Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 16 · Chapter 141

نواقض الوضو کے ابواب

بے وضگی کا شک پڑ جانے کا بیان

4 hadiths in this chapter

765

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #765

Sahih

۔ (۷۶۵)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ فِی صَلَاتِہِ حَرْکَۃً فِیْ دُبُرِہِ فَأَشْکَلَ عَلَیْہِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ یُحْدِثْ فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوتًا أَوْ یَجِدَ رِیْحًا۔)) (مسند أحمد: ۹۳۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی دُبُر میں کوئی حرکت پائے، جس کی وجہ سے وہ اِس اشکال میں پڑ جائے کہ وہ بے وضو ہو گیا ہے یا نہیں، تو ایسی صورت میں وہ (وضو کے لیے) اس وقت تک نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پالے۔

766

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #766

Sahih

۔ (۷۶۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ أَحَدَکُمْ اِذَا کَانَ فِی الصَّلٰوۃِ جَائَ ہُ الشَّیْطَانُ فَأَبَسَّ بِہٖ کَمَا یَبُسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِہِ فَاِذَا سَکَنَ لَہُ أَضْرَطَ بَیْنَ اِلْیَتَیْہِ لِیَفْتِنَہُ عَنْ صَلَاتِہِ، فَاِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمْ مِنْ ذَالِکَ فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ یَجِدَ رِیْحًا لَا یَشُکُّ فِیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کو وسوسے میں ڈالنے کے لیے اس کے پاس آ کر وہ اس طرح مختلف حیلے استعمال کرتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور کو روکنے کے لیے بِس بِس کرتا ہے، جب وہ بندہ اس (شیطان سے) مانوس ہو جاتا ہے تو وہ اس کے سرینوں میں گوزمارتا ہے، تاکہ وہ اس کو نماز کے سلسلے میں فتنے میں ڈال دے۔ (تو یاد رکھو کہ) جب تم میں کوئی آدمی اس چیز کو محسوس کرے تو وہ اس وقت تک (وضو کے لیے) نہ جائے، جب تک واضح طور پر آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔

767

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #767

Sahih

۔ (۷۶۷)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّیطَانَ یَأْتِیْ أَحَدَکُمْ وَہُوَ فِی الصَّلَاۃِ فَیَاخُذُ شَعْرَہُ مِنْ دُبُرِہِ فَیَمُدُّہَا فَیَرَی أَنَّہُ قَدْ أَحْدَثَ، فَلَا یَنْصَرِفْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ یَجِدَ رِیْحًا۔)) (مسند أحمد: ۱۱۹۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اس کی دُبُر کے بَالَ پکڑ کر کھینچتا ہے، اس سے بندے کو یہ وہم ہو نے لگتا ہے کہ وہ ہوا خارج ہونے کی وجہ سے بے وضو ہو گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کوئی آدمی وضو کے لیے اس وقت تک نہ جائے، جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پا لے۔

768

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #768

Sahih

۔ (۷۶۸)۔عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَمِّہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ) ؓ، أَنَّہُ شَکَا اِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجِدُ الشَّیئَ فِی الصَّلَاۃِ یُخَیَّلُ اِلَیہِ أَنَّہُ قَدْ کَانَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((لَا یَنْفَتِلُ حَتَّی یَجِدَ رِیحًا أَو یَسْمَعَ صَوتًا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ شکایت کی ہے کہ وہ نماز کے اندر (وضو توڑ دینے والی) ایسی چیز پاتا ہے کہ اس کو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ واقعی کچھ ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی صورتحال میں وہ جب تک بو نہ پا لے یا آواز نہ سن لے، اس وقت تک نماز سے نہ پھرے۔