Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 159 · Chapter 1877

محبت اور صحبت کے مسائل

نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان

10 hadiths in this chapter

9436

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9436

Sahih

۔ (۹۴۳۶)۔ عَنْ ثَابِتِ نِ الْبَنَانِیِّ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الرَّجُلُ یُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَعْمَلَ کَعَمَلِہِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔))، فَقَالَ اَنَسٌ: فَمَا رَاَیْتُ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرِحُوْا بِشَیْئٍ قَطُّ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ الْاِسْلَامَ مَافَرِحُوْا بِھٰذَا مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَنَسٌ: فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَعْمَلَ کَعَمَلِہِ، فَاِذَا کُنَّا مَعَہُ فَحَسْبُنَا۔(مسند احمد: ۱۳۳۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک شخص کسی آدمی سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس کے عمل جیسے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ محبت کرتا ہو گا۔ پس میں نے صحابہ کرام کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کسی چیز کی وجہ سے اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے خوش ہوئے، ما سوائے اسلام کے۔ پھر سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے محبت کرتے ہیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل جتنے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، پس جب ہمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتھ مل جائے گا تو وہی کافی ہو گا۔

9437

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9437

Sahih

۔ (۹۴۳۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہِ، فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِطُ۔)) وقَالَ مُؤْمِلٌ: مَنْ یُخَالِلُ۔ (مسند احمد: ۸۰۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، پس ہر ایک کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی اختیار کیے ہوئے ہے۔

9438

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9438

Sahih

۔ (۹۴۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سمَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا تَصْحَبْ اِلَّا مُؤْمِنًا وَلَایَاْ کُلْ طَعَامَکَ اِلَّا تَقِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو صرف مؤمن کا ساتھی بن اور تیرا کھانا نہ کھائے، مگر متقی آدمی۔

9439

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9439

Sahih

۔ (۹۴۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! الرَّجُل یُحِبُّ الْقَوْمَ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَعْمَلَ بِاَعْمَالِھِمْ، قَالَ: ((اَنْتَ یَااَبَاذَرٍّ! مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَاِنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ یُعِیْدُھَا مَرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس جیسے عمل کر نے کی طاقت نہیں رکھتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت رکھے گا۔ میں نے کہا: تو بیشک میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، انھوں نے ایکیا دو دفعہ یہ بات دوہرائی۔

9440

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9440

Sahih

۔ (۹۴۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ رَجُلًا اَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا یَلْحَقْ بِھِمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ کسی قوم سے محبت تو کرتا ہے، لیکن ان کو مل نہیں پاتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہو گا۔

9441

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9441

Sahih

۔ (۹۴۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی، رِوَایَۃً، قَالَ: ((اَلْمُؤُمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِیَشُدُّ بَعْضُہُ بَعْضًا، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ اِنْ لَمْ یُحْذِکَ مِنْ عِطْرِہِ عَلِقَکَ مِنْ رِیْحِہِ، وَمَثَلُ الْجَلِیْسِ السَّوْئِ مَثَلُ الْکِیْرِ اِنْ لَمْ یُحْرِقْکَ نَالَکَ مِنْ شَرَرِہِ، وَالْخَازِنُ الْاَمِیْنُ الَّذِیْیُؤَدِّیْ مَا اُمِرَ بِہٖمُؤْتَجِرًااَحْدُالْمُتَصَدِّقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا بعض بعض کو مضبوط کرتا ہے، اور نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی طرح ہے کہ اگر اس نے تجھے کوئی عطر نہ دیا تو تیرے ساتھ اس کی خوشبو لگ جائے گی، اور برے ہم مجلس کی مثال لوہار کی دھونکنی کی سی ہے کہ اگر اس نے تجھے جلا نہ دیا تو اس کی چنگاریاں تجھ پر ضرور پڑیں گے، اور وہ امانت دار خزانچی بھی صدقہ کرنے والوں میں ایک ہے، جو بنیّت ِ ثواب وہ کچھ دے دیتا ہے، جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے۔

9442

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9442

Sahih

۔ (۹۴۴۲)۔ (وَمِنْ طریقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ کَبْشَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَامُوْسٰی الْاَشْعَرِیَّیَقُوْلُ : عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْجَلِیْسِ الصَّالِحِ کَمَثَلِ الْعَطَّارِ۔))، فَذَکَرَ نَحْوَہُ مُخْتَصَرًا۔ (مسند احمد: ۱۹۸۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا تھا کہ نیک ہم نشین کی مثال عطر فروش کی ہے۔ پھر اختصار کے ساتھ اوپر والی حدیث ذکر کی۔

9443

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9443

Sahih

۔ (۹۴۴۳)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ، قَالَ: وَفَدْتُ فِیْ خَلَافَۃِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَاِنّمَا حَمَلَنِیْ عَلَی الْوِفَادَۃِ لُقِیُّ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ وَاَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَقِیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)فَقُلْتُ لَہُ: ھَلْ رَاَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَغَزَوْتُ مَعَہُ اِثْنَتَیْ عَشَرَۃَ غَزَوَۃً۔ (مسند احمد: ۱۸۲۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں کہیں روانہ ہوا، اس روانگی پر آمادہ کرنے والی چیز سیدنا ابی بن کعب اور دوسرے صحابہ کی ملاقات تھی، پس میں سیدنا صفوان بن عسال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، بلکہ میں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بارہ غزوے بھی کیے ہیں۔

9444

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9444

Zaeef

۔ (۹۴۴۴)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَانَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَضَعْنَا لَہُ غِسْلًا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ اَتَیْنَاہُ بِمِلْحَفَۃٍ وَرْسِیَّۃٍ، فَاشْتَمَلَ بِھَا، فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی اَثَرِ الْوَرْسِ عَلٰی عُکَنِہِ، ثُمَّ اَتَیْنَاہُ بِحِمَارٍ لِیَرْکَبَ فَقَالَ: ((صَاحِبُ الْحِمَارِ اَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِہِ)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالْحِمْارُ لَکَ ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا قیس بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غسل کا پانی رکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کیا، پھر ہم زرد سرخی مائل چادر لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اپنے جسم پر لپیٹ لیا، گویا کہ اب بھی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس بوٹی کے نشان دیکھ رہا ہوں، پھر ہم سواری کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک گدھا لائے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گدھے کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پس یہ گدھا ہے ہی آپ کے لیے۔

9445

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9445

Sahih

۔ (۹۴۴۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَنْ اَذَلَّ لِیْ وَلِیًّا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَنْ آذٰی لِیْ وَلِیًّا) فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِیْ، وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِمِثْلِ اَدَائِ الْفَرَائِضِ، وَمَا یَزَالُ الْعَبْدُ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہُ اِنْ سَاَلَنِیْ اَعْطَیْتُہُ، وَاِنْ دَعَانِیْ اَجَبْتُہُ، مَاتَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْئٍ اَنَا فَاعِلُہُ تَرَدُّدِیْ عَنْ وَفَاتِہِ، لِاَنَّہُ یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَاَکْرَہُ مَسَائَ تَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛ جس نے میرے دوست کی توہین کی، ایک روایت میں ہے: جس نے میرے دوست کو تکلیف دی، اس نے میرے ساتھ لڑنے کو حلال سمجھ لیا ہے، اور فرائض کی ادائیگی سے ہی میرا بندہ میرا قرب حاصل کر سکتا ہے، لیکن بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں، پھر جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں اور مجھے جتنا تردّد مؤمن کی وفات پر ہوتا ہے، اتنا کسی اور کام پر نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے غم کو پسند نہیں کرتا۔