Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 159 · Chapter 1882

محبت اور صحبت کے مسائل

کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان

4 hadiths in this chapter

9465

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9465

Sahih

۔ (۹۴۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَرَجَ رَجُلٌ یَزُوْرُ اَخًا لَہُ فِی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فِیْ قَرْیَۃٍ اُخْرٰی، فَاَرْصَدَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِمَدْرَجَتِہِ مَلَکًا، فَلَمَّا مَرَّ بِہٖقَالَ: اَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ: اُرِیْدُ فُلَانًا، قَالَ: لِقَرَابَۃٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلِنِعْمَۃٍ لَہُ عِنْدَکَ تَرُبُّھَا؟ قَالَ:لَا،قَالَ: فَلِمَ تَاْتِیْہِ؟ قَالَ: اِنِّیْ اُحِبُّہُ فِی اللّٰہِ، قَالَ: فَاِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکَ اَنَّہُ یُحِبُّکُ بِحُبِّکَ اِیَّاہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے کسی بھائی کی زیارت کے لیے نکلا، وہ کسی دوسرے گاؤں میں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو مقرر کر دیا، پس جب وہ اس کے پاس سے گزرا تو اس فرشتے نے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: جی فلاں کو ملنے کا ارادہ ہے، فرشتے نے کہا: کسی رشتہ داری کی وجہ سے؟ اس نے کہا: جی نہیں، فرشتے نے کہا: تو پھر اس کا تجھ پر کوئی احسان ہے کہ اس کی خاطر تو جا رہا ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اس نے پوچھا: تو پھر اس کے پاس کیوں جا رہا ہے؟ اس نے کہا: بیشک میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں، فرشتے نے کہا: دراصل میں تیری طرف اللہ تعالیٰ کا قاصد ہوں اور یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ اس آدمی سے تیری اس محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے محبت کرتا ہے۔

9466

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9466

Sahih

۔ (۹۴۶۶)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا زَارَ الْمُسْلِمُ اَخَاہُ فِی اللّٰہِ اَوْعَادَہُ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: طِبْتَ وَتَبَوَّاْتَ مِنَ الْجَنَّۃِ مَنْزِلًا۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) بَعْدَ قَوْلِہِ: طِبْتَ(وَطَابَ مَمْشَاکَ)۔ (مسند احمد: ۸۳۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے بھائی کی زیارت یا عیادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پاکیزہ ہوا اور تو نے جنت سے ٹھکانہ تیار کر لیا۔ ایک روایت میں ہے: تو بھی پاکیزہ ہے اور تیرا چلنا بھی پاکیزہ ہے۔

9467

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9467

Sahih

۔ (۹۴۶۷)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ اَخاہُ الْمُسْلِمَ فَھُوَ فِیْ مَخْرَفَۃِ الْجَنَّۃِ وَفِیْ لَفْظٍ فَھُوَ فِیْ اَخْرَافِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَرْجِعَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرنے کے لیے جاتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغوں میں رہتا ہے۔

9468

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9468

Sahih

۔ (۹۴۶۸)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ عَادَ مَرِیْضًا لَمْ یَزَلْ فِیْ خُرْفَۃِ الْجَنَّۃِ۔))، قِیْلَ: وَمَا خُرْفَۃُ الْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((جَنَاھَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی تیمارداری کی، وہ اتنی دیر جنت کے چنے ہوئے میوے میں رہا۔ کسی نے کہا: جنت کے خُرْفَۃ سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا چنا ہوا میوہ۔