Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1919

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان

12 hadiths in this chapter

9754

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9754

Sahih

۔ (۹۷۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلَانٍ۔ (مسند احمد: ۴۲۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت ہر دھوکے باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے: اور یہ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔

9755

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9755

Sahih

۔ (۹۷۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْغَادِرُ یُرْفَعُ لَہُ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،یُقَالَ: ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلانِ بْنِ فُلَانِ۔)) (مسند احمد: ۴۶۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دھوکے باز کا جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔

9756

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9756

Sahih

۔ (۹۷۵۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، یَقُوْلُ : ((یُنْصَبُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا غَدْرَۃَ اَعْظَمُ مِنْ غَدْرَۃِ اِمَامِ عَامَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے پاس تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا، بڑے امام کے ساتھ کیے گئے دھوکے سے بڑھ کر کوئی دھوکہ نہیں ہے۔

9757

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9757

Sahih

۔ (۹۷۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِیْنَ وَاحِدَۃٌیَسْعٰی بِھَا اَدْنَاھُمْ، فَمَنْ اَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ، وَالْمَلَائِکَۃِ، وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنِ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا، وَلَا صَرْفًا۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی ضمانت (کا حکم) ایک ہے، ادنی مسلمان بھی یہ ضمانت دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔

9758

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9758

Sahih

۔ (۹۷۵۸)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاخَطَبَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا قَالَ: ((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہُ، وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ،وہ کہتے ہیں: نبی کریم جب بھی ہم سے خطاب کرتے تھے تو اس میں یہ فرماتے تھے: اس آدمی کا ایمان نہیں، جس کی امانت نہیں اور اس آدمی کا دین نہیں، جس کا عہد وپیمان کوئی نہیں۔

9759

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9759

Sahih

۔ (۹۷۵۹)۔ عَنْ عَمْروِ بْنِ عَبْسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قَوْمٍ عَھْدٌ فَـلَا یَشُدُّ عُقْدَۃً، وَلَا یَحُلُّ حَتّٰییَمْضِیَ اَمَدُھَا، اَوْ یَنْبِذَ اِلَیْھِمْ عَلٰی سَوْائٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مسلم قوم اور کسی دوسری قوم کے درمیان کوئی معاہدہ ہو تو نہ وہ اس کو مزید لمبا کر کے مضبوط کرے اور نہ اس کو توڑے، یہاں تک کہ اس کی مدت ختم ہو جائے یا دونوں برابر برابر کا توڑ دیں۔

9760

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9760

Zaeef

۔ (۹۷۶۰)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ شَرَطَ لِاَخِیْہِ شَرْطًا لَا یُرِیْدُ اَنْ یَفِيَ لَہُ بِہٖ، فَھُوَ کَالْمُدْلِیْ جَارَہُ اِلٰی غَیْرِ مَنَعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی سے کوئی شرط لگائی، جبکہ اس کا اس کو پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو تو وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو اپنے بھائی کو ایسی ہمسایہ (قوم) کے سپرد کر رہا ہے، جن کے پاس (دشمن سے بچنے کی) کوئی قوت نہیں ہے۔

9761

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9761

Sahih

۔ (۹۷۶۱)۔ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اَقْتُلُ لَکَ عَلِیًّا؟ قَالَ: وَکَیْفَ تَقْتُلُہُ وَمَعَہُ الْجُنُوْدُ؟ قَالَ: اَلْحَقُ بِہٖفَاَفْتِکُبِہٖقَالَ: لَا،اَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْاِیْمَانَ قَیْدُ الْفَتْکِ، لَا یَفْتِکُ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حسن سے مروی ہے کہ ایک آدمی سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا میں تیرے لیے علی ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کو قتل کر دوں؟ انھوں نے کہا: تو اس کو کیسے قتل کرے گا، جبکہ اس کے ساتھ تو لشکر ہیں؟ اس نے کہا: میں بظاہر اس کے ساتھ مل جاؤں گا اور پھر اس کو غافل پا کر قتل کر دوں گا، انھوں نے کہا: نہیں، ایسے نہیں کرنا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمان امان دینے کے بعد قتل کرنے سے روکتا ہے، مؤمن امان دینے کے بعد قتل نہیں کرتا۔

9762

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9762

Sahih

۔ (۹۷۶۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلْاِیْمَانُ قَیَّدَ الْفَتْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمان امان دینے کے بعد قتل کرنے سے روکتا ہے۔

9763

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9763

Zaeef

۔ (۹۷۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ رَفَاعَۃَ الْبَجَلِیِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ بْنِ اَبِیْ عُبَیْدٍ قَصْرَہُ، فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: مَا قَامَ جِبْرِیْلُ اِلَّا مِنْ عِنْدِیْ قَبْلُ، قَالَ: فَھَمَمْتُ اَنْ اَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیْثًا حَدَّثَنَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ : ((اِذَا اَمَّنَکَ الرَّجُلُ عَلٰی دَمِہِ، فَـلَا تَقْتُلْہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ قَدْ اَمَّنَنِیْ عَلٰی دَمِہِ فَکَرِھْتُ دَمَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابورفاعہ بجلی کہتے ہیں: میں مختار بن ابی عبید کے پاس اس کے محل میں گیا، میں نے اس کو کہتے ہوئے سنا: اس سے پہلے جبریل کھڑا نہیں ہوا، مگر میرے پاس سے، یہ بات سن کر میں نے اس کی گردن اڑا دینے کا ارادہ کیا، لیکن مجھے ایک حدیث یاد آ گئی، سیدنا سلیمان بن صرد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تجھے اپنے خون پر امین بنائے تو تو نے اس کو قتل نہیں کرنا۔ مختار نے مجھے بھی اپنے خون پر امین بنایا تھا، اس میں نے اس کے قتل مکروہ سمجھا۔

9764

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9764

Sahih

۔ (۹۷۶۴)۔ عَنْ رِفَاعَۃَ الْقِتْبَانِیِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ، فَاَلْقٰی لِیْ وِسَادَۃً، وَقَالَ: لَوْ لَا اَنَّ اَخِیْ جِبْرِیْلَ قَامَ عَنْ ھٰذِہِ لَاَلْقَیْتُھَا لَکَ، قَالَ: فَاَرَدْتُ اَنْ اَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیْثًا حَدَّثَنِیْہِ اَخِیْ عَمْروُ بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّمَا مُؤْمِنٍ اَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلٰی دَمِہِ فَقَتَلَہُ فَاَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ رفاعہ قتبانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مختار کے پاس گیا،اس نے میرے لیے تکیہ رکھا اور کہا: اگر میرا بھائی جبریل اس سے کھڑا نہ ہوا ہوتا تو میں نے اس کو تیرے لیے رکھنا تھا، یہ بات سن کر میں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی، میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مؤمن کسی مؤمن کو اپنے خون پر امین بنائے اور پھر وہ اس کو قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ہوں۔

9765

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9765

Sahih

۔ (۹۷۶۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: کُنْتُ اَقُوْمُ عَلٰی رَاْسِ الْمُخْتَارِ، فَلَمَّا عَرَفْتُ کَذِبَہُ ھَمَمْتُ اَنْ اَسُلَّ سَیْـفِیْ فَاَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیْثًا حَدَّثَنَاہُ عَمْروُ بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ اَمَّنَ رَجُلًا عَلٰی نَفْسِہِ، فَقَتَلَہُ اُعْطِیَ لِوَائَ الْغَدْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) میں مختارکا پہرہ دیتا تھا، جب میں نے پہچان لیا کہ یہ جھوٹا ہے تو میں نے ارادہ کیا کہ اپنی تلوار سونتوں اور اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی، سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی آدمی کو اپنی جان پر امن والا بنایا، لیکن اس نے اس کو قتل کر دیا تو قیامت والے دن اس کو دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔