Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 152 · Chapter 1817

میانہ روی کے مسائل

دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی

3 hadiths in this chapter

8928

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8928

Sahih

۔ (۸۹۲۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اِنَّ نَاسًا سَاَلُوْا اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ عِبَادَتِہِ فِی السِّرِّ، قَالَ: فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَابَالُ اَقْوَامٍ یَسْاَلُوْنَ عَمَّا اَصْنَعُ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) کچھ لوگوں نے امہات المؤمنین سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سرّی عبادات کے بارے میں پوچھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ان (مخفی امورِ عبادت) کے بارے میں سوال کرنے لگ گئے جو میں کرتا ہوں، …۔ الحدیث

8929

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8929

Sahih

۔ (۸۹۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ اَنْ تُوْتٰی رُخَصُہُ، کَمَا یَکْرَہُ اَنْ تُؤْتٰی مَعْصِیَتُہٗ۔)) (مسند احمد: ۵۸۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ رخصتوں پر عمل کرنے کو اس طرح پسند کرتا ہے، جیسے وہ نافرمانیوں کو ناپسند کرتا ہے۔

8930

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8930

Zaeef

۔ (۸۹۳۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَّمْ یَقْبَلْ رُخْصَۃَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الذُّنُوْبِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رخصت قبول نہ کی، اس پر عرفہ کے پہاڑوں کی مانند گناہ ہوں گے۔