Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8788
۔ (۸۷۸۸)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَرَّقَ نَخْلَ بَنِی النَّضِیرِ وَقَطَّعَ وَہِیَ الْبُوَیْرَۃُ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَ وْ تَرَکْتُمُوْہَا قَائِمَۃً عَلٰی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ} [الحشر: ۵]۔ (مسند احمد: ۶۰۵۴)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بویرہ جگہ پر بنو نضیر کی کھجوروں کو جلایا اور ان کو کاٹ ڈالا، اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِینَۃٍ أَ وْ تَرَکْتُمُوْہَا قَائِمَۃً عَلَی أُصُولِہَا فَبِإِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِینَ} … جو بھی کھجور کا درخت تم نے کاٹا،یا اسے اس کی جڑوں پر کھڑا چھوڑا تو وہ اللہ کی اجازت سے تھا اور تاکہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔