Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1729

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ} کی تفسیر

3 hadiths in this chapter

8740

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8740

Sahih

۔ (۸۷۴۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ یَہُوْدِیٌّ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ جَالِسٌ قَالَ: کَیْفَ تَقُولُ یَا أَبَا الْقَاسِمِ یَوْمَیَجْعَلُ اللّٰہُ السَّمَائَ عَلٰی ذِہْ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ، وَالْأَ رْضَ عَلٰی ذِہْ، وَالْمَائَ عَلٰی ذِہْ، وَالْجِبَالَ عَلٰی ذِہْ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلٰی ذِہْ، کُلُّ ذٰلِکَ یُشِیرُ بِأَصَابِعِہِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ} [الزمر: ۶۷] (مسند احمد: ۲۹۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے ابو القاسم! اس بارے میں آپ کیا کہیں گے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اس انگشت ِشہادت پر اٹھا لے گا اور زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور باقی تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اٹھا لے گا؟ ساتھ ہی اس یہودی نے انگلیوں کی طرف اشارہ کیا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ} … اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کی اتنی قدر نہیں کی، جتنی کہ اس کی قدر کی جانی چاہیے تھی۔

8741

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8741

Sahih

۔ (۸۷۴۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ فَقَالَ: یَا أَ بَا الْقَاسِمِ! أَ بَلَغَکَ أَ نَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَحْمِلُ الْخَلَائِقَ عَلٰی أُصْبُعٍ، وَالسَّمٰوَاتِ عَلٰی أُصْبُعٍ، وَالْأَ رَضِینَ عَلٰی أُصْبُعٍ، وَالشَّجَرَ عَلٰی أُصْبُعٍ، وَالثَّرَی عَلٰی أُصْبُعٍ؟ فَضَحِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ} [الزمر: ۶۷] الْآیَۃَ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابو القاسم! کیایہ بات آپ تک پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کو ایک انگلی پر،آسمانوں کو ایک انگلی پر،زمینوںکو ایک انگلی پر،درختوں کوایک انگلی پر اور تر مٹی کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی بات پر اتنا زیادہ ہنسے کہ آپ کی داڑھیں مبارک نمایاں ہو گئیں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: {وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ} … اورانہوں نے اللہ تعالیٰ کی اتنی قدر نہیں کی، جتنی کہ اس کی قدر کی جانی چاہیے تھی۔

8742

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8742

Sahih

۔ (۸۷۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَ ہَذِہِ الْآیَۃَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی الْمِنْبَرِ: {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَ رْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُونَ} [الزمر: ۶۷] وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ ہٰکَذَا بِیَدِہِ وَیُحَرِّکُہَایُقْبِلُ بِہَا وَیُدْبِرُ: ((یُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَہُ أَ نَا الْجَبَّارُ، أَ نَا الْمُتَکَبِّرُ، أَ نَا الْمَلِکُ، أَ نَا الْعَزِیزُ، أَ نَا الْکَرِیمُ۔)) فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمِنْبَرُ حَتَّی قُلْنَا لَیَخِرَّنَّ بِہِ۔ (مسند احمد: ۵۴۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن منبر پر یہ اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَ رْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُونَ} … اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہو ئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔ ساتھ ہی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے حرکت دینا شروع کی اور فرمایا: رب اپنی ذات کی بزرگی بیان کر رہا ہے کہ میں جبار ہوں، میں بڑائی والا ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں غالب ہوں،میں کریم ہوں۔ جب آپ یہ کہہ رہے تھے تو منبر اس قدر لرز رہا تھا کہ ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں آپ منبر سے نیچے نہ گر جائیں۔