Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1924

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

اس غِنٰی سے ڈرانے کا بیان، جس کے ساتھ حرص ہو

11 hadiths in this chapter

9800

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9800

Sahih

۔ (۹۸۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا رَاَیْتَ اللّٰہَ یُعْطِی الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْیَا عَلٰی مَعَاصِیْہِ مَا یُحِبُّ فَاِنّمَا ھُوَ اسْتِدْرَاجٌ، ثُمَّ تَلَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍ، حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوتُوْا اَخَذْنَاھُمْ بَغْتَۃً فَاِذَاھُمْ مُبْلِسُوْنَ۔} (مسند احمد: ۱۷۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آپ دیکھیں کہ ایک آدمی کو اس کی برائیوں کے باوجود دنیا میں رزق دیا جا رہا ہے تو (سمجھ لیں کہ) اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جارہی ہے، جس کا تذکرہ اس آیت میں ہے: پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیے،یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ (سورۂ انعام: ۴۴)۔

9801

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9801

Zaeef

۔ (۹۸۰۱)۔ عَنِ ابْنِ حَصْبَۃَ اَوْ اَبِی حَصْبَۃَ، عَنْ رَجُلٍ شَھِدَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَقَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاالصُّعْلُوْکُ؟)) قَالُوْا: الَّذِیْ لَیْسَ لَہُ مَالٌ، قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصُّعْلُوْکُ کُلُّ الصُّعْلُوْکِ، الصُّعْلُوْکُ الّذِیْ لَہُ مَالٌ فَمَاتَ، وَلَمْ یُقَدِّمُ مِنْہُ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔

9802

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9802

Zaeef

۔ (۹۸۰۲)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَتَّخِذُ اَحَدُکُمُ السَّائِمَۃَ، فَیَشْھَدُ الصَّلَاۃَ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَتَتَعَذَرُّ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ، فَیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا، فَیَتَحَوَّلُ وَلَا یَشْھَدُ اِلَّا الْجُمُعَۃَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ فیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا فَیَتَحَوَّلُ فَـلَا یَشْھَدُ الْجُمُعَۃَ وَلَا الْجَمَاعَۃَ، فَیُطْبَعُ عَلٰی قَلْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۰۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے مویشی پالتاہے اور نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے مویشی اس کے لیے مشکل پیدا کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے مویشیوں کے لیے زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور دور ہو جانے کی وجہ سے صرف نمازِ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے، لیکن اس مقام پر بھی اس کے مویشی اس کے لیے مشقت پیدا کر دیتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے: اگر میں اس مقام کی بہ نسبت زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے بھی منتقل ہو جاتا اور اتنا دور ہو جاتا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے نہیں آتا اور نہ جماعت میں حاضر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔

9803

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9803

Sahih

۔ (۹۸۰۳)۔ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یُوْشِکُ اَنْ یَغْلِبَ عَلَی الدُّنْیَا لُکْعُ بْنُ لُکَعٍ، وَاَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ بَیْنَ کَرِیْمَتَیْنِ، وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی ٔرسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ دنیا پر کوئی انتہائی کمینہ بن کمینہ آدمی غالب آجائے، اور اس وقت لوگوں میں افضل وہ مومن ہو گا، جو دو کریموں کے درمیان ہو گا ۔

9804

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9804

Zaeef

۔ (۹۸۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَنَّ مُوْسٰی قَالَ: اَیْ رَبِّ! عَبْدُکَ الْکَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا، قَالَ: فَیُفْتَحُ لَہُ بَابٌ مِنَ النَّارِ، فَیُقَالُ: یَا مُوْسٰی ھٰذَا مَا اَعْدَدْتُ لَہُ، فَقَالَ مُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! وَعِزَّتِکَ وَجَلَالِکَ! لَوْ کَانَتْ لَہُ الدُّنْیَا مُنْذُ خَلَقْتَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَکَانَ ھٰذَا مَصِیْرَہُ کَأَنْ لَّمْ یَرَ خَیْرًا قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ کافر ہے، لیکن تو دنیا میں اس کو وسعت عطا کر رہا ہے، اتنے میں جہنم سے ایک دروازہ کھولا گیا اور کہا گیا: اے موسی! یہ ٹھکانہ ہے، جو میں نے اس کے لیے تیارکر رکھا ہے، موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت کی قسم اور تیرے جلال کی قسم! جب سے تو نے اس بندے کو پیدا کیا، اگر اس وقت سے قیامت کے دن تک ساری دنیا اس بندے کو مل جائے اور پھر اس کا ٹھکانہ یہ ہو تو گویا کہ اس بندے نے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔

9805

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9805

Sahih

۔ (۹۸۰۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلَکَ المُثْرُوْنَ۔))، قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: ((ھَلَکَ الْمُثْرُوْنَ۔)) قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: ((ھَلَکَ الْمُثْرُوْنَ۔)) قَالُوْا: اِلَّا مَنْ؟ قَالَ: حَتّٰی خِفْنَا اَنْ یَکُوْنَ قَدْ وَجَبَتْ، فَقَالَ: اِلَّا مَنْ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَقَلِیْلٌ مَا ھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مالدار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مال دار ہلاک ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: مگر کون؟ بالآخر ہم ڈر گئے کہ ایسے لگتا ہے کہ یہ چیز تو واجب ہو چکی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مگر وہ جس نے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کیا، جبکہ ایسا کرنے والے کم ہیں۔

9806

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9806

Sahih

۔ (۹۸۰۶)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُکَثِّرِیْنَ ھُمُ الْاَرْزَلُوْنَ (وَفِیْ لَفْظٍ: ھُمُ الْاَقَلُّوْنَ) اِلَّا مَنْ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقِیْلَ مَاھُمْ) قَالَ: کَامِلٌ بِیَـدِہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ۔ (مسند احمد: ۸۳۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے سب سے زیادہ ذلیل ہوں گے (یا ایک روایت کے مطابق) کم عمل والے ہوں گے، مگر وہ جو اس طرح، اس طرح اور اس طرح کرتا ہے۔ کسی نے کہا: وہ کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کامل راوی نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا کہ وہ مال دائیں طرف، بائیں طرف اور اپنے سامنے ڈالتا ہے۔

9807

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9807

Sahih

۔ (۹۸۰۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَااَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْفَقْرَ، وَلَکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ التَّکَاثُرَ، وَمَا اَخْشٰی الْخَطَاَ، وَلَکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمَـدَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تم پر فقیری کا ڈر نہیں ہے، بلکہ کثرت کی طلب کا ڈر ہے، اور مجھے بغیر ارادے کے غلطی کر جانے کا ڈر نہیں ہے، بلکہ تمہارے بارے میں جان بوجھ کر نافرمانی کرنے کا ڈر ہے۔

9808

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9808

Sahih

۔ (۹۸۰۸)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْاَخْرَمِ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَتَّخِذُوْا الضَّیْعَۃَ فَتَرْغَبُوْا فِیْ الدُّنْیَا۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَبِرَاذَانَ مَابِرَاذَانَ! وَبِالْمَدِیْنَۃِ مَابِالْمَدِیْنَۃِ! (مسند احمد: ۴۰۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاگیر بنانے کا اہتمام نہ کرو، وگرنہ دنیا کی رغبت میں پڑ جاؤ گے۔ پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: براذان، کیا ہے براذان؟ مدینہ، کیا ہے مدینہ؟

9809

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9809

Zaeef

۔ (۹۸۰۹)۔ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ طَیْئٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ التَّبَقُّرِ فِیْ الْاَھْلِ وَالْمَالِ، فَقَالَ اَبُوْحَمْزۃَ وَکَانَ جَالِسًا عِنْدَہُ: نَعَمْ، حَدَّثَنِیْ اَخْرَمُ الطَّائِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ،عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: فَکَیْفَ بِاَھْلِ بَرَاذَانَ، وَاَھْلٍ بِالْمَدِیْنَۃِ، وَاَھْلٍ بِکَذَا قَالَ شُعْبَۃُ: فَقُلْتُ لِاَبِی التَّیَّاحِ، مَاالتَّبَقُّرُ؟ قَالَ: الْـکَـْثرَۃُ۔ (مسند احمد: ۴۱۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم کو اہل و مال میں کثرت سے منع فرمایا۔ ابو حمزہ، جو کہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نے کہا: جی ہاں اوراخرم طائی اپنے باپ سے،انھوں نے سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا، پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خود کہا: کیا بنے گا اہل براذان کا اور اہل مدینہ کا! امام شعبہ نے کہا: میں نے ابو تیاح سے کہا: تَبَقّر سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے کہا: کثرت۔

9810

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9810

Sahih

۔ (۹۸۱۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، اَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ اَخْبَرَہُ، اَنَّ عَمْرَوبْنَ عَوْفٍ، وَھُوَ حلِیْفُ بَنِیْ عَامِرٍ بْنِ لُؤَیٍّ، وَکَانَ شَھِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخْبَرَہُ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ اَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ اِلَی اْلبَحْرَیْنِ،یَاْتِیْ بِجِزْیَتِھَا، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ھُوَ صَالَحَ اَھْلَ الْبَحْرَیْنِوَاَمَّرَ عَلَیْھِمُ الْعَلائَ بْنَ الْحَضْرَمِیِّ، فَقَدِمَ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَیْنِ، فَسَمِعَتِ الْاَنْصَارُ بِقُدُوْمِہِ، فَوَافَتْ صَلَاۃَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْفَجْرِ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوْا لَہُ، فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ رَآھُمْ، فَقَالَ: ((اَظُنُّکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ اَنَّ اَبَا عُبَیْدَۃَ قَدْ جَائَ، وَجَائَ بِشْیْئٍ؟)) قَالُوْا :اَجَلْ یَارَسُوْلُ اللہ! قَالَ: ((فَاَبْشِرُوْا، وَاَمِّلُوْا مَایَسُرُّکُمْ، فَوَاللّٰہِ! مَا الْفَقْرَ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ، وَلٰکِنِّیْ اَخْشٰی اَنْ تُبْسَطَ الدُّنْیَا عَلَیْکُمْ کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، فَتَافَسُوْھَا کَمَا تَنَافَسُوْھَا، وَتُلْھِیْکُمْ کَمَا اَلْھَتْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بنو عامر بن لؤی کے حلیف اور غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے سیدنا عمرو بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف جزیہ لینے کے لیے بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل بحرین سے مصالحت کر لی تھی اور سیدنا علاء بن حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کا امیر بنایا تھا، جب سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مال لے کر بحرین سے واپس آئے اور انصار کو ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نمازِ فجر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس نماز سے فارغ ہوئے تو انصار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درپے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم کو پتہ چل گیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے کر واپس آ گئے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جو تم کو خوش کرنے والے والی ہے، اللہ قسم کی ہے، مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا کوئی ڈر نہیں ہے، بلکہ مجھے خوف یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کو تم پر فراخ کر دیا جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کی گئی اور پھر تم اس میں اس طرح پڑ جاؤ، جیسے وہ لوگ پڑ گئے تھے اور پھر وہ تم کو اس طرح غافل کر دے، جیسے ان لوگوں کو غافل کر دیا تھا۔