Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1743

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ حجرات {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ…}کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8758

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8758

Sahih

۔ (۸۷۵۸)۔ عَنِ ابْنِ أَ بِی مُلَیْکَۃَ قَالَ: کَادَ الْخَیِّرَانِ أَ نْ یَہْلِکَا أَ بُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، لَمَّا قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفْدُ بَنِی تَمِیمٍ أَ شَارَ أَحَدُہُمَا بِالْأَ قْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِیِّ أَخِی بَنِی مُجَاشِعٍ، وَأَ شَارَ الْآخَرُ بِغَیْرِہِ، قَالَ أَ بُو بَکْرٍ لِعُمَرَ: إِنَّمَا أَ رَدْتَ خِلَافِی، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَ رَدْتُ خِلَافَکَ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمَا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَ صْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ} إِلٰی قَوْلِہِ: {عَظِیمٌ } [الحجرات: ۲] قَالَ ابْنُ أَ بِی مُلَیْکَۃَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ: فَکَانَ عُمَرُ بَعْدَ ذٰلِکَ، وَلَمْ یَذْکُرْ ذٰلِکَ عَنْ أَ بِیہِیَعْنِی أَ بَا بَکْرٍ، إِذَا حَدَّثَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدَّثَہُ کَأَ خِی السِّرَارِ لَمْ یَسْمَعْہُ حَتّٰییَسْتَفْہِمَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: قریب تھا کہ اس امت کے دو بہترین آدمی سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہلاک ہو جاتے،ہوا یوں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بنو تمیم کا وفد آیا تو سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما میں سے ایک نے رائے دی کہ اقرع بن حابس حنظلی کو ان کا امیر مقرر کیا جائے، جبکہ دوسرے نے اور آدمی (قعقعاع بن معبد) کا نام پیش کیا، اس پر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تمہارا مقصد میری مخالفت کرنا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:، نہیں، میرا ارادہ تمہاری خلاف ورزی کرنا نہیں تھا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ان کی آوازیں بلند ہونے لگیں، سو یہ آیات نازل ہوئیں: {یَا أَ یُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَ صْوَاتَکُمْ … … عَظِیمٌ} ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہمانے کہا اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کرتے تو ایک راز دان کی طرح کرتے، حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بات کو دوہرانے کا مطالبہ کرتے۔

8759

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8759

Sahih

۔ (۸۷۵۹)۔ عَنْ أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: { یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوْا أَ صْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ} إِلٰی قَوْلِہِ: {وَأَ نْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ} [الحجرات: ۲] وَکَانَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسِبْنِ الشَّمَّاسِ رَفِیعَ الصَّوْتِ فَقَالَ: أَ نَا الَّذِی کُنْتُ أَ رْفَعُ صَوْتِی عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَبِطَ عَمَلِی، أَ نَا مِنْ أَ ہْلِ النَّارِ، وَجَلَسَ فِی أَ ہْلِہِ حَزِینًا، فَتَفَقَّدَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَانْطَلَقَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِلَیْہِ، فَقَالُوْا لَہُ: تَفَقَّدَکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَکَ؟ فَقَالَ: أَنَا الَّذِی أَرْفَعُ صَوْتِی فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ، وَأَجْہَرُ بِالْقَوْلِ حَبِطَ عَمَلِی وَأَ نَا مِنْ أَ ہْلِ النَّارِ، فَأَ تَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ خْبَرُوہُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ: ((لَا، بَلْ ہُوَ مِنْ أَ ہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ أَ نَسٌ: وَکُنَّا نَرَاہُ یَمْشِی بَیْنَ أَ ظْہُرِنَا، وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَ نَّہُ مِنْ أَ ہْلِ الْجَنَّۃِ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْیَمَامَۃِ کَانَ فِینَا بَعْضُ الِانْکِشَافِ فَجَائَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَقَدْ تَحَنَّطَ وَلَبِسَ کَفَنَہُ، فَقَالَ: بِئْسَمَا تُعَوِّدُونَ أَقْرَانَکُمْ فَقَاتَلَہُمْ حَتّٰی قُتِلَ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہ بِالْقَوْلِ کَجَـہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۔} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آوازیں نبی کی آواز کے اوپر بلند نہ کرو اور نہ بات کرنے میں اس کے لیے آواز اونچی کرو، تمھارے بعض کے بعض کے لیے آواز اونچی کرنے کی طرح، ایسا نہ ہوکہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم شعور نہ رکھتے ہو۔ تو سیدنا ثابت بن قیس بن شماس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ بلند آواز والے تھے، یہ کہنے لگے: میری آواز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز سے بلند ہے، میرے اعمال تو ضائع ہو گئے، میں تو دوزخی ہوا، یہ سوچ کر اور غمگین ہو کر گھر میں بیٹھ گئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو گم پا کر ان کے بارے میں پوچھا، ایک آدمی (سیدنا عاصم بن عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) ان کے پاس گیا اور کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمہیں گم پا کر تمہاری تلاش کر رہے ہیں، کیا وجہ ہے: کہنے لگے: میں وہ ہوں کہ میری آواز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز سے بلند ہے، میں اس بلند آوازی کی وجہ سے دوزخی ہوا، میرے تو تمام اعمال ضائع ہوگئے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ تو جنتی ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے متعلق ہمارا یہی خیال تھا کہ وہ ہمارے درمیان چلتے تو تھے لیکن ہم یہی سمجھتے تھے کہ وہ جنتی ہیں۔ جب جنگ یمامہ ہوئی تو ہمارے درمیان شکست کے آثار نمودار ہوئے، سیدنا ثابت بن قیس بن شماس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور انہوں نے حنوط خوشبو لگا رکھی تھی اور کفن پہن رکھا تھا اور کہا: تم نے اپنے مد مقابل لوگوں کو بری عادت ڈالی ہے، پھر انھوں نے ان سے لڑائی کی،یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے۔