Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1922

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان

14 hadiths in this chapter

9780

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9780

Sahih

۔ (۹۷۸۰)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں تک چھوڑ دے۔

9781

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9781

Sahih

۔ (۹۷۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ھِجْرَۃَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَنْ ھَجَرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند احمد: ۹۰۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سے زائد دنوں تک کی قطع تعلقی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جس نے اپنے بھائی سے تین سے زائد دنوں تک قطع تعلقی کیے رکھی، پھر وہ مر گیا تو وہ آگ میں داخل ہو گا۔

9782

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9782

Sahih

۔ (۹۷۸۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُفْتَحُ اَبْوَابُ الْجَنّۃِ فِیْ کُلِّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ۔)) قَالَ مَعْمَرٌ: وَقَالَ غَیْرُ سُھَیْلٍ: ((وَتُعْرَضُ الْاَعْمَالُ فِیْ کُلِّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ فَیَغْفِرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِکُلِّ عَبْدٍ لَا یُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، اِلَّا الْمُتَشَاحِنَیْنِ،یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِلْمَلَائِکَۃِ: ذَرُوْھُمَا حَتّٰییَصْطَلِحَا۔)) (مسند احمد: ۷۶۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ سہیل کے علاوہ باقی راویوں کے الفاظ یہ ہیں: ہر سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا، ما سوائے باہم بغض و عداوت رکھنے والے دو افراد کے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے: ان دو کو رہنے دو، جب تک یہ صلح نہ کرلیں۔

9783

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9783

Sahih

۔ (۹۷۸۳)۔ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لِیَالٍ، فَاِنْ کَانَ تَصَادُرًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاِنَّھُمَا نَاکِبَانِ عَنِ الْحَقِّ، مَادَامَا عَلٰی صُرَامِھِمَا، وَاَوَلُّھُمَا فَیْئًا، فَسَبْقُہُ بِالْفَیْئِ کَفَّارَتُہُ، فَاِنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ وَرَدَّ عَلَیْہِ سَلَامَہُ، رَدَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ وَرَدَّ عَلَی الْآخَرِ الشَّیْطَانُ، فَاِنْ مَاتَا عَلَی صِرَامِھِمَا لَمْ یَجْتَمِعَا فِیْ الْجَنّۃِ اَبَدًا (وَلَہُ فِیْ رِوَایَۃٍ اُخْرٰی) لَمْ یَدْخُلَا الْجَنّۃَ جَمِیْعًا اَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ہشام بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد راتوں تک چھوڑے رکھے، اگر وہ تین سے تجاوز کر جائیں تو جب تک قطع تعلقی پر اڑے رہیں گے، وہ حق سے منحرف رہیں گے، اور ان میں سے جو پہلے لوٹے گا تو اس کا لوٹنا اس کے گناہوں کا کفارہ بنے گا، پس اگر وہ سلام کہتا، لیکن وہ جواب نہیں دیتا اور اس کے سلام کو ردّ کر دیتا ہے، تو فرشتے اس کو جواب دیں گے اور دوسرے کا جواب شیطان دے گا۔ اگر ایسے دو افراد اپنی قطع تعلقی پر ہی مر جائیں تو وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جمع نہیں ہوں گے، ایک روایت میں ہے: وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔

9784

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9784

Sahih

۔ (۹۷۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ خِرَاشٍ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ ھَجَرَ اَخَاہُ سَنَۃً فَھُوَ کَسَفْکِ دَمِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو خراش سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا، وہ اس کا خون بہا دینے کی طرح ہو گا۔

9785

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9785

Sahih

۔ (۹۷۸۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا، وَلَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَیَالٍ،یَلْتَقِیَانِ فَیَصُدُّ ھٰذَا وَیَصُدُّ ھٰذَا، وَخَیْرُھُمَا الَّذِیْیَبْدَاُ بِالسَّلَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض اور حسد نہ رکھو،باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زائد دنوں تک چھوڑے رکھے، جب وہ دونوں ملتے ہیں تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرتا ہے۔

9786

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9786

Sahih

۔ (۹۷۸۶)۔ عَنْ عَطائِ بْنِ یَزِیَدَ، عَنْ اَبِیْ اَیُوْبَیَذْکُرُ فِیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، یَلْتَقِیَانِ فَیَصُدُّ ھٰذَا، وَیَصُدُّ ھٰذَا، وَخَیْرُ ھُمَا الَّذِیْیَبْدَاُ بِالسَّلَامِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین سے زیادہ دنوں کے لیے چھوڑے رکھے، جب دونوں ملتے ہیں، تو یہ بھی رکتا ہے اور وہ بھی رکتا ہے، جبکہ ان میں بہتر وہ ہے، جو سلام میں پہل کرے۔

9787

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9787

Sahih

۔ (۹۷۸۷)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، وَھُوَ ابْنُ اَخِیْ عَائِشَۃَ لِاُمِّھَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، حَدَّثَتْہُ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ قَالَ فِیْ بَیْعٍ اَوْ عَطَائٍ اَعْطَتْہُ: وَاللّٰہ!ِ لَتَنْتَھِیَنَّ عَائِشَۃُ اَوْ لَاَحْجُرَنَّ عَلَیْھَا، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: اَوَ قَالَ ھٰذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: ھُوَ لِلّٰہِ عَلَیَّ نَذَرٌ اَنْ لَّا اُکَلِّمَ ابْنَ الزُّبَیْرِ کَلِمَۃً اَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ،وَعَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ الْاَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ یَغُوْثَ، وَھُمَا مِنْ بَنِیْ زُھْرَۃَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ یُنَاشِدَانِ عَائِشَۃَ اِلَّا کَلَّمَتْہُ وَقَبِلَتْ مِنْہُ، وَیَقُوْلَانِ لَھَا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَدْ نَھٰی عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْھَجْرِ، اَنْ لَا یَحِلَّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یَھْجُرَ اَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَیَالٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عوف بن حارث، جو کہ سیدہ عائشہ کا اخیافی بھتیجا تھا، سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کسی سودے یا عطیے کے بارے میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بارے میں کہا: اللہ کی قسم! یا تو عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا با ز آ جائے گی،یا میں اس پر پابندی لگا دوں گا، سیدہ نے پوچھا: کیا واقعی اس نےیہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدہ نے کہا: میں اللہ کے لیے نذر مانتی ہوں کہ میں ابن زبیر سے کبھی بھی کلام نہیں کروں گی، پھر سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبد الرحمن بن اسود بن عبد ِ یغوث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے حق میں سیدہ سے سفارش کریں،یہ دونوں آدمی بنو زہرہ قبیلے کے تھے، … …، پھر مسور اور عبد الرحمن نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو واسطے دینا شروع کیے، کہ وہ لازمی طور پر اس کے ساتھ کلام کرے اور اس سے معذرت قبول کرے اور انھوں نے سیدہ کو یہ بات بھی کہی تھی کہ تم جانتی ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قطع تعلقی سے روکا ہے، اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دنوں سے زیادہ عرصے تک قطعی تعلقی کرے۔

9788

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9788

Sahih

۔ (۹۷۸۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَبْغَضُ الرِّجَالِ الْاَلَدُّ الْخَصِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے، جو سخت جھگڑالو ہو۔

9789

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9789

Zaeef

۔ (۹۷۸۹)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ بَشِیْرٍ، مَوْلٰی بَنِیْ مُغَالَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَاَبَاطَلْحَۃَ بْنَ سَھْلٍ الْاَنْصَارِیَّیْنِ یَقُوْلَانِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ اِمْرِیئٍیَخْذُلُ اِمْرَاً مُسْلِمًا عِنْدَ مَوْطِنٍ تُنْتَھَکُ فِیْہِ حُرْمَتُہُ، وَیُنْتَقَصُ فِیْہِ مِنْ عِرْضِہِ، اِلَّا خَذَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْ مَوْطِنٍ یُحِبُّ فِیْہِ نُصْرَتَہُ، وَمَا مِنْ اِمْرِیئٍیَنْصُرُ اِمْرَاً مُسْلِمًا فِیْ مَوْطِنٍ یُنْتَقَصُ فِیْہِ مِنْ عِرْضِہِ، وَیُنْتَھَکُ فِیْہِ مِنْ حُرْمَتِہِ، اِلَّا نَصَرَہُ اللّٰہُ فِیْ مَوْطِنٍ یُحِبُّ فِیْہِ نُصْرَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو طلحہ بن سہل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو اس مقام پر ذلیل کرتا ہے، جہاں اس کی حرمت پامال ہو جاتی ہے اور اس کی عزت میں کمی آجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس مقام پر ذلیل کرتاہے، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرتاہے، جو آدمی ایسے مقام پر اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا ہے، جہاں اس کی عزت کم ہو رہی ہوتی ہے اور اس کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس آدمی کی اس مقام پر مدد کرے گا، جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرے گا۔

9790

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9790

Sahih

۔ (۹۷۹۰)۔ عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، اَنَّ الْمُسْتَوْرِدِ حَدَّثَھُمْ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَکَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ اَکْلَۃً۔ وَقَالَ مَرَّۃً: اُکْلَۃً، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُطْعِمُہُ مِثْلَھَا مِنْ جَھَنَّمَ، وَمَنِ اکْتَسٰی بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَکْسُوْہُ مِثْلَہُ مِنْ جَھَنَّمَ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَۃٍ، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْمُ بِہٖمَقَامَسُمْعَۃٍیَّوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۸۱۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مستورد بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان (کی غیبت یا اس کی توہین یا اس کو اذیت پہنچا کر) کوئی لقمہ کھایا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی طرح کا لقمہ جہنم سے کھلائے گا، جس نے کسی مسلمان (کی اہانت کرنے کا) لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی کی مثل کا لباس جہنم سے پہنائے گا اور جو آدمی کسی آدمی کی وجہ سے شہرت والے مقام پر کھڑا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت والے دن شہرت کے مقام پر کھڑا کریں گے۔

9791

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9791

Sahih

۔ (۹۷۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ صِرْمَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ ضَارَّ اَضَرَّ اللّٰہُ بِہٖوَمَنْشَاقَّشَقَّاللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو صرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو نقصان پہنچایا، اللہ تعالیٰ اس کو نقصان پہنچائے گا اور جس نے کسی پر مشقت ڈالی، اللہ تعالیٰ اس پر مشقت ڈالے گا۔

9792

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9792

Sahih

۔ (۹۷۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَوْمٍ یَتَعَاطَوْنَ سَیْفًا مَسْلُوْلًا، فَقَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ فَعَلَ ھٰذَا، اَوَ لَیْسَ قَدْ نَھَیْتُ عَنْ ھٰذَا؟)) ثُمَّ قَالَ: ((اِذَا سَلَّ اَحَدُکُمْ سَیْفَہُ فَنَظَرَاِلَیْہِ، فَاَرَادَ اَنْ یُنَاوِلَہُ اَخَاہُ فَلْیُغَمِّدْہُ ثُمَّ یُنَاوِلَہُ اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایسی قوم کے پاس آئے جو ننگی تلوار لے دے رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر لعنت کرے جو اس طرح کرتا ہے، کیا میں نے تم کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تلوار ننگی کر کے اس کو دیکھے اور پھر وہ دوسرے کو پکڑانا چاہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو کسی چیز میں ڈھانک کر دے۔

9793

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9793

Sahih

۔ (۹۷۹۳)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِی لَیْلٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَنَّھُمْ کَانُوْا یَسِیْرُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ مَسِیْرٍ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْھُمْ، فَانْطَلَقَ َبعْضُھُمْ اِلٰی نَبْلٍ مَعَہُ فَاَخَذَھَا، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ الرَّجُلُ فَزِعَ، فَضَحِکَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((مَا یُضْحِکُکُمْ؟)) فَقَالُوْا: لَا، اِلَّا اَنَّا اَخَذْنَا نَبْلَ ھٰذَا فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ یُرَوِّعَ مُسْلِمًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد الرحمن بن لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صحابۂ کرام نے ہم کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، ایک آدمی سو گیا، کچھ ساتھی اس کی طرف گئے اور اس کے تیر پکڑ لیے، جب وہ بیدار ہوا تو گھبرا گیا، لوگ ہنس پڑے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیوں ہنس رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی کوئی بات نہیں ہے، بس ہم نے اس کے تیر پکڑ لیے تو وہ گھبرا گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مسلمان کو گھبرا دے۔