Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1760

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ مجادلہ {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا…} کی تفسیر

4 hadiths in this chapter

8783

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8783

Zaeef

۔ (۸۷۸۳)۔ عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَعْلَبَۃَ قَالَتْ: وَاللّٰہِ فِیَّ وَفِی أَ وْسِ بْنِ صَامِتٍ أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ صَدْرَ سُورَۃِ الْمُجَادَلَۃِ، قَالَتْ: کُنْتُ عِنْدَہُ وَکَانَ شَیْخًا کَبِیرًا، قَدْ سَائَ خُلُقُہُ وَضَجِرَ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَیَّیَوْمًا فَرَاجَعْتُہُ بِشَیْئٍ فَغَضِبَ فَقَالَ: أَ نْتِ عَلَیَّ کَظَہْرِ أُمِّی، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ فَجَلَسَ فِی نَادِی قَوْمِہِ سَاعَۃً ثُمَّ دَخَلَ عَلَیَّ فَإِذَا ہُوَ یُرِیدُنِی عَلٰی نَفْسِی، قَالَتْ: فَقُلْتُ: کَلَّا، وَالَّذِی نَفْسُ خُوَیْلَۃَ بِیَدِہِ! لَا تَخْلُصُ إِلَیَّ وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ حَتّٰییَحْکُمَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ فِینَا بِحُکْمِہِ، قَالَتْ: فَوَاثَبَنِی وَامْتَنَعْتُ مِنْہُ فَغَلَبْتُہُ بِمَا تَغْلِبُ بِہِ الْمَرْأَ ۃُ الشَّیْخَ الضَّعِیفَ فَأَ لْقَیْتُہُ عَنِّی، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْتُ إِلٰی بَعْضِ جَارَاتِی فَاسْتَعَرْتُ مِنْہَا ثِیَابَہَا ثُمَّ خَرَجْتُ حَتّٰی جِئْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسْتُ بَیْنَیَدَیْہِ، فَذَکَرْتُ لَہُ مَا لَقِیتُ مِنْہُ، فَجَعَلْتُ أَ شْکُو إِلَیْہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أَ لْقٰی مِنْ سُوئِ خُلُقِہِ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((یَا خُوَیْلَۃُ! ابْنُ عَمِّکِ شَیْخٌ کَبِیرٌ، فَاتَّقِی اللّٰہَ فِیہِ۔)) قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! مَا بَرِحْتُ، حَتّٰی نَزَلَ فِیَّ الْقُرْآنُ فَتَغَشّٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا کَانَ یَتَغَشَّاہُ ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ لِی: ((یَا خُوَیْلَۃُ! قَدْ أَ نْزَلَ اللّٰہُ فِیکِ وَفِی صَاحِبِکِ۔))، ثُمَّ قَرَأَ عَلَیَّ {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ} إِلٰی قَوْلِہِ: {وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ أَ لِیمٌ} [المجادلۃ: ۱۔۴] فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مُرِیہِ فَلْیُعْتِقْ رَقَبَۃً۔))، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! یَا رَسُولَ اللّٰہِ، مَا عِنْدَہُ مَا یُعْتِقُ، قَالَ: ((فَلْیَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّہُ شَیْخٌ کَبِیرٌ مَا بِہِ مِنْ صِیَامٍ، قَالَ: ((فَلْیُطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا ذَاکَ عِنْدَہُ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَإِنَّا سَنُعِینُہُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَأَ نَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! سَأُعِینُہُ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ: قَدْ أَ صَبْتِ وَأَ حْسَنْتِ فَاذْہَبِی فَتَصَدَّقِی عَنْہُ، ثُمَّ اسْتَوْصِی بِابْنِ عَمِّکِ خَیْرًا، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، قَالَ سَعْدٌ: الْعَرَقُ الصِّنُّ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ خولہ بنت ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے سورۂ مجادلہ کا ابتدائی حصہ میرے اور میرے خاوند سیدنا اوس بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں نازل کیا، تفصیل یہ ہے: میں ان کی بیوی تھی، اوس بوڑھے اور ضعیف ہو گئے، جس کی وجہ سے بداخلاق ہو گئے تھے اور تنگ پڑ جاتے تھے، ایک دن میرے پاس آئے، میں نے ان سے تکرار کیا، وہ غصے میں آئے اور کہا:تو میرے اوپر میری ماں کی پشت کی مانند ہے، پھر باہر چلے گئے، کچھ دیر اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھےرہے، پھر میرے پاس آئے اور مجھ سے صحبت کرنا چاہی، لیکن میں نے کہا: ہر گز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ رضی اللہ عنہاکی جان ہے! تو مجھ تک رسائی حاصل نہیں کر سکے گا، تو نے تو ابھی یہ کچھ کہا ہے،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فیصلہ نہ کردیں، وہ میری طرف کود پڑے، لیکن میں خود کو ان سے محفوظ کرنے میں کامیاب ہو گئی، جیسے ایک عورت اپنے بوڑھے خاوندپر غالب آ جاتی ہے، میں نے انہیں دور پھینکا اور میں باہر نکل گئی، اپنی ہمسائی سے کپڑے لیے اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھ کر سارا واقعہ بیان کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اپنے خاوند کی بد خلقی کی شکایت کرنے لگی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے خولہ! وہ تیرا چچے کا بیٹا ہے اور بوڑھا ہو گیا ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ لیکن میں اسی طرح تکرار کرتی رہی حتیٰ کہ میرے بارے میں قرآن مجید نازل ہونے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وہ کیفیت طاری ہو گئی، جو وحی میں ہوتی تھی، پھر وہ کیفیت ختم ہوئی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے خولہ! تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوگیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ … … وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ أَ لِیمٌ}۔سیدنا خولہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: خاوند سے کہو کہ ایک گردن آزاد کرے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے پاس اتنی گنجائش تو نہیں ہے کہ وہ غلام آزاد کرسکے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس سے کہو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بہت بوڑھا ہے اور وہ روزے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے کہو کہ ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھانا کھلا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بھی اس کے پاس نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ٹوکرا کھجوروں کا میں تعاون کر دیتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک ٹوکرا میں بھی مدد کر دیتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے بہت درست اور اچھا فیصلہ کیا ہے، اب جا اور اس کی طرف سے صدقہ کر، پھر اپنے چچے کے بیٹے سے ہمدردی کا برتاؤ کرنا۔ پس میں نے ایسا ہی کیا۔

8784

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8784

Sahih

۔ (۸۷۸۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی وَسِعَ سَمْعُہُ الْأَ صْوَاتَ، لَقَدْ جَاءتِ الْمُجَادِلَۃُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُکَلِّمُہُ، وَأَ نَا فِی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ، مَا أَ سْمَعُ مَا تَقُولُ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا} [المجادلۃ: ۱] إِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: تمام تعریفات اس اللہ کے لئے ہیں، جس کا سننا تمام آوازوں کو شامل ہے، بحث و تکرار کرنے والی (سیدہ خولہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور گفتگو کرنے لگی، جبکہ میں گھر کے ایک کونے میں تھی، میں اس کی بات نہ سن سکی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر دیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ۔}… یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

8785

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8785

Sahih

۔ (۸۷۸۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: أَ تَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَاسٌ مِنْ الْیَہُودِ فَقَالُوْا: السَّامُ عَلَیْکَ،یَا أَ بَا الْقَاسِمِ!، فَقَالَ: ((وَعَلَیْکُمْ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ: وَعَلَیْکُمُ السَّامُ وَالذَّامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَائِشَۃُ! لَا تَکُونِی فَاحِشَۃً۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَ مَا سَمِعْتَ مَا قَالُوْا: السَّامُ عَلَیْکَ؟ قَالَ: ((أَ لَیْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَیْہِمْ الَّذِی قَالُوْا قُلْتُ وَعَلَیْکُمْ۔)) قَالَ ابْنُ نُمَیْرٍیَعْنِی فِی حَدِیثِ عَائِشَۃَ: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ فِی حَدِیثِہِ: فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ {وَإِذَا جَائُ وْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ} [المجادلۃ: ۸] حَتّٰی فَرَغَ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے اور کہا : اے ابو القاسم ! اَلسَّامُ عَلَیْکَ (تجھ پر موت ہو )، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُم (اور تم پر بھی ہو)۔لیکن سیدہ عائشہ نے کہا: تم پر موت بھی ہو اور مذمت بھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اتنی بد گوئی نہ کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے سنا نہیں کہ انھوں نے کیا کہا، ان لوگوں نے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو کیا میں نے ان کا جواب دے نہیں دیا، میں نے کہہ تو دیا ہے: وَعَلَیْکُمْ۔ ابن نمیر راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فحش اور بہ تکلف بدگوئی کو پسند نہیں کرتا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِذَا جَاء ُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہَا فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔} … اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔

8786

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8786

Sahih

۔ (۸۷۸۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو أَ نَّ الْیَہُودَ کَانُوْا یَقُولُونَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : سَامٌ عَلَیْکَ، ثُمَّ یَقُولُونَ فِی أَ نْفُسِہِمْ {لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُولُ} فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {وَإِذَا جَائُ وْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ} [المجادلۃ: ۸] إِلٰی آخِرِ الْآیَۃَ۔ (مسند احمد: ۶۵۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ یہودی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سَامٌ عَلَیْکَ (تجھ پر موت ہو)کہا کرتے تھے، پھر اپنے دل میں ہی کہتے: اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی وجہ سے عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَاِذَا جَاء ُوْکَ حَیَّوْکَ بِمَا لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ وَیَقُوْلُوْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ لَوْلَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہَا فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔} … اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔