Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 154 · Chapter 1841

نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل

راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان

11 hadiths in this chapter

9141

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9141

Sahih

۔ (۹۱۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:((کَانَتْ شَجَرَۃٌ تُؤْذِیْ اَھْلَ الطَّرِیْقِ، فَقَطَعَھَا رَجُلٌ فَنَحَّاھَا عَنْ الطَّرِیْقِ، فَاُدْخِلَ بِھَا الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک درخت سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی نے اس کو کاٹ کر راستے سے دور کر دیا اور اس وجہ سے اس کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔

9142

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9142

Sahih

۔ (۹۱۴۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ بِجِذْلِ شَوْکٍ فِی الطَّرِیْقِ فَقَالَ: لَاُمِیْطَنَّ ھٰذَا الشَّوْکَ عَنِ الطَّرِیْقِ اَنْ لایَعْقِرَ رَجُلاً مُسْلِمًا، قال: فَغُفِرَ لَہٗ)) (مسنداحمد: ۸۴۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان آدمی کا ایسے راستے سے گزر ہوا، جس پر کانٹوں والا تنہ تھا، اس نے کہا: میں ضرور ضرور ان کانٹوں کو راستے سے ہٹا دوں گا، تاکہ کوئی مسلمان زخمی نہ ہو جائے، پس اس وجہ سے اس کو بخش دیا گیا۔

9143

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9143

Sahih

۔ (۹۱۴۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((دَخَلَ عَبْدٌ الْجَنَّۃَ بِغُصْنِ شَوْکٍ عَلٰی ظَہْرِ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنَ فَاَمَاطَہُ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی خاردار شاخ کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گیا، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ مسلمانوں کے راستے پر تھی اور اس نے اس کو ہٹا دیا تھا۔

9144

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9144

Sahih

۔ (۹۱۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:((بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِیْ عَلَی طَرِیْقٍ، وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ، فَقَالَ: لَاَرْفَعَنَّ ھٰذَا، لَعَلَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَغْفِرُ لِیْ فَرَفَعَہُ، فَغَفَرَ اللّٰہُ لَہُ بِہٖ،وَاَدْخَلَہُالْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (چوتھی سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی راستے پر جا رہا تھا، وہاں اس نے کانٹے دار شاخ پائی اور کہا: میں اس کو ضرور ضرور دور کروں گا، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وجہ سے مجھے بخش دے، پس اس نے اس کو ہٹا دیااور اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش کر جنت میں داخل کر دیا۔

9145

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9145

Sahih

۔ (۹۱۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَتْ شَجَرَۃٌ فِی طَرِیْقِ النَّاسِ تُؤْذِیْ النَّاسَ، فَاَتَاھَا رَجُلٌ فَعَزَلَھَا عَنْ طَرِیْقِ النَّاسِ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلَقَدْ رَاَیْتُہُیَتَقَلَّبُ فِی ظِلِّھَا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگوں کے راستے میں ایک درخت تھا، اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی آیا اور اس کو لوگوں کی گزرگاہ سے ہٹا دیا، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس تحقیق میں نے اس بندے کو دیکھا کہ وہ جنت میں اس درخت کے سائے میں حسب ِ منشا زندگی گزار رہا تھا۔

9146

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9146

Sahih

۔ (۹۱۴۶)۔ عَنْ اَبِی بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَتَلْتُ عَبْدَ الْعُزّٰی بْنَ خَطَلٍ وَھُوَ مُتَعَلِّقٌ بِسِتْرِ الْکَعْبَۃِ وَقُلْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مُرْنِیْ بِعَمَلٍ اَعْمَلُہُ (وَفِی رِوَایَۃٍ) عَلِّمْنِیْ شَیْئًا اَنْتَفِعُ بِہٖ، فَقَالَ: ((اَمِطِ الْاَذَی عَنِ الْطَرِیْقِ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبد العزی بن خطل کو قتل کیا، جبکہ وہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا، اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں، جس سے میں فائدہ حاصل کر سکوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کر، یہ تیرے لیے صدقہ ہو گا۔

9147

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9147

Sahih

۔ (۹۱۴۷)۔ (وَفِی لَفْظٍ) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ!ِ عَلِّمْنِیْ شَیْئًایَنْفَعُنِی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِہٖ،فَقَالَ: ((اُنْظُرْمَایُؤْذِی النَّاسَ فَاعْزِلْہٗعَنْطَرِیْقِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (ایک روایت میں ہے): میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسی چیز کی خبر دیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھو، جو چیز لوگوں کو تکلیف دے رہی ہو، اس کو راستے سے ہٹا دو۔

9148

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9148

Sahih

۔ (۹۱۴۸)۔ (وَفِیْ لَفْظٍ آخَرَ) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! دُلَّنِیْ عَلَی عَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَاَوْ اَنْتَفِعُ بِہٖ،قَالَ: ((اعْزِلْالاَذَی عَنْ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (ایک روایت میں ہے) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے ایسے عمل کی نشاندہی کرو، جو مجھے جنت میں داخل کر دے یا جس سے میں فائدہ حاصل کر سکوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاؤ۔

9149

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9149

Sahih

۔ (۹۱۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَیَّ اَعْمَالُ اُمَّتِیْ حَسَنُھَا وَسَیِّئُھَا، فَرَاَیْتُ فِیْ مَحَاسِنِ اَعْمَالِھَا الْاَذَییُمَاطُ عَنِ الطَّرِیْقِ، وَرَاَیْتُ فِی مَسَاوِیِ اَعْمَالِھَا النُّخَامَۃَ تَکَوْنُ فِی الْمَسْجِدِ لا تُدْفَنُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے میرے امت کے اچھے اور برے عمل پیش کیے گئے، میں نے اچھے اعمال میں راستے سے ہٹا دی جانے والی تکلیف دہ چیز کو اور برے اعمال میں مسجد میں پڑی ہوئی اس بلغم کو دیکھا، جس کو دفن نہیں کیا گیا۔

9150

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9150

Sahih

۔ (۹۱۵۰)۔ عَنِ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((مَنْزَحْزَحَعَنْطَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنَ شَیْئًایُؤْذِیْھِمْ، کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗبِہٖحَسَنَۃً، وَمَنْ کُتِبَ لَہٗعِنْدَہٗحَسَنَۃٌ، اَدْخَلَہٗاللّٰہُبِھَاالْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کے راستے سے ایسے چیز کو ہٹا دیا، جو ان کو تکلیف دیتی تھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھے گا اور جس کے لیے نیکی لکھ دی گئی، اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا۔

9151

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9151

Sahih

۔ (۹۱۵۱)۔ عَنْ مُوْسٰی بْنِ اَبِی عِیْسٰی، اَنَّ مَرْیَمَ فَقَدَتْ عَیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَدَارَتْ بِطَلَبِہٖ،فَلَقِیَتْ حَائِکًا فَلَمْ یُرْشِدْھَا، فَدَعَتْ عَلَیْہِ فَلا تَزَالُ تَرَاہٗتَائِھًا،فَلَقِیَتْ خَیَّاطًا فَاَرْشَدَھَا فَدَعَتْ لَہٗ،فَھُمْیُؤْنَسُ اِلَیْھِمْ، اَیْیُجْلَسُ اِلَیْھِمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے ہیں: ایک دن مریم ‌علیہا السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کو گم پایا اور ان کو تلاش کرنے کے لیے اِدھر اُدھر گھومنے لگیں، وہ ایک جولاہے کو ملیں، لیکن اس نے ان کی رہنمائی نہیں کی، پس انھوں نے اسے بد دعا دی،یہی وجہ ہے کہ تو ان کو بے قدرا دیکھتا تھا، پھر وہ ایک درزی کو ملیں، اس نے ان کی رہنمائی کی، پس انھوں نے اس کو دعا دی، اسی سبب سے تو دیکھتا ہے کہ درزی سے مانوس ہوا جاتا ہے، یعنی لوگ اس کے پاس بیٹھتے ہیں۔