Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1700

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8693

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8693

Sahih

۔ (۸۶۹۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزّ َوَجَلَّ {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ} قَالَ: أَ تَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَیْہِ ثُمَّّ نَادٰییَا صَبَاحَاہْ! فَاجْتَمَعَ النَّاسُ اِلَیْہِ بَیْنَ رَجُلٍ یَجِیْئُ وَبَیْنَ رَجُلٍ یَبْعَثُ رَسُوْلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَابَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! یَابِنِیْ فِھْرٍ! یَابَنِیْ لُؤَیٍّ! أَ رَأَ یْتُمْ لَوْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِسَفْحِ ھٰذَا الْجَبَلِ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ صَدَّقْتُمُوْنِیْ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاِنِّی نَذِیْرٌ لَکُمْ بَیْنَیَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ۔)) فَقَالَ اَبُوْ لَھَبٍ: تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْیَوْم!ِ اَمَا دَعَوْتَنَا اِلَّا لِھٰذَا؟ فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَتَبَّ}۔ (مسند احمد: ۲۸۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ}… اور اپنے قریبی زیادہ رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا پہاڑی پر تشریف لائے اور اس پر چڑھ کر یہ آواز دی: یَا صَبَاحَاہْ! پس لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہو گئے، کوئی خود آ گیا اور کسی نے اپنا قاصد بھیج دیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک لشکر ہے، وہ تم پر شبخون مارنا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میں تم کو سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا: سارا دن تجھ پر ہلاکت پڑتی رہے، کیا تو نے ہمیں صرف اس مقصد کے لیے بلایا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَتَبَّ} … ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔

8694

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8694

Sahih

۔ (۸۶۹۴)۔ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ مُخَارِقٍ وَزُہَیْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَأَ نْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَ قْرَبِینَ} صَعِدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَقْمَۃً مِنْ جَبَلٍ عَلٰی أَ عْلَاہَا حَجَرٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنْطَلَقَ اِلٰی رَضْمَۃٍ مِنْ جَبَلٍ فَعَلَا اَعْلَاھَا) فَجَعَلَ یُنَادِی: ((یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ! إِنَّمَا أَ نَا نَذِیرٌ، إِنَّمَا مَثَلِی وَمَثَلُکُمْ کَرَجُلٍ رَأَی الْعَدُوَّ، فَذَہَبَ یَرْبَأُ أَ ہْلَہُ، فَخَشِیَ أَ نْ یَسْبِقُوہُ، فَجَعَلَ یُنَادِی، وَیَہْتِفُیَا صَبَاحَاہْ!۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا قبیصہ بن مخازق اور سیدنا زہیر بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ}… اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہاڑ کی سب سے بلند چٹان پر کھڑے ہوئے اور پکارنا شروع کر دیا: اے بنو عبد مناف! بے شک میں ڈرانے والا ہوں، یقینا میری اور تمہاریمثال اس آدمی کی مانند ہے، جو دشمن کو دیکھتا ہے اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کی خاطر وہ ڈرتا ہے، لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ دشمن اس سے پہلے اس کے گھر والوں تک پہنچ جائے گا تو وہ وہیں سے پکارنا شروع کر دیتا ہے اور آواز دیتا ہے: یَا صَبَاحَاہْ!