Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1718

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ…}کی تفسیر

4 hadiths in this chapter

8719

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8719

Sahih

۔ (۸۷۱۹)۔ عَنْ أَ نَسٍ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَیْنَبَ، أَ ہْدَتْ إِلَیْہِ أُمُّ سُلَیْمٍ حَیْسًا فِی تَوْرٍ مِنْ حِجَارَۃٍ، قَالَ أَ نَسٌ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاذْہَبْ فَادْعُ مَنْ لَقِیتَ۔)) فَجَعَلُوْا یَدْخُلُونَیَأْکُلُونَ وَیَخْرُجُونَ وَوَضَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ عَلَی الطَّعَامِ وَدَعَا فِیہِ وَقَالَ مَا شَائَ اللّٰہُ أَ نْ یَقُولَ، وَلَمْ أَ دَعْ أَ حَدًا لَقِیتُہُ إِلَّا دَعَوْتُہُ، فَأَ کَلُوْا حَتَّی شَبِعُوْا وَخَرَجُوْا، فَبَقِیَتْ طَائِفَۃٌ مِنْہُمْ، فَأَ طَالُوْا عَلَیْہِ الْحَدِیثَ، فَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَحْیِی مِنْہُمْ أَ نْ یَقُولَ لَہُمْ شَیْئًا، فَخَرَجَ وَتَرَکَہُمْ فِی الْبَیْتِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَ نْ یُؤْذَنَلَکُمْ إِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ وَلٰکِنْ إِذَا دُعِیتُمْ فَادْخُلُوْا} حَتّٰی بَلَغَ {لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ} [الأحزاب: ۵۳]۔ (مسند احمد: ۱۲۶۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کی تو سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے پتھر کے ایک تھال میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے حیس بطور تحفہ بھیجا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ فرمایا: جاؤ اور جو بھی ملے اس کو بلا لاؤ۔ پس لوگوں نے داخل ہونا اور کھانا شروع کر دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ مبارک رکھا،اس پر برکت کی دعا کی اور جو اللہ کو منظور تھا، اس پرپڑھا، اُدھر میں نے بھی کسی کونہیں چھوڑا، مگر اس کو دعوت دی، لوگوں نے کھانا کھایا اور سیر ہوئے اور باہر نکل گئے، لیکن ان میں سے کچھ لوگ اندر ہی بیٹھ کر گپیں لگاتے رہے، اب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو کچھ کہنے سے شرماتے تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر سے باہر تشریف لے گئے اور ان کو گھر میں چھوڑ دیا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوتَ النَّبِیِّ … …لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِہِنَّ}

8720

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8720

Sahih

۔ (۸۷۲۰)۔ عَنْ أَ نَسٍ قَالَ: دَعَوْتُ الْمُسْلِمِینَ إِلٰی وَلِیمَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَبِیحَۃَ بَنٰی بِزَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَأَ شْبَعَ الْمُسْلِمِینَ خُبْزًا وَلَحْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ، فَأَ تٰی حُجَرَ نِسَائِہِ فَسَلَّمَ عَلَیْہِنَّ فَدَعَوْنَ لَہُ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی بَیْتِہِ وَأَ نَا مَعَہُ، فَلَمَّا انْتَہٰی إِلَی الْبَیْتِ فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرٰی بَیْنَہُمَا الْحَدِیثُ فِی نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ، فَلَمَّا بَصَرَ بِہِمَا وَلّٰی رَاجِعًا، فَلَمَّا رَأَی الرَّجُلَانِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ وَلّٰی عَنْ بَیْتِہِ قَامَا مُسْرِعَیْنِ، فَلَا أَ دْرِی أَ نَا أَ خْبَرْتُہُ أَ وْ أُخْبِرَ بِہِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلٰی مَنْزِلِہِ وَأَرْخَی السِّتْرَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ، وَأُنْزِلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے جس صبح نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ رخصتی کے بعد ولیمہ کیا تھا، میں نے لوگوں کواس میں شمولیت کی دعوت دی تھی، آپ نے لوگوں کو روٹی اور گوشت سے سیر کیا، پھر آپ لوٹے جس طرح اپنی بیویوں کے حجروں میں لوٹتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر سلام کیا اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے دعا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر کی طرف لوٹے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر تک پہنچے تو ابھی تک ایک کونے میں دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس چلے گئے، جب ان دو آدمیوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر سے بہت تیزی کے ساتھ باہر نکل گئے، اب میں نہیں جانتا کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کے چلے جانے کی خبر دی یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی گئی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر کی طرف لوٹے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا اور پردہ والی آیت نازل ہوئی۔

8721

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8721

Sahih

۔ (۸۷۲۱)۔ عَنْ سَلَمِ نِ الْعَلَوِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ: لَمَّا نَزَلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ جِئْتُ اَدْ خُلُ کَمَا کُنْتُ اَدْخُلُ فَقَالَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَرَائَکَ یَا بُنَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب پردہ والی آیت نازل ہوئی تو میں آپ کے گھر میں داخل ہونے کے لیے آیا، جیسے پہلے داخل ہوتا تھا، لیکن اس بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیارے بیٹے! پیچھے ہٹ جاؤ (اب پردے کا حکم آ گیا ہے)۔

8722

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8722

Sahih

۔ (۸۷۲۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ: أَ نَّ أَ زْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُنَّ یَخْرُجْنَ بِاللَّیْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَی الْمَنَاصِعِ وَہُوَ صَعِیدٌ أَ فْیَحُ، وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَقُولُ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : احْجُبْ نِسَائَکَ، فَلَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ، فَخَرَجَتْ سَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ زَوْجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً مِنْ اللَّیَالِی عِشَائً، وَکَانَتْ امْرَأَ ۃً طَوِیلَۃً، فَنَادَاہَا عُمَرُ: أَلَا قَدْ عَرَفْنَاکِ یَا سَوْدَۃُ! حِرْصًا عَلَی أَ نْ یُنْزَلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں قضائے حاجت کے لئے باہر مناصع کی جانب نکلتی تھیں،یہ ایک وسیع میدان تھا، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہتے رہتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا نہیں کیا، ایک رات سیدہ سودہ بنت زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عشاء کے وقت باہر نکلیں، وہ ایک لمبے قد والی خاتون تھیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: خبردار! اے سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا ہے۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ پردے کا حکم نازل ہو، پس پردہ کا حکم نازل ہو گیا۔