Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 159 · Chapter 1879

محبت اور صحبت کے مسائل

اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے ثواب اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں تیار کیے گئے اجر ِ عظیم اور ہمیشہ کی نعمت کا بیان

6 hadiths in this chapter

9454

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9454

Zaeef

۔ (۹۴۵۴)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُتَحَابِّیْنَ لَتُرٰی غُرَفُھُمْ فِی الْجَنَّۃِ کَالْکَوْکَبِ الطَّالِعِ الشَّرَقِیِّ اَوِالْغَرَبِیِّ فَیُقَالُ: مَنْ ھٰؤُلائِ فَیُقَال: ھٰؤُلَائُ الْمُتَحَابُّوْنَ فِی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے جنت میں بالا خانے اس طرح نظر آئیں گے، جیسے مشرق یا مغرب میں طلوع ہونے والا ستارہ نظر آتا ہے، پس جب کہا جائے گا کہ یہ لوگ کون ہیں، تو جواب دیا جائے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے والے ہیں۔

9455

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9455

Sahih

۔ (۹۴۵۵)۔ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَلْمُتَحَابُّوْنَ بِجَلَالِیْ فِیْ ظِلِّ عَرْشِیْیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والے اس دن میرے عرش کے سائے میں ہوں گے، جس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔

9456

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9456

Sahih

۔ (۹۴۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا اَکْرَمَ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بندے سے محبت کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کا اکرام کرتا ہے۔

9457

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9457

Sahih

۔ (۹۴۵۷)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُؤُمِنُ مَاْلَفَۃٌ وَلَا خَیْرَ فِیْمَنْ لَا یَاْلَفُ وَلَا یُؤْلَفُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن وہ ہے جو مانوس ہوتا ہے اور جس سے مانوس ہوا جاتا ہے اوراس آدمی میں کوئی خیر و بھلائی نہیں جو نہ کسی سے مانوس ہوتا ہے اور نہ کوئی اس سے مانوس ہوتا ہے۔

9458

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9458

Sahih

۔ (۹۴۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِیِّ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ فَاِذَا فِیْہِ نَحْوٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ کَھْلًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا فِیْھِمْ شَابٌّ اَکْحَلُ الْعَیْنَیْنِ، بَرَّاقُ الثَّنَایَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَسَنُ الْوَجْہِ اَدْعَجُ الْعَیْنَیْنِ اَغَرُّ الثَّنَایَا) سَاکِتٌ، فَاِذَا اِمْتَرَی الْقَوْمُ فِیْ شَیْئٍ اَقْبَلُوْا عَلَیْہِ فَسَاَلُوْہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا اخْتَلَفُوْا فِیْ شَیْئٍ فَقَالَ: قَوْلًا اِنْتَھُوْا اِلٰی قَوْلِہِ) فَقُلْتُ لِجَلِیْسٍ لِیْ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَوَقَعَ لَہُ فِیْ نَفْسِیْ حُبٌّ، فکُنْتُ مَعَھُمْ حَتّٰی تَفَرَّقُوْا، ثُمَّ ھَجَّرْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ فَاِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَائِمٌ یُصَلِّیْ اِلٰی سَارِیَۃٍ، فَسَکَتَ لَا یُکَلِّمُنِیْ فَصَلَّیْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَاحْتَبَیْتُ بِرَدَائٍ لِیْ، ثُمَّ جَلَسَ فَسَکَتَ لَا یُکَلِّمُنِیْ، وَسَکَتُّ لَا اُکَلِّمُہُ، ثُمَّ قُلْتُ: وَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُحِبُّکَ، قَالَ: فِیْمَ تُحِبُّنِیْ؟ قَالَ: قُلْتُ: فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فاَخَذَ بِحَبْوَتِیْ فَجَرَّنِیْ اِلَیْہِ ھُنَیَّۃً، ثُمَّ قَالَ: اَبْشِرْ اِنْ کُنْتَ صَادِقًا، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلْمُتَحَابُّوْنَ فِی جَلَالِیْ لَھُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُوْرٍ، یَغْبِطُھُمُ النَّبِیُّوْنَ وَالشُّھَدَائُ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) اَحْسِبُ اَنَّہُ قَالَ: ((فِیْ ظِلِّ اللّٰہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلَّہُ۔)) (وَفِیْ اُخْرٰی) ((یُوْضَعُ لَھُمْ کَرَاسِیُّ مِنْ نُوْرٍ، یَغْبِطُھُمْ بِمَجْلِسِھِمْ مِنَ الرَّبِّ النَّبِیُّوْنَ وَالصِّدِّیْقُوْنَ وَالشُّھَدَائُ۔)) قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَلَقِیْتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ فَقُلْتُ:یَا اَبَا الْوَلِیْدِ اَلا اُحَدِّثُکَ بِمَا حَدَّثَنِیْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِی الْمُتَحَابِّیْنَ؟ قَالَ: فَاَنَا اُحَدِّثُکَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْفَعُہُ اِلَی الرَّبِّ عَزَّوَجَلَّ قَالَ: ((حَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَحَابِّیْنَ فِیَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِی لِلْمُتَزَاوِرِیْنَ فِیَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَبَاذِلِیْنَ فِیَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَوَاصِلِیْنَ فِیَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو مسلم خولانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حمص کی مسجد میں گیا، اس میں تیس بزرگ صحابہ کرام تشریف فرما تھے، ان میں ایسا نوجوان بھی تھا، جس کی آنکھیں سرمگیں اور دانت چمکنے والے تھے، ایک روایت میں ہے: اس کا چہرہ خوبصورت تھا، اس کی آنکھیں سیاہ اور فراخ تھیں اور اس کے دانت چمکنے والے تھے، وہ خاموش بیٹھا ہوا تھا، جب لوگوں میں کوئی اختلاف پڑتا تو وہ اسی نوجوان سے سوال کرتے، میں نے اپنے ساتھ بیٹھنے والے سے کہا: یہ نوجوان کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، میرے دل میں اس کے لیے بڑی محبت پیدا ہوئی، پھر میں ان لوگوں کے ساتھ ہی رہا، یہاں تک کہ وہ متفرق ہو گئے، پھر میں جلدی جلدی مسجد کی طرف آیا اور دیکھا کہ سیدنا معاذ بن جبل ایک ستون کے ساتھ کھڑے نماز ادا کر رہے تھے، پھر وہ خاموش رہے اور مجھ سے کوئی بات نہیں کی، میں نے بھی نماز پڑھی اور اپنی چادر سے گوٹھ مار کر بیٹھ گیا، پھر وہ بھی فارغ ہو کر بیٹھ گئے اور مجھ سے کوئی بات نہیں ہے، میں بھی خاموش رہا اور ان سے کوئی بات نہیں کی، پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے کہا: تو مجھ سے کیوں محبت کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ کے لیے، پس اس نے میرے گوٹھ کا کپڑا پکڑا اور تھوڑا سا اپنی طرف کھینچ لیا اور پھر کہا: اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو خوش ہو جا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میرے جلال کی وجہ سے محبت کرنے والوں کے نور کے ایسے منبر ہوں گے کہ انبیاء و شہداء کو ان پر رشک آئے گا۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس دن اللہ کے سائے میں ہوں گے، جس دن کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔ ایک اور روایت میں ہے: ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے قریب جو بیٹھک بیٹھیں گے، اس پر انبیاء، صدیقین اور شہداء کو رشک آئے گا۔ پھر میں وہاں سے نکلا اور سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور کہا: اے ابو الولید! آپس میں محبت کرنے والوں کے بارے میں جو حدیث سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کی، کیا میں وہ آپ کو بیان کروں؟ انھوں نے کہا: میں تجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ سے روایت کی، اللہ تعالیٰ نے کہا: میرے وجہ سے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو گئی، میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہو گئی ہے، میرے نام پر خرچ کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہوگئی اور میری وجہ سے صلہ رحمی کرنے والوں کے لیے میری محبت ثابت ہوگئی۔

9459

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9459

Zaeef

۔ (۹۴۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ اسْمَعُوْا وَاعْقِلُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ عِباَدًا لَیْسُوْا بِاَنْبِیَائَ وَلَا شُھَدَائَ، یُغْبِطُھُمُ الْاَنْبِیَائُ وَالشُّھَدَائُ عَلٰی مَجَالِسِھِمْ وَقُرْبِھِمْ مِنَ اللّٰہِ۔)) فَجَائَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَعْرَابِ مِنْ قَاصِیَۃِ النَّاسِ وَاَلْوٰی بِیَدِہِ اِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ:یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! نَاسٌ لَیْسُوْا بِاَنْبِیَائَ وَلَا شُھَدَائَ،یَغْبِطُھُمُ الْاِنْبِیَائُ وَالشُّھَدَائُ عَلٰی مَجَالِسِھِمْ وَقُرْبِھِمْ مِنَ اللّٰہِ! انْعَتْھُمْ لَنَا، یَعْنِیْ صِفْھُمُ لَنَا، فَسُرَّ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِسُؤَالِ الْاَعْرَابِیِّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُمْ نَاسٌ مِنْ اَفْنَائِ النَّاسِ، وَنوَازِعِ الْقَبَائِلِ، لَمْ تَصِلْ بَیْنَھُمْ اَرْحَامٌ مُتَقَارِبَۃٌ، تَحَابُّوْا فِی اللّٰہِ وَتَصَافَوْا، یَصْنَعُ اللّٰہُ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ، فَیُجْلِسُھُمْ عَلَیْھَا، فَیَجْعَلُ وُجُوْھَمُ نُوْرًا، وَثِیَابَھُمْ نُوْرًا، یَفْزَعُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یَفْزَعُوْنَ، وَھُمْ اَوْلَیَائُ اللّٰہِ تَعَالَی الَّذِیْنَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو!سنو، سمجھو اور جان لو کہ اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں، جو انبیا ہیں نہ شہدائ، لیکن شہداء و انبیاء اُن پر رشک کریں گے،اس کی وجہ ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب اور اس کے ساتھ مجلس ہو گی۔ دور والے لوگوں سے ایک بدّو آیا اور اپنا ہاتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ڈالا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لوگ ہیں، جو انبیاء ہیں نہ شہدائ، لیکن انبیاء و شہداء ان کی بیٹھکوں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے قرب پر رشک کریں گے، ہمارے لیے ان کی صفات بیان کرو اور ان کو واضح کرو۔ بدّو کے سوال سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ غیر معروف قبائل کے نامعلوم النسب لوگ ہیں، ان کی آپس میں رشتہ داریاں نہیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور آپس میں خالص تعلق رکھتے ہیں، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اُن کے لیے نور کے منبر بنائے گا، ان پر ان کو بٹھائے گا، ان کے چہروں اور کپڑوں کو نور بنائے گا، لوگ قیامت کے دن گھبرائیں گے، لیکن وہ نہیں گھبرائیں گے، یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہیں کہ (فرمانِ الٰہی کے مطابق) جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔