {فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ، حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوتُوْا اَخَذْنَاھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاھُمْ مُبْلِسُوْنَ۔} (مسند احمد: ۱۷۴۴۴)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آپ دیکھیں کہ ایک آدمی کو اس کی برائیوں کے باوجود دنیا میں رزق دیا جا رہا ہے تو (سمجھ لیں کہ) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جارہی ہے، جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے: پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیے،یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ (سورۂ انعام: ۴۴)۔