Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 155 · Chapter 1847

اخلاق حسنہ اور ان سے متعلقہ امور کے مسائل

حیوان کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان

14 hadiths in this chapter

9197

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9197

Sahih

۔ (۹۱۹۷)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ مَرَّ عَلَیقَوْمٍ وَھُمْ وُقُوفٌ عَلَی دَوَابَّ وَرَوَاحِلَ، فَقَالَ لَھُمْ: ((اِرْکَبُوْھَا سَالِمَۃً، وَدَعُوْھَا سَالِمَۃً وَلَا تَتَّخِذُوْھَا کَرَاسِیَّ لِاَحَادِیْثِکُمْ فِی الطُّرُقِ وَالْاَسْوَاقِ، فَرُبَّ مَرْکُوْبَۃٍ خَیْرٌ مِّنْ رَاکِبِھَا وَاَکَثَرُ ذِکْرًا لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو ایک جگہ پر کھڑے چوپائیوں اور سواریوں پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ان جانوروں پر سوار ہو، اس حال میں کہ یہ صحت مند ہوں اور ان کو صحت و سا لمیت کی حالت میں ہی چھوڑا کرو اور راستوں اور بازاروں میں باتیں کرنے کے لیے ان کو کرسیاں نہ بنا لو (یعنی خواہ مخواہ ان پر نہ بیٹھے رہو)، پس کتنی ہی سواریاں ہیں، جو اپنے سواروں سے بہتر اور ان کی بہ نسبت اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے والی ہوتی ہیں۔

9198

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9198

Sahih

۔ (۹۱۹۸)۔ عَنْ سَوَادَۃَ بْنِ الرَّبِیْعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلْتُہُ، فَاَمَرَ لَہٗبِذَوْدٍ،ثُمَّقَالَ: ((اِذَارَجَعْتَاِلیٰ بَیْتِکَ فَمُرْھُمْ فَلْیُحْسِنُوْا غَذَائَ رِبَاعِھِمْ، وَمُرْھُمْ فَلْیُقَلِّمُوْا اَظْفَارَھُمْ وَلَا یَعْبِطُوْا بِھَا ضُرُوْعَ مَوَاشِیْھِمْ اِذَا حَلَبُوا۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سوادہ بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ سے سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے کچھ اونٹنیوں کا حکم دیا اور مجھے فرمایا: جب تو اپنے گھر پہنچے تو انھیں کہنا کہ موسم بہار میں پیدا ہونے والے ان کے بچوں کو اچھی غذادیں، نیز انھیں کہنا کہ وہ اپنے ناخن تراش لیں تاکہ دودھ دوہتے وقت مویشیوں کے تھنوں کو خون آلود نہ کر دیں۔

9199

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9199

Sahih

۔ (۹۱۹۹)۔ عَنْ ضَرَارِ بْنِ الْاَزْوَرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَھْدَیْنَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ لِقْحَۃً، (وَفِی رَوَایَۃٍ: بَعَثَنِی اَھْلِی بِلُقُوحٍ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَمَرَنِی اَنْ اَحْلُبَھَا) قَالَ: فَحَلَبْتُھَا قَالَ: فَلَمَّا اَخَذْتُ لِاُجْھِدَھَا، قَالَ: ((لَا تَفْعَلْ دَعْ دَاعِیَ اللَّبَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک دودھ والی اونٹنی بطورِ تحفہ دی، ایک روایت میں ہے: میرے بعض اہل خانہ نے مجھے دودھ والی اونٹنیاں دے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کو دوہوں، پس میں نے ان کو دوہا اور جب میں نے مشقت کے ساتھ سارا دودھ نکالنا چاہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر، بلکہ(مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) چھوڑ دیا کر۔

9200

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9200

Sahih

۔ (۹۲۰۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیَّ مَرَّ بِہٖوَھُوَیَحْلُبُ فَقَالَ: ((دَعْ دَاعِیَ اللَّبَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ دودھ دوہ رہا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) رہنے دے۔

9201

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9201

Sahih

۔ (۹۲۰۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْبَادِیَۃِ، اِلیٰ اِبِلِ الصَّدَقَۃِ، فَاَعْطٰی نِسَائَ ہٗبَعِیْرًا غَیْرِیْ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَعْطَیْتَہُنَّ بَعِیْرًا بَعِیْرًا غَیْرِیْ؟ فَاَعْطَانِیْ بَعِیْرًا آدَدَ صَعْبًا لَمْ یُرْکَبْ عَلَیْہِ، (وَفِی رَوَایَۃٍ فَجَعَلْتُ اَضْرِبُہُ، فَقَالَ: ((یَاعَائِشَۃُ! ارْفُقِی بِہٖفَاِنَّالرِّفْقَلَایُخَالِطُ شَیْئًا اِلاَّ زَانَہُ وَلایُفَارِقُ شَیْئًا اِلاَّشَانَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دفعہ صدقہ کے اونٹوں کی طرف جنگل میں گئے اور میرے علاوہ اپنی تمام بیویوں کو اونٹ دیے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے میرے علاوہ سب کو ایک ایک اونٹ دیا ہے؟ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک سخت اونٹ دیا، اس پر ابھی تک سوار نہیں ہوا گیا تھا، پس میں اس کو مارنے لگی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! نرمی کرنا، کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے، وہ اُس کو مزین کردیتی ہے اور جس چیز سے نرمی جدا ہوتی ہے، وہ اُس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔

9202

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9202

Sahih

۔ (۹۲۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَیَادٍ، عَنْ اِبْنَیْ بُسْرٍ الْمُسْلِمَیْنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَیْھِمَا، فَقُلْتُ: یَرْحَمُکُمَا اللّٰہُ، الرَّجُلُ مِنَّا یَرْکَبُ دَابَّتَہُ فَیَضْرِبُھَا بِالسَّوْطِ وَیَکْفَحُھَابِاللِّجَامِ ھَلْ سَمِعْتَھَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ذَلِکَ؟ قَالَا: مَا سَمِعْنَا فِی ذَالِکَ شَیْئًا، فَاِذَا اِمْرَاَۃٌ قَدْ نَادَتْ مِنْ جَوْفِ الْبَیْت:ِ اَیُّھَالسَّائِلُ! اِنِّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طَائِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلاَّ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْئٍ} فَقَالَ: ھٰذِہِ اُخْتُنَا وَھِیَ اَکْبَرُ مِنَّا وَقَدْ اَدْرَکَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن زیاد کہتے ہیں: بسر کے دو مسلمان بیٹے تھے، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، بات یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر سوار ہوتا ہے اور اسے کوڑے سے مارتا بھی ہے اور لگام کے ذریعے کھینچتا بھی ہے، کیا تم نے اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نے تو اس کے بارے میں کچھ نہیں سنا، لیکن پھر اچانک گھر کے اندر سے ایک عورت کی آواز آئی، اس نے کہا: سوال کرنے والے! اللہ تعالیٰ کہتا ہے: اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرندے ہیں کہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں،یہ سب تمہاری طرح کے گروہ ہیں، ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ (سورۂ انعام: ۳۸) پھر اس نے کہا: یہ ہماری بہن ہے، عمر میں ہم سے بڑی ہے اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایا ہے۔

9203

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9203

Sahih

۔ (۹۲۰۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: رَایٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِی وَجْھِہِ، فَقَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ فَعَلَ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک گدھا دیکھا، اس کو چہرے پر داغا گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے یہ کام کیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔

9204

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9204

Sahih

۔ (۹۲۰۴)۔ عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشَمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہٗدَخَلَعَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی وَجْعِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیْہِ، قَالَ: فَطَفِقْتُ اَسْاَلُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی مَا اَذْکُرُ مَا اَسْاَلُہُ عَنْہُ، فَقَالَ: ((اُذْکُرْہٗ۔)) قَالَ: وَکَانَ مِمَّا سَاَلْتُہٗعَنْہُ اَنْ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الضَّالَۃُ (وَفِی رَوَاَیۃٍ: اَلضَّالَۃُ مِنَ الْاِبْلِ) تَغْشٰی حِیَاضِی وَقَدْ مَلَاْتُھَا مَائً لِاِبِلِی، فَھَلْ لِی مِنْ اَجْرِ اَنْ اَسْقِیَھَا؟ فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، فِیسَقْیِ کُلِّ کَبِدٍ اَجْرٌ لِلّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرنا شروع کر دیا (اور اتنے سوالات کیے کہ) مزید کوئی سوال یاد ہی نہیں آ رہا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: اور یادکرو۔ بہرحال میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو سوالات کیے تھے، ان میں ایک سوال یہ تھا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ میرے حوضوں پر آ جاتا ہے، جبکہ میں نے ان کو اپنے اونٹوں کے لیے بھرا ہوا ہوتا ہے، تو کیا اس کو پانی پلا دینے میں میرے لیے اجر ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ہر تر جگر کو پلانے میں اللہ تعالیٰ کے لیے اجر ہے۔

9205

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9205

Sahih

۔ (۹۲۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْزِلًا، فَانْطَلَقَ اِنْسَانٌ اِِلیٰ غَیْضَۃٍ، فَاَخْرَجَ بَیْضَ حُمَّرَۃٍ فَجَائَ تِ الْحُمَّرَۃُ تَرِفُّ عَلیٰ رَاْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرُئُ وْسِ اَصْحَابِہٖفَقَالَ: ((اََیُّکُمْ فَجَعَ ھٰذِہِ؟۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اَنَا اَصَبْتُ لَھَا بَیْضًا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُرْدُدْہٗ۔)) (مسنداحمد: ۳۸۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد الرحمن بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا، ایک آدمی ایک جھاڑی کی طرف گیا اور (چڑیا کی طرح کے) سرخ پرندے کے انڈے نکال لایا، پس وہ پرندہ آیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ کے سروں پر پھڑپھڑانے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے اس کو تکلیف دی ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں نے اس کے انڈے لیے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واپس رکھ دے۔

9206

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9206

Sahih

۔ (۹۲۰۶)۔ (وَعَنْہُ فِی اُخْرٰی) ((رُدَّہُ۔)) رَحْمَۃً لَھَا۔ (مسند احمد: ۳۸۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری روایت) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پرندے پر رحم کرتے ہوئے فرمایا: واپس رکھ دے۔

9207

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9207

Sahih

۔ (۹۲۰۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِی وَھُوَ بِطَرِیْقٍ اِذَ اشْتَدَّ عَلَیْہِ الْعَطْشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِیْھَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَاِذَا کَلْبٌ یَلْھَثُیَاْکُلُ الثَّرٰی مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ: لَقَدْ بَلَغَ ھٰذَا الْکَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِیْ بَلَغَنِی، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَاَ خُفَّیْہِ مَائً ثُمَّ اَمْسَکَہُ بِفِیْہِ حَتّٰی رَقِیَ بِہٖفَسَقَی الْکَلْبَ، فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاِنَّ لَنَا فِی الْبَھَائِمِ لَاَجْرًا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فِی کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ رَطْبَۃٍاَجْرٌ۔)) (مسند احمد: ۸۸۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ) ایک آدمی راستے پر چلا جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اس نے ایک کنواں پایا، پس اس میں اتر کر اس نے پانی پیا، پھر باہر نکل آیا، وہیں ایک کتا تھا جو پیاس کے مارے زبان باہر نکالے (ہانپتے ہوئے) کیچڑ چاٹ رہا تھا، پس اس آدمی نے (دل میں) کہا کہ اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس نے ستایا ہے جس طرح میں اس کی شدت سے بے حال ہو گیا تھا، چنانچہ وہ دوبارہ کنویں میں اترا اور اپنے موزے پانی سے بھرے اور انہیں اپنے منہ سے پکڑ کر اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل اور جذبے کی قدر کی اور اسے معاف کر دیا۔ (یہ سن کر) صحابہ ؓنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے چوپایوں (پر ترس کھانے) میں بھی اجر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ہاں) ہر تر جگر والے (جاندار کی خدمت اور دیکھ بھال) میں اجر ہے۔

9208

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9208

Sahih

۔ (۹۲۰۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اِمْرَاَۃً بَغِیًّا رَاَتْ کَلْبًا فِییَوْمٍ حَارٍّ، یُطِیْفُ بِبِئْرٍ قَدْ اَدْلَعَ لِسَانَہُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ مُوْقَھَا فَغَفَرَلَھَا۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک زانی عورت نے گرمی والے دن میں ایک کتا دیکھا، وہ ایک کنویں کا چکر لگا رہا تھا اور پیاس کے مارے زبان باہر نکالی ہوئی تھی، پس اس نے اپنا موزہ اتارا (اور اس کو پانی پلایا) اور اس کے سبب اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔

9209

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9209

Sahih

۔ (۹۲۰۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَخَلَتِ امْرَاَۃٌ النَّارَ فِی ھِرَّۃٍ، رَبَطَتْھَا، فَلَمْ تُطْعِمْھَا، وَلَمْ تَسْقِھَا، وَلَمْ تُرْسِلْھَا، فَتَاْکُلَ مِنْ خَشَاشِ الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک عورت بلی کی وجہ سے آگ میں داخل ہوگئی، اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ خود اس کو کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اس کو چھوڑتی تھی کہ وہ از خود زمین کے حشرات کھا سکتی ۔

9210

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9210

Sahih

۔ (۹۲۱۰)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِی اَبِی، ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ یَعْنِی الطَّیَالَسِیَّ، ثَنَا اَبُوْ عَامِرٍ الْخُزَاعِیُّ، عَنْ سَیاَرٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، قَالَ: کُنَّا عَنْدَ عَائِشَۃَ فَدَخَلَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَتْ: اَنْتَ الَّذِیْ تُحَدِّثُ: اَنَّ اِمْرَاَۃً عُذِّبَتْ فِی ھِرَّۃٍ اِنَّھَا رَبَطَتْھَا، فَلَمْ تُطْعِمْھَا، وَلَمْ تَسْقِھَا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُہُ مِنْہُ یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ کَذَا قَالَ: اَبِیْ) فَقَالَتْ: ھَلْ تَدْرِیْ مَا کَانَتِ الْمَرْاَۃُ؟ اِنَّ الْمَرْاَۃَ مَعَ مَا فَعَلَتْ کَانَتْ کَافِرَۃً، وَاِنَّ الْمُؤْمِنَ اَکَرَمُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ اَنْ یُّعَذِّبَہُ فِی ھِرِّۃٍ، فَاِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْظُرْ کَیْفَ تُحَدِّثُ ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ علقمہ کہتے ہیں: ہم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی وہاں آ گئے، سیدہ نے ان سے کہا: تم یہ بیان کرتے ہو کہ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا،یعنی اس نے اس کو باندھ دیا تھا اور نہ اس کو کھلاتی تھی اور نہ پلاتی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، سیدہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ عورت کون تھی؟ اس عورت نے جو کچھ کیا، بہرحال وہ کافر تھی اور بیشک اللہ تعالیٰ کے ہاں مؤمن کی عزت اس سے زیادہ ہے کہ وہ بلی کی وجہ سے اس کو عذاب دے، پس جب تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے احادیث بیان کرو تو غور بھی کیا کرو کہ کیسے بیان کر رہے ہو۔