Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 16 · Chapter 139

نواقض الوضو کے ابواب

ہواخارج ہونے سے وضو کرنا

5 hadiths in this chapter

758

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #758

Zaeef

۔ (۷۵۸)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: جَائَ أَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَکُونُ بِالْبَادِیَۃِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَیْحَۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ، اِذَا فَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَائَ فِی أَعْجَازِہِنَّ، وَقَالَ مَرَّۃً: فِی أَدْبَارِہِنَّ)) (مسند أحمد:۶۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی بن طلق ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جنگل میں ہوتے ہیں اور کسی کی ہوا نکل جاتی ہے، (ایسے میں کیا کریں)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حق کو بیان کرنے سے نہیں شرماتا، جب تم میں کوئی اس طرح کرتا ہے تو وہ وضو کیا کرے اور عورتوں کو پشت سے استعمال نہ کیا کرو۔

759

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #759

Sahih

۔ (۷۵۹)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَالَ: رَأَیْتُ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ ؓ یَشُمُّ ثَوْبَہُ، فَقُلْتُ لَہُ: مِمَّ ذَالِکَ؟ فَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا وُضُوئَ اِلَّا مِنْ رِیْحٍ أَوْ سِمَاعٍ)) (مسند أحمد: ۱۵۵۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سیدنا سائب بن خباب ؓ کو دیکھا کہ وہ اپنے کپڑے کو سونگ رہے تھے، میں نے کہا: ایسے کیوں کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: صرف بدبوسے یا ہوا کی آواز سن لینے سے وضو ہے۔

760

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #760

Sahih

۔ (۷۶۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا وُضُوْئَ اِلَّا مِنْ حَدَثٍ أَوْ رِیْحٍ۔)) (مسند أحمد: ۹۳۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وضو کرنا نہیں ہے، مگر ہوا کی آواز سے یا بو پا لینے سے۔

761

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #761

Sahih

۔ (۷۶۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تُقْبَلُ صَلَاۃُ مَنْ أَحْدَثَ حَتّٰی یَتَوَضَّأَ۔)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: مَا الْحَدَثُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ؟ قَالَ: فُسَائٌ أَوْ ضُرَاطٌ۔ (مسند أحمد: ۸۰۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بے وضو ہو جانے والا جب تک وضو نہیں کرے گا، اس وقت تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ یہ سن کر حضرموت کے ایک باشندے نے ان سے سوال کیا: اے ابوہریرہ! حَدَث سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا۔

762

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #762

Sahih

۔ (۷۶۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمٰی مَوْلَاۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ امْرَأۃُ أَبِیْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَسْتَأْذِنُہُ عَلٰی أَبِیْ رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَہَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَبِیْ رَافِعٍ: ((مَالَک وَلَہَا یَا أَبَا رَافِعٍ؟)) قَالَ: تُؤْذِیْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِمَ آذَیْتِیْہِ یَا سَلْمٰی؟)) قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا آذَیْتُہُ بِشَیْئٍ وَلَکِنَّہُ أَحْدَثَ وَہُوَ یُصَلِّیْ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِیْنَ اِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِہِمُ الرِّیَحُ أَن یَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَضَرَبَنِیْ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضْحَکُ وَیَقُوْلُ: ((یَا أَبَا رَافِعٍ! اِنَّہَا لَمْ تَأْمُرْکَ اِلَّا بِخَیْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۸۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ کی لونڈی یا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غلام سیدنا ابو رافعؓ کی بیوی سیدہ سلمی اپنے خاوند کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئیں، اس نے اس کو مارا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا ابو رافعؓ سے فرمایا: ابو رافع! تیرا اور اس کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سلمی! تو نے اس کو کون سی تکلیف دی ہے ؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو کوئی تکلیف نہیں دی، یہ بات ضرور ہوئی کہ نماز کے اندر اس کا وضو ٹوٹ گیا، اس لیے میں نے اس سے کہا: اے ابو رافع! بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ وضو کیا کرے، لیکن یہ کہنا تھا کہ انھوں نے اٹھ کر مجھے مارنا شروع کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یہ سن کر مسکرانے لگ گئے اور یہ فرمانے لگے: ابو رافع! اس نے تو تجھے خیر کا ہی حکم دیا تھا۔