Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 161 · Chapter 1893

نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے مسائل

اس واجب کو ادا نہ کرنے والی ہر امت کی ہلاکت کا بیان

10 hadiths in this chapter

9538

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9538

Sahih

۔ (۹۵۳۸)۔ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ خَالِدٍ، عَنْ قَیْسٍ قَالَ: قَامَ اَبُوْبَکْرٍ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَااَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ ھٰذِہِ الْآیَۃَ {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ} وَاِنَّا سَمِعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوُا الْمُنْکَرَ فَلَمْ یُغَیِّرُوْہُ اَوْشَک اَنْ یَعُمَّھُمُ اللّٰہُ بِعِقَابِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ قیس کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر کہا: لوگو! بیشک تم یہ آیت پڑھتے ہو: اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔ (سورۂ مائدہ: ۱۰۵) ، لیکن ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک جب لوگ برائی کو دیکھ کر اس کو تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کردے۔

9539

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9539

Zaeef

۔ (۹۵۳۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ فِی الْمَعَاصِیْ، نَھَتْھُمْ عُلَمَاؤُھُمْ، فَلَمْ یَنْتَھُوْا فَجَالَسُوْھُمْ فِیْ مَجَالِسِھِمْ، قَالَ یَزِیْدُ: اَحْسِبُہُ قَالَ: وَاَسْوَاقِھِمْ، وَوَاکَلُوْھُمْ وَشَارَبُوْھُمْ، فَضَرَبَ اللّٰہُ قُلُوْبَ بَعْضِھِمْ بِبَعْضٍ، وَلَعَنَھُمْ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ،وَعَیْسَی بْنِ مَرْیَمَ، ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۔)) وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَّکِئًا، فَجَلَسَ، فَقَالَ: ((وَالَّذِی نفْسِیْ بِیِدِہِ! حَتّٰی تَاْطِرُوْھُمْ عَلَی الْحَقِّ اَطْرًا۔)) (مسند احمد: ۳۷۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بنو اسرائیل میں نافرمانیاں شروع ہوئیں تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا، لیکن جب وہ باز نہ آئے تو ان کے علماء نے ان کے ساتھ ان کی مجلسوں اور بازاروں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا شروع کر دیا، پس اللہ تعالیٰ نے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا اور داود علیہ السلام اور عیسی بن مریم علیہ السلام کی زبانوں کے ذریعے ان پر لعنت کی،یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نافرمانی اور زیادتی کرتے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (اس وقت کام بنے گا) جب تم ان کو حق کی طرف موڑو گے۔

9540

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9540

Sahih

۔ (۹۵۴۰)۔ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیْرٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ قَوْمٍ یَعْمَلُوْنَ بِالمْعَاصِیْ، وَفِیْھِمْ رَجُلٌ اَعَزُّ مِنْھُمْ وَاَمْنَعُ لَا یُغَیِّرُوْنَ، اِلَّا عَمَّھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعِقَابٍ اَوْ قَالَ: اَصَابَھُمُ الْعِقَابُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ نافرمانیاں کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ ان میں سے ایک ایسا آدمی بھی موجود ہوتا ہے جو سب سے زیادہ عزت والا ہوتا ہے اور اس کے لیےیہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ ان کو اس برائی سے روک سکے، لیکن وہ روکتا نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر عام سزا نازل کر دیتا ہے۔

9541

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9541

Zaeef

۔ (۹۵۴۱)۔ عَنْ مُنْذِرٍ الْثَوْرِیِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ اِمْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ ھِیَ حَیَّۃٌ الْیَوْمَ اِنْ شِئْتَ اَدْخَلْتُکَ عَلَیْھَا، قُلْتُ: لَا، حَدِّثْنِیْ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ، فَدَخَلَ عَلَیْھَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَاَنَّہُ غَضْبَانُ، فَاسْتَتَرْتُ مِنْہُ بِکُمِّ دِرْعِیْ، فَتَکَلَّمَ بِکَلَامٍ لَمْ اَفْھَمْہُ، فَقُلْتُ:یَا اَمَّ الْمُؤُمِنِیْنَ، کَاَنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ وَھُوَ غَضْبَانُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ اَوَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ؟ قَالَتْ: وَمَا قَالَ؟ قَالَتْ: قَالَ: اِنَّ الشَّرَّ اِذَا فَشَا فِی الْاَرْضِ فَلَمْ یُتَنَاہَ عَنْہُ، اَرْسَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بَاْسَہَ عَلٰی اَھْلِ الْاَرْضِ، قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَفِیْھِمُ الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَفِیْھِمُ الصَّالِحُوْنَ، یُصِیْبُھُمْ مَا اَصَابَ النَّاسَ، ثُمَّ یُقْبِضُھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی مَغْفِرَتِہِ وَرِضْوَانِہِ، اَوْ اِلٰی رِضْوَانِہِ وَمَغْفِرَتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حسن بن محمد کہتے ہیں: مجھے ایک انصاری خاتون نے بیان کیا، وہ ابھی تک زندہ ہے، اگر تو چاہتا ہو تو میں تجھے اس کے پاس لے جاتا ہوں، اس نے کہا: نہیں، بس تم مجھے بیان کرو، اس خاتون نے کہا: میں سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئی، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، لیکن یوں لگ رہا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں ہیں، میں نے اپنی قمیص کی آستین کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پردہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ کلام کیا، لیکن میں نہ سمجھ پائی، میں نے کہا: اے ام المؤمنین! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں تشریف لائے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیا تو نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سنی نہیں ہے؟ میں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا فرمایا؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جب زمین میں شرّ پھیل جائے گا اور پھر اس سے باز نہیں رہا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کر دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسی حالت میں کہ ان میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ان میں نیکوکار بھی ہوں گے، لیکن لوگوں پر نازل ہونے والا عذاب ان کو بھی اپنی گرفت میں لے لے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی بخشش اور رضامندی کی طرف لے جائے گا۔

9542

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9542

Zaeef

۔ (۹۵۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا رَاَیْتَ اُمَّتِیْ لَا یَقُوْلُوْنَ لِلظَّالِمِ مِنْھُمْ: اَنْتَ ظَالِمٌ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۶۷۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو میری امت کو اس طرح دیکھے گا کہ وہ ظالم کو یوں نہیں کہے گی کہ تو ظالم ہے تو (سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت) ان سے اٹھا لی گئی ہے۔

9543

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9543

Sahih

۔ (۹۵۴۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَاْخُذَ اللّٰہُ شَرِیْطَتَہُ مِنْ اَھْلِ الْاَرْضِ، فَیَبْقٰی فِیْھَا عَجَاجَۃٌ، لَایَعْرِفُوْنَ مَعْرُوْفًا، وَلَا یُنْکِرُوْنَ مُنْکَرًا۔)) (مسند احمد: ۶۹۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین سے خیر اور دین والے لوگوں کو لے جائے اور ایسے گھٹیا لوگ رہ جائیں، جو نہ نیکی کو پہچانتے ہوں گے اور نہ برائی سے روکتے ہوں گے۔

9544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9544

Sahih

۔ (۹۵۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، یَرْفِعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یُوَقِّرِ الْکَبِیْرَ، ویَرْحَمِ الصَّغِیْرَ، وَیَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَیَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پرشفقت نہ کرے، نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔

9545

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9545

Sahih

۔ (۹۵۴۵)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْقَائِمِ عَلٰی حُدُوْدِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْمُدْھِنِ فِیْھَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَالْوَاقِعُ فِیْھَا) کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَھَمُوْا عَلٰی سَفِیْنَۃٍ فِی الْبَحْرِ فَاَصَابَ بَعْضُھُمْ اَسْفَلَھَا وَاَصَابَ بَعْضُھُمْ اَعَلَاھَا، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِیْ اَسْفَلِھَا یَصْعَدُوْنَ فَیَسْتَقُوْنَ الْمَائَ فَیَصُبُّوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ فِیْ اَعْلَاھَا، فَقَالَ الَّذِیْنَ فِیْ اَعْلَاھَا: لَا نَدَعُکُمْ تَصْعَدُوْنَ فَتُؤُذُوْنَنَا، فَقَالَ الَّذِیْنَ فِیْ اَسْفَلِھَا: فَاِنَّا نَنْقُبُھَا مِنْ اَسْفَلِھَا فَنَسْتَقِیْ، قَالَ: فَاِنْ اَخَذُوْا عَلٰی اَیْدِیْھِمْ فَمَنَعُوْھُمْ نَجَوْا جَمِیْعًا وَاِنْ تَرَکُوْھُمْ غَرَقُوْا جَمِیْعًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرنے اور ان کو پھلانگنے والے کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے، جنھوںنے سمندری سفر کرنے کے لیے کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کی، بعض اس کے نچلے حصے میں آ گئے اور بعض اوپر والے حصے میں، نچلے حصے والے پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے کی طرف چڑھتے تھے اور اوپر والوں پر پانی گر جاتا تھا، پس انھوں نے کہا: ہم تم کو اس طرح نہیں چھوڑیں گے کہ تم اوپر چڑھتے رہو اور ہمیں تکلیف دو، یہ سن کر نیچے والوں نے کہا: تو پھر ہم پانی حاصل کرنے کے لیے نیچے سے سوراخ کر لیتے ہیں، پس اگر اوپر والوں نے ان کے ہاتھوں کو پکڑ کر ان کو ایسا کرنے سے روک لیا تو وہ سارے کے سارے نجات پا جائیں گے اور اگر انھوں نے اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا تو سارے غرق ہو جائیں گے۔

9546

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9546

Sahih

۔ (۹۵۴۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَتٰی نَدَعُ الُاِئْتَمَارَ باِلْمَعْرُوْفِ وَالْنَھْیَ عَنِ الْمُنْکَرِ؟ قَالَ: ((اِذَا ظَھَرَ فِیْکُمْ مَاظَھَرَ فِیْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ، اِذَا کَانَتِ الْفَاحِشَۃُ فِیْ کِبَارِکُمْ وَالْمُلْکُ فِیْ صِغَارِکُمْ، وَالْعِلْمُ فِیْ رِذَالِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کب نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کو ترک کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب وہ امور دکھائی دینے لگیں، جو بنو اسرائیل میں نمودار ہوئے تھے اور وہ یہ ہیں کہ جب بے حیائی بڑوں میں، بادشاہت چھوٹوں میں اور علم گھٹیا لوگوں میں آ جائے گا۔

9547

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9547

Sahih

۔ (۹۵۴۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَرَفْتُ فِیْ وَجْھِہِ اَنْ قَدْ حَفَزَہُ شَیْئٌ، فَتَوَضَّاَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ یُکَلِّمْ اَحَدًا ، فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((یَااَیُّھَا النَّاسُ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: مُرُوْا باِلْمَعْرُوْفِ، وَانْھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ، مِنْ قَبْلِ اَنْ تَدْعُوْنِیْ فَـلَا اُجِیْبُکُمْ، وَتَسْاَلُوْنِیْ فَـلَا اُعْطِیْکُمْ، وَتَسْتَنْصِرُوْنِیْ فَـلَا اَنْصُرُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے پہنچان گئی کہ کسی چیز نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کچھ کرنے پر آمادہ کیا ہے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور کسی سے کلام کیے بغیر باہر چلے گئے، میں حجروں کے قریب ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نیکی کا حکم دیا کرو اور برائی سے منع کیا کرو، قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو گے، لیکن میں تم کو جواب نہیں دوں گا، تم مجھ سے سوال کرو گے، لیکن میں تم کو عطا نہیں کروں گا اور تم مجھ سے مدد طلب کرو گے، لیکن میں تمہاری مدد نہیں کروں گا۔