Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 157 · Chapter 1858

فقر اور غِنٰی کے مسائل

راست روی اور نیکی کے ساتھ فقیری کی ترغیب کا بیان

12 hadiths in this chapter

9300

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9300

Zaeef

۔ (۹۳۰۰)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَغْبَطَ اَوْلِیَائِي (وَفِی رَوَایَۃٍ: اِنَّ اَغْبَطَ النَّاسِ) عِنْدِی مُؤِمِنٌ خَفِیْفُ الْحَاذِ، ذُوْحَظٍّ مِنْ صَلَاۃٍ، اَحْسَنَ عِبَادَۃَ رَبِّہِ، وَکَانَ فِی النَّاسِ غَامِضًا، لایُشَارُ اِلَیْہِ بِالْاَصَابِعِ، فَعَجِلَتْ مَنِیَّتُہُ وَقَلَّ تُرَاثُہُ، وَقَلَّتْ بَوَاکِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں میں سے میرا سب سے زیادہ قابل رشک دوست وہ مؤمن ہے، جو کم مال اور کم افرادی کنبے والا ہو، لیکن نماز کی زیادہ مقدار والا ہو، اچھے انداز میں اپنے ربّ کی عبادت کرنے والا، لوگوں میں گمنام ہو، اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ نہ کیا جاتا ہو اور اس کی موت جلدی آ جائے اور اس کی میراث کم ہو اور اس کے رونے والے بھی کم ہوں۔

9301

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9301

Zaeef

۔ (۹۳۰۱)۔ عَنِ الْبَرَائِ السَّلِیْطِیِّ، عَنْ نُقَادَۃَ الْاَسَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ بَعَثَ نُقَادَۃَ الْاَسَدِیِّ اِلَی رَجُلٍ یَسْتَمْنِحُہُ نَاقَۃً لَہُ، وَاِنَّ الرَّجُلَ رَدَّہُ، فَاَرَسَلَ بِہٖاِلَی رَجُلٍ آخَرَ سِوَاہُ، فَبَعَثَ اِلَیْہِ بِنَاقَۃٍ، فَلَمَّا اَبْصَرَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ جَائَ بِھَا نُقَادَۃُیَقُوْدُھَا، قَالَ: ((اللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْھَا وَفِیْمَنْ اَرَسَلَ بِھَا))، قَالَ نُقَادَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!، وَفِیْمَنْ جَائَ بِھَا، قَالَ: ((وَفِیْمَنْ جَائَ بِھَا۔)) فَاَمَرَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اَکْثِرْ مَالَ فُلَانٍ وَوَلَدِہِ)) یَعْنِی الْمَانِعَ الْاَوَّلَ۔ ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ یَوْمًا بِیَوْمٍ۔)) یَعْنِی صَاحِبَ النَّاقَۃِ الَّذِیْ اَرَسَلَ بِھَا۔ (مسند احمد: ۲۱۰۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نقادہ اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا نقادہ کو ایک آدمی کی طرف ایک اونٹنی لینے کے لیے بھیجا، لیکن اس آدمی نے اس کو کچھ دیے بغیر واپس کر دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دوسرے آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اونٹنی دے دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ نقادہ رضی ‌اللہ ‌عنہ اونٹنی لے کر آ رہا ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس اونٹنی میں اور اس کو بھیجنے والے میں برکت فرما۔ سیدنا نقادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور اس میں بھی برکت ہو، جو اس کو لایا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اس میں بھی برکت ہوجو اس کو لایا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دوہنے کا حکم دیا، پس اس کو دوہا گیا، اس نے خوب دودھ دیا پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں اور اس کی اولاد کے مال کو زیادہ کر دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد اونٹنی نہ دینے والا پہلا آدمی تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! فلاں کی روزی کو یومیہ بنا دے۔ اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد اونٹنی بھیجنے والا شخص تھا۔

9302

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9302

Sahih

۔ (۹۳۰۲)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ بَیْتِی قُوْتًا۔))(مسند احمد: ۹۷۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میرے گھر والوں کی روزی گزارے کے بقدر بنا دے۔

9303

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9303

Sahih

۔ (۹۳۰۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ بِلَفْظٍ ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا۔)) (مسند احمد: ۷۱۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اس کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ! محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی آل کی روزی گزارے کے بقدر بنا دے۔

9304

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9304

Zaeef

۔ (۹۳۰۴)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ اَحَدٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، غَنِیٌّ وَلَا فَقِیْرٌ، اِلاَّ وَدَّ اَنَّمَا کَانَ اُوْتِیَ مِنْ الدُّنْیَا قُوْتًا۔)) قال: یعنی فی الدنیا۔ (مسند احمد: ۱۲۱۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بروز قیامت ہر کوئی، وہ غنی ہو یا فقیر،یہ چاہے گا کہ کاش اس کو دنیا میں بقدر سد رمق روزی دی گئی ہوتی۔

9305

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9305

Sahih

۔ (۹۳۰۵)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اِذَا صَلَّی بِالنَّاسِ خَرَّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِھِمْ فِی الصَّلَاۃِ لِمَا بِھِمْ مِنَ الْخَصَاصَۃِ، وَھُمْ مِنْ اَصْحَابِ الصُّفَّۃِ، حَتّٰییَقُوْلَ الْاَعْرَابُ: اِنَّ ھٰؤُلائِ مَجَانِیْنُ، فَاِذَا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃَ انْصَرَفَ اِلَیْھِمْ فَقَالَ لَھُمْ: ((لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَالَکَمُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَاَحْبَبْتُمْ لَوْ اَنَّکُمْ تَزْدَادُوْنَ حَاجَۃً وَفَاقَۃً۔)) قاَلَ فَضَالَۃُ: واَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو بھوک کی وجہ سے لوگ نماز کے قیام کے دوران گر جاتے تھے، ایسے لوگوں کا تعلق اصحاب ِ صفہ سے ہوتا تھا، بدّو لوگ کہتے تھے: یہ تو پاگل ہو گئے ہیں، پس جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کو پورا کرتے تو ان کی طرف پھر کر فرماتے: اگر تم کو پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجرو ثواب ہے تو تم یہ پسند کرو گے کہ کاش حاجت اور فاقے میں اور اضافہ ہو جائے۔ سیدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا۔

9306

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9306

Sahih

۔ (۹۳۰۶)۔ عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِثْنَتَانِ یَکْرَہُھُمَا ابْنُ آدَمَ، اَلْمَوْتُ، وَالْمَوْتُ خَیْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَۃِ، وَیَکْرَہُ قِلَّۃَ الْمَالِ، وَقِلَّۃُ الْمَالِ اَقَلُّ لِلْحِسَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا محمو د بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، ابن آدم تو ان کو ناپسند کرتا ہے (لیکن حقیقت میں وہ دونوں اس کے لیے بہتر ہیں)، ایک موت ہے، اور موت مؤمن کے لیے فتنے سے بہتر ہے اور دوسری قلت مال ہے، حالانکہ قلت ِ مال کی وجہ سے حساب قلیل ہوتا ہے۔

9307

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9307

Zaeef

۔ (۹۳۰۷)۔ عَنْ اَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ مُوْسٰی عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلامُ قَالَ: اَیْ رَبِّ! عَبْدُکَ الْمُؤُمِنُ تُقَتِّرُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا، قَالَ: فَیُفْتَحُ لَہُ بَابُ الْجَنَّۃِ فَیَنْظُرُ اِلَیْھَا، قَالَ: یَا مَوْسٰی! ھٰذَا مَااَعْدَدْتُ لَہُ، فَقَالَ مُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! وَعِزَّتِکَ وَجَلالِکَ لَوْ کَانَ اَقْطَعَ الْیَدَیْنِ وَالرِّجْلَیْنِیُسْحَبُ عَلیٰ وَجْھِہِ مُنْذُ یَوْمَ خَلَقْتَہُ اِلیٰیَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَکَانَ ھٰذَا مَصِیْرَہٗ لَمْ یَرَ بُؤْسًا قَطُّ، قَالَ: ثّمَ قَالَ مُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! عَبْدُکَ الْکَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا، قَالَ: فَیُفْتَحُ لَہُ بَابٌ مِّنَ النَّارِ فَیُقَالُ: یَا مُوْسٰی! ھٰذَا مَا اَعْدَدْتُ لَہٗ،فَقَالَمُوْسٰی: اَیْ رَبِّ! وَعِزَّتِکَ وَجَلَالِکَ لَوْ کَانَتْ لَہُ الدُّنْیَا مُنْذُ یَوْمَ خَلَقْتَہُ اِلیٰیَوْمِ الْقِیَامَۃِ وکَانَ ھٰذَا، مَصِیْرَہُ کَاَنْ لَمْ یَرَ خَیْرًا قَطٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جناب موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تو اپنے مؤمن بندے کو دنیا میں غربت زدہ اور تنگ حال بنا دیتا ہے؟ اتنے میں جناب موسی علیہ السلام کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس کی طرف دیکھنے لگے، پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے موسی! یہ جنت میں نے اسی مؤمن کے لیے تیار کی ہے۔ پھر جناب موسی نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت کی قسم! تیرے جلال کی قسم! اگر اس مؤمن کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں اور پھر اس کو اس کے یوم ولادت سے لے کر روزِ قیامت تک چہرے کے بل گھسیٹا جاتا رہے اور لیکن اگر اس کا انجام یہ جنت ہوا تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی تنگی دیکھی ہی نہیں۔ پھر موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تو نے اپنے کافر بندے کے لیے دنیا میں بڑی وسعت پیدا کی ہے؟ اتنے میں موسی علیہ السلام کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا گیا اور ان سے کہا گیا: اے موسی! یہ جہنم میں نے اسی کافر کے لیے تیار کی ہے۔ موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر اس کو اس کے یوم تخلیق سے روزِ قیامت تک پوری دنیا دے دی جائے، لیکن اس کا انجام یہ ہو تو وہ تو یوں سمجھے گا کہ اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔

9308

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9308

Sahih

۔ (۹۳۰۸)۔ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِیْرٍ،یَقُوْلُ عَلیٰ مِنْبَرِ الْکُوْفَۃِ: وَاللّٰہِ مَاکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْ قَالَ: نَبِیُّکُمْ عَلَیْہِ السَّلَامُ یَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ، وَمَاتَرْضَوْنَ دَوْنَ اَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ۔(مسند احمد: ۱۸۵۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سماک بن حرب کہتے ہیں: سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کوفہ کے منبر پر ہمیں بیان کیا اور کہا: اللہ کی قسم! تمہارا نبی تو ردّی کھجوروں سے سیر ہو جاتا تھا، لیکن تم قسما قسم کی کھجوروں اور مکھن کے بغیر راضی ہی نہیں ہوتے۔

9309

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9309

Sahih

۔ (۹۳۰۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ اَنَّہُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍیَخْطُبُ وَھُوَ یَقُوْلُ: اَحْمَدُ اللّٰہَ تَعَالیٰ فَرُبَّمَا اَتیٰ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الشَّہْرُ یَظِلُّ یَتَلَوّٰی مَایَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایسے مہینے بھی آتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بل پڑ جاتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ردّی کھجوروں سے بھی سیر نہیں ہو پاتے تھے۔

9310

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9310

Sahih

۔ (۹۳۱۰)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَاکَانَ یَفْضُلُ عَلیٰ اَھْلِ بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُبْزُ الشَّعِیْرِ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جو کی روٹی بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں کی ضرورت سے زائد نہیں ہوتی تھی۔

9311

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9311

Sahih

۔ (۹۳۱۱)۔ عَنْ اَبِی الْعَلَائِ بْنِ الشِّخِّیْرِ، حَدَّثَنِی اَحَدُ بَنِیْ سُلَیْمٍ وَلا اَحْسَبُہُ اِلَّا قَدْ رَاٰی رَسُوْلَ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰیَبْتَلِیْ عَبْدَہُ بِمَا اَعْطَاہُ فَمَنْ رَضِیَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بَارَکَ اللّٰہُ لَہُ فِیْہِ وَوَسِعَہُ، وَمَنْ لَّمْ یَرْضَ لَمْ یُبَارِکْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو العلاء کہتے ہیں: بنو سُلَیم کے ایک آدمی نے مجھے بیان کیا، میرایہی خیال ہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا، بہرحال اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس چیز کے ساتھ آزماتا ہے، جو اس کو عطا کرتا ہے، پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے رزق میں برکت کرتا ہے اور مزید وسعت عطا کرتا ہے اور جو اس تقسیم پر راضی نہیں ہوتا، اس کے رزق میں برکت نہیں کی جاتی۔