Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 151 · Chapter 1811

نیت اور عمل میں اخلاص

نیت کے بارے میں باب

9 hadiths in this chapter

8884

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8884

Sahih

۔ (۸۸۸۴)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّۃِ، وَلِکُلِّ امْرِیئٍ مَا نَوٰی، فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗاِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَھِجْرَتُہٗاِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ، وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗلِدُنْیَایُصِیْبُھَا، اَوِ امْرَاَۃٍیَنْکِحُھَا فَھِجْرَتُہٗاِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸ )

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی، سو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اس کو پا لے گا اور جس کی ہجرت کسی عورت کے لیے ہو گی، وہ اس سے شاد ی کر لے گا، (غرضیکہ) مہاجر کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہو گی، جس (کی نیت سے) وہ ہجرت کرے گا۔

8885

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8885

Sahih

۔ (۸۸۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُبْعَثُ النَّاسُ۔)) وَرُبَمَا قَالَ شَرِیْکٌ ((یُحْشَرُ النَّاسُ)) عَلٰی نِیَّاتِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۹۰۷۹ )

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو (قیامت والے دن) ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔

8886

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8886

Sahih

۔ (۸۸۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ الْجُوَیْرِیَۃِ، اَنَّ مَعْنَ بْنَ یَزِیْدَ حَدَّثَہٗ قَالَ: بَایَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَا وَاَبِیْ وَجَدِّیْ وَخَطَبَ عَلَیَّ فَاَنْکَحَنِیْ وَخَاصَمْتُہٗاِلَیْہِ فَکَانَ اَبِیْیَزِیْدُ خَرَجَ بِدَنَانِیْرَیَتَصَدَّقُ بِھَا فَوَضَعَھَا عَنْدَ رَجُلٍ فِیْ الْمَسْجِدِ فَاَخَذْتُھَا فَاَتَیْتُہٗبِھَافَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اِیَّاکَ اَرَدْتُّ بِھَا فَخَاصَمْتُہٗاِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَکَ مَا نَوَیْتَیَایَزِیْدُ! وَلَکَ یَا مَعْنُ! مَا اَخَذْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معن بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ اور دادا کے ہمراہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، انھوں نے میرے لیے منگنی کا پیغام بھیجا اور میرا نکاح بھی کر دیا۔ میں ان کے پاس جھگڑا لے کر گیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے باپ سیدنایزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کچھ دیناروں کا صدقہ کرنے کے لیے نکلے اور مسجد میں ایک شخص کو دے کر آ گئے (تاکہ وہ ان کی طرف سے صدقہ کردے)، لیکن ہوا یہ ہے کہ میں نے اس سے وہ دینار لے لیے اور لے کر گھر آ گیا، پس انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے یزید! تیرے لیے تیری نیت ہے اور اے معن! جو کچھ تو نے لے لیا ہے، وہ تیرے لیے ہے۔

8887

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8887

Sahih

۔ (۸۸۸۷)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَ ابْنُ عَمٍّ لِیْ) مَا اَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ مِنْ اِنْسَانٍ مِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّیْ اِلَی الْقِبْلَۃِ اَبْعَدَ بَیْتًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ، قَالَ: فَکَانَیَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ کُلَّھُنَّ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لَہٗ: لَوِ اشْتَرَیْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہٗفِیْ الرَّمْضَائِ وَالظَّلْمَائِ(زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ : وَیَقِیْکَ مِنْ ھَوَامِّ الْاَرْضِ) قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اُحِبُّ اَنَّ بَیْتِیْیَلْزَقُ بِمَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالَ مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ بَیْتِیْ مُطَنَّبٌ بِبَیْتِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : فَمَا سَمِعْتُ کَلِمَۃً اَکْرَہَ اِلَیَّ مِنْھَا) قَالَ: فَاَخْبَرْتُ رَسْوُلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلَہٗعَنْذٰلِکَفَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لِکَیْمَایُکْتَبَ اَثَرِیْ وَرُجُوْعِیْ اِلٰی اَھْلِیْ وَ اِقْبَالِیْ اِلَیْہِ قَالَ: ((اَنْطَاکَ اللّٰہُ ذَالِکَ کُلَّہٗ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اِنَّ لَہٗبِکُلِّخُطْوَۃٍ دَرَجَۃً)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَقَالَ: ((لَکَ مَا نَوَیْتَ اَوْ قَالَ لَکَ اَجْرُ مَا نَوَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک چچا زاد بھائی تھا، میرا خیال ہے کہ مدینہ منورہ کے تمام مسلمانوں میں اس کا گھر سب سے زیادہ دور تھا، لیکن اس کے باوجود وہ تمام نمازوں میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حاضر ہوتا تھا، ایک دن میں نے اسے کہا: اگر تم کوئی گدھا خرید لو، تاکہ گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو سکو اور کیڑے مکوڑوں سے بچ سکو، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد ِ نبوی کے ساتھ ملا ہوا ہو، ایک روایت میں ہے: مجھے تو یہ بات بھی خوش نہیں کرتی کہ میرا گھر اللہ کے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اس کی یہ بات مجھے سب سے زیادہ بری لگی، بہرحال میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ساری بات بتلا دی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! (میں چاہتا ہوں کہ جب میں مسجد کی طرف) آؤں اور پھر اپنے اہل کی طرف واپس جاؤں تو میرے قدموں کے یہ سارے نشانات لکھے جائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ سارا کچھ عطا کر دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اس شخص کے لیے ہر قدم کے بدلے درجہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تونے نیت کی ہے، یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس اجر کی تو نے نیت کی ہے، وہ تیرے لیے ہے۔

8888

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8888

Sahih

۔ (۸۸۸۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤِمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَائِمٌ اِذْ ضَحِکَ فِیْ مَنَامِہِ، ثُمَّ اسْتَیْقَظَ، فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مِمَّ ضَحِکْتَ؟ قَالَ: (( اِنَّ اُنَاسًا مِنْ اُمَّتِیْیَؤُمُّوْنَ ھٰذَا الْبَیْتَ، لِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ، قَدِ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ، فَلَمَّا بَلَغُوْا البَیْدَائَ خُسِفَ بِھِمْ وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی،یَبْعَثُھُمُ اللّٰہِ عَلٰی نِیَّاتِھِمْ۔)) قُلْتُ: وَکَیْفَیَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی نِیَّاتِھِمْ وَمَصَادِرُھُمْ شَتّٰی؟ قَالَ: ((جَمَعَھُمُ الطَّرِیْقُ، مِنْھُمُ الْمُسْتَبْصِرُ، وَابْنُ السَّبِیّلِ، وَالْمَجْبُوْرُ، یَھْلِکُوْن مَھْلِکًا وَاحِدًا وَیَصْدُرُوْنَ مَصَادِرَ شَتّٰی۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو رہے تھے کہ اچانک نیند میں ہی مسکرانے لگے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا: ا ے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرائے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ (پر چڑھائی کرنے کا) قصد کریں گے، ان کا ہدف وہ قریشی شخص ہو گا، جو حرم میں پناہ لے چکا ہو گا، یہ لوگ جب بیداء مقام تک پہنچیں گے تو اِن سب کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن (قیامت والے دن) ان کے نکلنے کی جگہیں الگ الگ ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان کا ان کے نیتوں کے مطابق حشر کرے گا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ ا ِن کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا اور ان کی نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں گے، یہ کیسے ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایک راستے پر جمع ہو گئے ہوں گے، وگرنہ ان میں بعض بصیرت والے ہوں گے، بعض مسافر ہوں گے اور بعض مجبور ہوں گے، لیکن سب ایک ہلاکت گاہ میں ہلاک ہو جائیں گے اور مختلف مقامات سے نکلیں گے۔

8889

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8889

Sahih

۔ (۸۸۸۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَنْزَلَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ عَذَابًا اَصَابَ مَنْ کَانَ فِیْھِمْ ثُمَّ بُعِثُوْا عَلٰی اَعْمَالِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۵۸۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتے ہیں، تو اس میں جو افراد بھی ہوں، سب اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔

8890

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8890

Sahih

۔ (۸۸۹۰)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( مَا اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یُصَابُ بِبَلَائٍ فِیْ جَسَدِہِ، اِلَّا اَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْمَلَائِکَۃَ الَّذِیْنَیَحْفَظُوْنَہٗ، فَقَالَ: اُکْتُبْوْا لِعَبْدِیْ کُلَّ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ مَا کَانَ یَعْمَلُ مِنْ خَیْرٍ، مَا کَانَ فِیْ وِثَاقِیْ۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی جسمانی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ (نیکیاں) لکھنے والے فرشتوں سے کہتے ہیں: میرا بندہ جب تک میری (آزمائش کی) قید میں ہے، تم اس وقت تک اس کے شب و روز کے نیکیوں کے معمولات لکھتے رہو۔

8891

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8891

Sahih

۔ (۸۸۹۱)۔ عَنْ عَائشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَامِنْ رَجُلٍ تَکُوْنُ لَہٗسَاعَۃٌ مِنَ اللَّیْلِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: صَلاۃٌ مِنَ اللَّیْلِ) یَقُوْْمُھَا فَیَنَامُ عَنْھَا، اِلَّا کُتِبَ لَہُ اَجْرُ صَلَاتِہِ، وَکَانَ نَوْمُہُ عَلَیْہِ صَدَقَۃً تُصُدِّقَ بِہٖعَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو کچھ وقت کے لیے قیام کرتا ہو، جب وہ اس قیام سے سو جائے تو اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس پر صدقہ ہوتی ہے، جو صدقہ اس پر کر دیا جاتا ہے۔

8892

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8892

Sahih

۔ (۸۸۹۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَتِ الْمَلائِکَۃُ: رَبِّ! ذَاکَ عَبْدُکَ یُرِیْدُ اَنْ یَّعْمَلَ سَیِّئَۃً وَھُوَ اَبْصَرُ بِہٖ،فَقَالَ: اُرْقُبُوْہُ،فَاِنْعَمِلَھَافَاکْتُبُوْھَا لَہُ بِمِثْلِھَا، وَاِنْ تَرَکَھَا فَاکْتُبُوْھَا لَہُ بِحَسَنَۃٍ، اِنَّمَا تَرَکَھَا مِن جَرَّایَ۔)) (مسند احمد: ۸۲۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فرشتے کہتے ہیں: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ برائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ وہ زیادہ جاننے والا ہوتا ہے، پس وہ کہتا ہے: انتظار کرو، اگر وہ اس برائی کا ارتکاب کر تو تم اس کے لیے ایک برائی لکھ لو اور اگر وہ اس کو ترک کر دے تو اس وجہ سے تم اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو، اس نے صرف میری وجہ سے اسے ترک کیا ہے۔