Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 162 · Chapter 1905

ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس

سباعیات کا بیان

4 hadiths in this chapter

9632

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9632

Sahih

۔ (۹۶۳۲)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَبْعَۃٌیُظِّلُھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ، اَلْاِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَاَ بِعِبَادَۃِ اللّٰہِ، وَرَجُلٌ قُلْبُہُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِیْ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِجْتَمَعَا عَلَیْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ اَخْفَاھَا لَا تَعْلَمُ شِمَالُہُ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہُ،وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ، وَرَجُلٌ دَعَتْہُ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ اِلَی نَفْسِھَا، فَقَالَ: اَنَا اَخَافُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۹۶۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دن سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن صرف اسی کا سایہ ہو گا، (۱)منصف حکمران، (۲) وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں پروان چڑھا، (۳) وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہو، (۴) وہ دو آدمی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کی، اسی پر جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے، (۵) وہ آدمی نے جس نے صدقہ کیا اور اس کو اس طرح چھپایا کہ جو کچھ اس کے دائیں ہاتھ نے خرچ کیا، اس کے بائیں ہاتھ کو اس کا علم نہ ہوا، (۶) وہ آدمی جس نے خلوت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اس کی آنکھیں بہہ پڑھیں اور (۷) وہ آدمی جس کو منصب اور حسن والی عورت نے اپنے وجود یعنی برائی کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔

9633

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9633

Sahih

۔ (۹۶۳۳)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعٍ، وَنَھَانَا عَنْ سَبْعٍ، قَالَ فَذَکَرَ: ((مَا اَمَرَھُمْ بِہٖمِنْعِیَادَۃِ الْمَرِیْضِ، وَاِتْبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِیْتِ الْعَاطِسِ، وَرَدِّ السِّلَامِ، وَاِبْرَارِ الْمُقْسِمِ، وَاِجَابَۃِ الدَّاعِیْ، وَنَصْرِ الْمَظْلُوْمِ، وَنَھَانَا عَنْ آنِیَۃِ الْفِضَّۃِ، اَوْ قَالَ: حَلْقَۃِ الذَّھَبِ، وَالْاِسْتَبْرَقِ، وَالْحَرِیْرِ، وَالدِّیْبَاجِ، وَالْمِیْثَرَۃِ، وَالْقَسِّیِّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن چیزوں کا حکم دیا، وہ یہ تھیں: بیمار کی تیمارداری کرنا، جنازوں میں شرکت کرنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا، قسم اٹھانے والے کی قسم پوری کرنا، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن چیزوں سے منع فرمایا، وہ یہ تھیں: چاندی کے برتن، سونے کا کڑا، استبرق، ریشم، دیباج، ریشم و دیباج سے آراستہ سوارییا کشتی، قسِّیّ۔

9634

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9634

Sahih

۔ (۹۶۳۴)۔ عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ الْاَنْمَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((ثَلَاثٌ اُقْسِمُ عَلَیْھِنِّ، وَاُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا فَاحْفَظُوْہُ۔)) قَالَ: ((فَاَمَّا الثَّلَاثُ الَّذِیْ اُقْسِمُ عَلَیْھِنِّ: فَاِنَّہُ مَانَقَّصَ مَالَ عَبْدٍ صَدَقَۃٌ، وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ بِمَظْلِمَۃٍ فَیَصْبِرُ عَلَیْھَا اِلَّا زَادَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا عِزًّا، وَلَا یَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْاَلَۃٍ اِلَّا فَتَحَ اللّٰہُ لَہُ بَابَ فَقْرٍ۔)) (وَاَمَّا الَّذِیْ اُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا فَاحْفَظُوْہُ) فَاِنَّہُ قَالَ: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فَھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ وَیَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالًا، قَالَ: فھُوَ یَقُوْلُ : لَوْکَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: فَاَجْرُھُمَا سِوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مَالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ لِلّٰہِ فِیْہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا بِاَخْبَثِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالًا وَ لَاعِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ فَوِزْرُھُمَا فِیْہِ سَوَائٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں اور تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، پس اس کو یاد کرو۔ وہ تین چیزیں، جن پر میں قسم اٹھاتا ہوں، یہ ہیں: (۱)صدقہ بندے کے مال میں کمی نہیں کرتا، (۲) جس آدمی پر ظلم کیا جاتا ہے اور پھر وہ صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کر دیتاہے اور (۳) جب بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فقیری کا دروازہ کھول دیتاہے۔ اب میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس کو یاد کر لو: دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل مرتبے والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے اور ان دونوں کا گناہ برابر ہے۔

9635

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9635

Sahih

۔ (۹۶۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَمَرَنِیْ خَلِیْلِیْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعٍ: اَمَرَنِیْ بِحُبِّ الْمَسَاکِیْنِ وَالدُّنُوِّ مِنْھُمْ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَنْظُرَ اِلٰی مَنْ ْ ھُوَ دُوْنِیْ وَلَا اَنْظُرَ اِلٰی مَنْ ْ ھُوَ فَوْقِیْ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَصِلَ الرَّحِمَ وَاِنْ اَدْبَرَتْ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ لَا اَسْاَلَ اَحَدًا شَیْئاً ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اَقُوْلَ بِالْحَقِّ وَاِنْ کَانَ مُرًّا، وَاَمَرَنِیْ اَنْ لَا اَخَافَ فِیْ اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَاَمَرَنِیْ اَنْ اُکْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ فَاِنَّھُنَّ مِنْ کَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسکینوں سے محبت کروں اور ان کے قریب ہوا کرو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سے کم تر افراد کی طرف دیکھوں اور اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ پیٹھ پھیر رہی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ حق کہوں، اگرچہ وہ کڑوا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں کثرت سے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کا ذکر کروں،کیونکہ یہ عرش کے نیچے موجود ایک خزانے میں سے ہیں۔