Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 151 · Chapter 1814

نیت اور عمل میں اخلاص

خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان

4 hadiths in this chapter

8898

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8898

Sahih

۔ (۸۸۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَحْسَنَ اَحَدُکُمْ اِسْلَامَہٗ،فَکُلُّحَسَنَۃٍیَعْمَلُھَا تُکْتَبُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ وَکُلُّ سَیِّئَۃٍیَّعْمَلُھَا تُکْتَبُ لَہٗبِمِثْلِھَا،حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے اسلام میں حسن پیدا کر لیتا ہے تو اس کی کی ہوئی ہر نیکی دس سے سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور اس کی کی ہوئی ہر برائی کو اس کی مثل ہی لکھا جاتا ہے، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جا ملتا ہے۔

8899

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8899

Sahih

۔ (۸۸۹۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا رَوٰی عَنْ رَّبِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِنَّ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی رَحِیْمٌ، مَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہٗحَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗعَشْرَۃٌ اِلٰی سَبْعِمِائَۃٍ، اِلٰی اَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗوَاحِدَۃٌ، اَوْ یَمْحُوْھَا اللّٰہُ، وَلا یَھْلِکُ عَلٰی اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّا ھَالِکٌ۔))(مسند احمد: ۲۵۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تیرا ربّ نہایت رحم کرنے والا ہے، جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی تو لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے تو وہ اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اس وجہ سے اس کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ہلاک ہو گا، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔

8900

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8900

Sahih

۔ (۸۹۰۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طِرِیْقٍ ثَانٍ) یَرْوِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْوِیْہِ عَنْ رَّبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ، فَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗعِنْدَہُحَسَنَۃً کَامِلَۃً، وَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبَھَا اللّٰہُ عَشْرًا اِلٰی سَبْعِمِائَۃٍ اِلٰی اَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ اَوْ اِلٰی مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یُضَاعِفَ، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، کَتَبَھَا اللّٰہُ لَہٗعِنْدَہُحَسَنَۃً کَامِلَۃً، فَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبَھَا اللّٰہُ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھا ہے، پس جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس کو عملاً کرتا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس ایک مکمل نیکی کی صورت میں لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس پر عمل بھی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا تک یا جتنا اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے، اس کو بڑھا کر لکھ لیتا ہے، لیکن جو برائی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کو عملاً کر بھی لیتا ہے تو وہ اس کو ایک برائی ہی لکھتاہے۔

8901

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8901

Sahih

۔ (۸۹۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسنداحمد: ۷۱۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے۔