Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1764

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ ممتحنہ {لَا یَنْہَا کُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْ کُمْ فِی الدِّیْنِ…} کی تفسیر

1 hadith in this chapter

8790

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8790

Zaeef

۔ (۸۷۹۰)۔ عن عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: قَدِمَتْ قُتَیْلَۃُ ابْنَۃُ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ عَبْدِ أَ سْعَدَ مِنْ بَنِی مَالِکِ بْنِ حَسَلٍ عَلَی ابْنَتِہَا أَ سْمَائَ ابْنَۃِ أَ بِی بَکْرٍ بِہَدَایَا ضِبَابٍ وَأَ قِطٍ وَسَمْنٍ وَہِیَ مُشْرِکَۃٌ، فَأَ بَتْ أَ سْمَائُ أَ نْ تَقْبَلَ ہَدِیَّتَہَا وَتُدْخِلَہَا بَیْتَہَا، فَسَأَ لَتْ عَائِشَۃُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّینِ} [الممتحنۃ: ۸] إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ فَأَمَرَہَا أَنْ تَقْبَلَ ہَدِیَّتَہَا وَأَنْ تُدْخِلَہَا بَیْتَہَا۔ (مسند احمد: ۱۶۲۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ فتیلہ بنت عبدالعزیٰ گوہ، پنیر اور گھی جیسے تحائف لے کر اپنی بیٹی سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس آئی، جبکہ وہ فتیلہ مشرک خاتون تھی، اس لیے سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کے تحائف قبول کرنے سے انکار کر دیا اوراسے گھر میں بھی داخل ہونے سے روک دیا، پھر جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {لَا یَنْہٰیکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۔} … اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا بر تاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو حکم دیا کہ اس کا ہدیہ قبول کرلیں اور اپنے گھر میں داخل ہونے دیں۔