Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 162 · Chapter 1902

ترغیبات میں آداب، مواعظ، حکمتوں اور جوامع الکلم کی جامع کتاب، میں ثلاثیات سے ابتداء کی جائے گی، علی ہذا القیاس

عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان

6 hadiths in this chapter

9622

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9622

Sahih

۔ (۹۶۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَاْخُذُ مِنْ اُمَّتِیْ خَمْسَ خِصَالٍ فَیَعْمَلُ بِھِنِّ، اَوْ یُعَلِّمُھُنَّ مَنْ یَفْعَلُ بِھِنَّ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَعَدَّھُنَّ فِیْھَا، ثُمَّ قَالَ: ((اِتَّقِ الْمَحَارِمَ تَکُنْ اَعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ اَغْنَی النَّاسِ، وَاَحْسِنْ اِلٰی جَارِکَ تَکُنْ مُؤْمِنًا، وَاَحِبَّ لِلنَّاسَ ماتُحِبُّ لِنَفْسِکَ تَکُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُکْثِرِ الضِّحْکَ فَاِنَّ کَثْرَۃَ الضِّحْکِ تُمِیْتُ الْقَلْبَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھ سے ان کلمات کی تعلیم حاصل کرے اور خود ان پر عمل کرے یا ان پر عمل کرنے والے کو سکھا دے؟ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اورشمار کرتے ہوئے پانچ چیزیں بتلائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو، لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے، اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جاؤ، سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک سے پیش آ ؤ، مومن بن جاؤ گے۔ لوگوں کے لیے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، مسلمان بن جاؤ گے اور کثرت سے ہنسنا ترک کر دو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔

9623

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9623

Sahih

۔ (۹۶۲۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ، رَدُّ التَّحِیَّۃِ، وَاِجَابَۃُ الدَّعْوَۃِ، وَشُھُوْدُ الْجَنَازَۃِ، وَعِیَادَۃُ الْمَرِیْضِ، وَتَشْمِیْتُ الْعَاطِسِ اِذَا حَمِدَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۳۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، جنازے میں شرکت کرنا، مریض کی عیادت کرنا، اَلْحَمْدُ لَلّٰہ کہنے والے چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا۔

9624

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9624

Sahih

۔ (۹۶۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَامٍ، عَنْ مَوْلٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ مَا اَثْقَلَھُنَّ فِیْ الْمِیْزَانِ: (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ رَجُلٌ: مَا ھُنَّ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ) لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ،یُتَوَفّٰی فَیَحْتَسِبُہُ وَالِدُہُ۔)) وَقَالَ: ((بَخٍ بَخٍ لِخَمْسٍ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَیْقِنًا بِھِنَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَیُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، وَبِالْجَنَّۃِ، وَالنَّارِ وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْحِسَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۲۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو سلام ، ایک مولائے رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، کیا بات ہے پانچ چیزوں کی، وہ کتنی بھاری ہیں ترازو میں۔ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِاور نیک بیٹا، جو فوت ہو جائے اور اس کے والدین ثواب کی نیت سے صبر کریں۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، کیابات ہے پانچ چیزوں کی، جو اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ ان پر یقین رکھتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، وہ اللہ تعالی، آخرت کے دن، جنت، جہنم، موت کے بعد جی اٹھنے اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہو۔

9625

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9625

Sahih

۔ (۹۶۲۵)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: عَھِدَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ خَمْسٍ مَنْ فَعَلَ مِنْھُنَّ وَاحِدَۃً کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللّٰہِ: ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا، اَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَۃٍ، أَوْ خَرَجَ غَازِیًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اَوَ دَخَلَ عَلٰی اِمَامٍ یُرِیْدُ بِذٰلِکَ تَعْزِیْزَہُ وَتَوْقِیْرَہُ، اَوْ قَعَدَ فِیْ بَیْتٍ فَیَسْلَمُ النَّاسُ مِنْہُ وَیَسْلَمُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں پانچ چیزوں کی نصیحت کی کہ جو آدمی ان میں سے ایک کام کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ پر ضامن ہو گا، جو مریض کی تیمار داری کرے، یا جنازے کے ساتھ نکلے، یا اللہ تعالیٰ کے راستے میںجہاد کرنے کے لیے نکلے، یا حکمران کی تائید اور توقیر کے لیے اس کے پاس جائے، یا پھر اپنے گھر میں بیٹھا رہے، تاکہ لوگ اس سے سالم رہیں اور وہ لوگوں سے سالم رہے۔

9626

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9626

Sahih

۔ (۹۶۲۶)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَوْصَانِیْ حِبِّيْ بِخَمْسٍ: اَرْحَمُ الْمَسَاکِیْنَ وَاُجَالِسُھُمْ، وَاَنْظُرُ اِلٰی مَنْ ھُوَ تَحْتِیْ وَلَا اَنْظُرُ اِلٰی مَنْ ھُوَ فَوْقِیْ، وَاَنْ اَصِلَ الرَّحِمَ وَاِنْ اَدْبَرَتْ، وَاَنْ اَقُوْلَ بِالْحَقِّ وَاِنْ کَانَ مُرًّا، وَاَنْ اَقُوْلَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ یَقُوْلُ مَوْلٰی غُفْرَۃَ: لَا اَعْلَمُ بَقِیَ فِیْنَا مِنَ الْخَمْسِ اِلَّا ھٰذِہِ، قَوْلُنَا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ قَالَ اَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنَ الْحَکْمِ بْنِ مُوْسٰی وَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے محبوب نے مجھے پانچ امور کی نصیحت کی،یہ کہ میں مسکینوں پر رحم کروں اور ان کے ساتھ بیٹھو، (دنیا کے معاملے میں) اپنے سے کم تر افراد کی طرف دیکھوں، اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں، صلہ رحمی کروں، اگرچہ وہ پیٹھ پھیر رہی ہو، حق کہوں، اگرچہ وہ کڑوا ہو اور یہ کہ میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہوں۔ غفرہ کا غلام کہتا ہے: میرے علم کے مطابق ہم میں ان پانچ امور میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، ما سوائے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے۔

9627

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9627

Sahih

۔ (۹۶۲۷)۔ عَنِ الْحَارِثِ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَ یَحْيَ بْنَ ذَکَرِیَّا، بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ یَعْمَلُ بِھِنَّ وَاَنْ یَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَیَعْمَلُوْا بِھِنِّ، فَکَادَ اَنْ یُبْطِیئَ، فَقَالَ َلہ عِیْسٰی: اِنَّکَ قَدْ اُمِرْتَ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ تَعْمَلَ بِھِنِّ وَاَنْ تَاْمُرَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اَنْ یَعْمَلُوْا بِھِنِّ، فَاِمَّا اَنْ تُبَلِّغَھُنَّ وَاِمَّا اُبَلِّغَھُنَّ، فَقَالَ لَہُ: یَا اَخِیْ! اِنِّیْ اَخْشٰی اِنْ سَبَقْتَنِیْ اَنْ اُعَذَّبَ، اَوْ یُخْسَفَ بِیْ، قَالَ: فَجَمَعَ یَحْيٰ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ فِیْ بَیْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّی اِمْتَلَاَ الْمَسْجِدُ، وَقُعِدَ عَلَی الشُّرَفِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَمَرَنِیْ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ اَنْ اَعْمَلَ بِھِنِّ وَآمُرَکُمْ اَنْ تَعْمَلُوْا بِھِنِّ، اَوَّلُھُنَّ اَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرٰی عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِہِ بِوَرِقٍ، اَوْ ذَھَبٍ، فَجَعَلَ یَعْمَلُ وَیُؤَدِّیْ عَمَلَہُ اِلٰی غَیْرِ سَیِّدِہِ، فَاَیُّکُمْیَسُرُّہُ اَنْ یَکُوْنَ عَبْدُہُ کَذٰلِکَ، وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَکُمْ وَرَزَقَکُمْ فَاعْبُدُوْہُ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا وَآمُرُکم بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَنْصِبُ وَجْھَہَ لِوَجْہِ عَبْدِہِ مَالَمْ یَلْتَفِتْ، فَاِذَا صَلَّیْتُمْ فَـلَا تَلْتَفِتُوْا، وَآمُرُکُمْ بِالصِّیَامِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَہُ صُرَّۃٌ مِنْ مِسْکٍ فِیْ عِصَابَۃٍ کُلُّھُمْ یَجِدُ رِیْحَ الْمِسْکِ، وَاِنَّ خَلُوْفَ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللّٰہِ اَطْیَبُ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ، وَآمُرُکُمْ بِالصَّدَقَۃِ فَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ اَسَرَہُ الْعَدُوُّ فَشَدُّوْا یَدَیْہِ اِلٰی عُنُقِہِ وَقََرَّبُوْہُ لِیَضْرِبُوْا عُنُقَہُ فَقَالَ: ھَلْ لَکُمْ اَنْ اَفْتَدِیَ نَفْسِیْ مِنْکُمْ ؟ فَجَعَلَ یَفْتَدِیْ نَفْسَہُ مِنْھُمْ بِالْقَلِیْلِ وَ الْکَثِیْرِ حَتّٰی فَکَّ نَفْسَہَ ۔ وَ آمُرُکُمْ بِذِکْرِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَثِیْرًا، وَاِنَّ مَثَلَ ذٰلِکَ کَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَہُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِیْ اَثَرِہِ فَاَتٰی حِصْنًا حَصِیْنًا فَتَحَصَّنَ فِیْہِ وَاِنَّ الْعَبْدَ اَحْصَنُ مَایَکُوْنُ مِنَ الشَّیْطَانِ اِذَا کَانَ فِیْ ذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ، اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنِّ بِالْجَمَاعَۃِ، وَبِالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، وَالْھِجْرَۃِ، وَالْجِھَادِ فِیْ سِبِیْلِ اللّٰہِ، فَاِنَّہُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَۃِ قِیْدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ مِنْ عُنُقِہِ، اِلٰی اَنْ یَّرْجِعَ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ فَھُوَ مِنْ جُثَائِ جَھَنَّمَ۔)) قَالُوْا: یارَسُوْلَ اللہِ! وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی؟ قَالَ: ((وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ، فَادْعُوْا الْمُسْلِمِیْنَ بِمَا سَمَّاھُمُ اللّٰہُ الْمُسْلِمِیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ عِبَادَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حارث اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ کلمات کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، انھوں نے لوگوں کو بتانے میں دیر کی، عیسی علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ کو پانچ کلمات کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنو اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں، اب آپ ان کو بتلائیںیا میں بتلا دیتا ہوں، انھوں نے کہا: اے میرے بھائی! اگر آپ مجھ سے پہلے بتلا دیں تو مجھے یہ ڈر ہو گا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے عذاب دیا جائے یا مجھے دھنسا دیا جائے۔ پس یحییٰ علیہ السلام نے بنو اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا،یہاں تک کہ مسجد بھر گئی، پھر ان کو اونچی جگہ پر بٹھا دیا گیا، پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تم کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں، پہلا حکم یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، پس بیشک مشرک کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے اپنے خالص مال چاندییا سونے کے عوض غلام خریدا، لیکن ہوا یوں کہ وہ غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کے لیے کام کرنے لگا، اب تم میں سے کس کو یہ بات خوش کرے گی کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اور تم کو رزق دیا ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور میں تم کو نماز کا حکم دیتا ہوں، پس بیشک اللہ تعالیٰ اپنا چہرہ بندے کے چہرے کی خاطر اس وقت تک متوجہ کیے رکھتے ہیں، جب تک وہ اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو، اس لیے جب نماز پڑھو تو اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہوا کرو، اور میں تمہیں روزوں کا حکم دیتا ہوں، ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس کے پاس کستوری کی تھیلی ہو اور سارے لوگ کستوری کی خوشبو محسوس کر رہے ہوں، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے ، اور میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس کو اس کے دشمن نے قید کر کے اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیتے ہوں اور اس کی گردن کاٹنے کے لیے اس کو قریب کر لیا ہو اور وہ آگے سے کہے: اگر میں اپنے نفس کے عوض اتنا فدیہ دے دوں تو کیا تم مجھے چھوڑ دو گے؟ پھر اس نے کم مقدار اور زیادہ مقدار فدیہ دینا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اپنے آپ کو بچا لیا، اور میں تم کو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کا دشمن جلدی کرتے ہوئے اس کا تعاقب کر رہا ہو، لیکن وہ مضبوط قلعے میں پہنچ کر قلعہ بند ہو گیا، اور بیشک بندہ شیطان سے سب سے زیادہ حفاظت میں اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میںمصروف ہوتا ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بھی تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے، (وہ پانچ چیزیں یہ ہیں:) جماعت، امیر کی بات سننا اور اطاعت کرنا، ہجرت کرنا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، پس جو آدمی ایک بالشت کے بقدر جماعت سے نکل گیا، اس نے واپس پلٹنے تک اپنی گردن سے اسلام کا معاہدہ اتار پھینکا اور جس نے جاہلیت کی پکار پکاری، وہ جہنم کی جماعت میں سے ہوگا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزے بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ روزہ بھی رکھے اور نماز بھی پڑھے اور یہ گمان بھی کرے کہ وہ مسلمان ہے، پس مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے رکھے ہوئے نام سے پکارو، یعنی مسلمان، مؤمن، اللہ تعالیٰ کے بندے۔