Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1693

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{وَالَّذِیْنَیُؤْتُوْنَ مَا اُتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8683

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8683

Zaeef

۔ (۸۶۸۳)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْمَکِّیُّ قَالَ: حَدَّثَنِی أَ بُو خَلَفٍ مَوْلٰی بَنِی جُمَحٍ: أَ نَّہُ دَخَلَ مَعَ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَلٰی عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ فِی سَقِیفَۃِ زَمْزَمَ لَیْسَ فِی الْمَسْجِدِ ظِلٌّ غَیْرُہَا، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا وَأَہْلًا بِأَ بِی عَاصِمٍ یَعْنِی عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ، مَا یَمْنَعُکَ أَ نْ تَزُورَنَا أَ وْ تُلِمَّ بِنَا؟ فَقَالَ: أَخْشَی أَ نْ أُمِلَّکِ، فَقَالَتْ: مَا کُنْتَ تَفْعَلُ؟ قَالَ: جِئْتُ أَ نْ أَ سْأَ لَکِ عَنْ آیَۃٍ فِی کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَؤُہَا؟ فَقَالَتْ: أَ یَّۃُ آیَۃٍ، فَقَالَ: {الَّذِینَیُؤْتُونَ مَا آتَوْا} أَ وْ {الَّذِینَیَأْتُونَ مَا أَ تَوْا} [المؤمنون: ۶۰] فَقَالَتْ: أَ یَّتُہُمَا أَ حَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَإِحْدَاہُمَا أَ حَبُّ إِلَیَّ مِنْ الدُّنْیَا جَمِیعًا، أَوْ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، قَالَتْ: أَ یَّتُہُمَا؟ قُلْتُ: {الَّذِینَیَأْتُونَ مَا أَ تَوْا} قَالَتْ: أَ شْہَدُ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَذٰلِکَ کَانَ یَقْرَؤُہَا وَکَذٰلِکَ أُنْزِلَتْ، أَ وْ قَالَتْ: أَ شْہَدُ لَکَذٰلِکَ أُنْزِلَتْ وَکَذٰلِکَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَؤُہَا وَلٰکِنَّ الْہِجَائَ حَرْفٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو خلف عبید بن عمیرکے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس زمزم کے چبوترہ میں آئے، اس کے سوا اس وقت مسجد میں سایہ نہ تھا، سیدہ نے مرحبا اور خوش آمدید کہا اور کہا: ہماری ملاقات میں تمہیں کیا رکاوٹ ہے؟ عبید نے کہا: مجھے یہ اندیشہ رہتا ہے کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں ڈال دوں گا،سیدہ نے کہا: کیسے آئے ہو؟ عبید نے کہا میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ سے ایک آیت کے بارے میں سوال کرنا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسے پڑھا کرتے تھے۔سیدہ نے کہا: وہ کونسی آیت ہے، اس نے کہا: {الَّذِینَ یُؤْتُونَ مَا آتَوْا} یا {الَّذِینَ یَأْتُونَ مَا أَ تَوْا}سیدہ نے کہا: تمہیں ان میں سے کونسی تلاوت زیادہ پسند ہے؟ عبید نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!ان میں سے ایک قرأت مجھے دنیا وما فیہا سے زیادہ پسند ہے، سیدہ نے کہا: وہ کونسی قرأت ہے؟ عبید نے کہا : {الَّذِینَ یَأْتُونَ مَا أَ تَوْا} سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی اور اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے، لیکن حروف تہجی والی بھی ایک قرأت ہے۔

8684

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8684

Sahih

۔ (۸۶۸۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ: أَ نَّہَا قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فِی ہٰذِہِ الْآیَۃِ {الَّذِینَیُؤْتُوْنَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُہُمْ وَجِلَۃٌ أَ نَّہُمْ إِلٰی رَبِّہِمْ رَاجِعُونَ} یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہُوَ الَّذِییَسْرِقُ وَیَزْنِی وَیَشْرَبُ الْخَمْرَ وَہُوَیَخَافُ اللّٰہَ، قَالَ: ((لَا یَا بِنْتَ أَ بِی بَکْرٍ یَا بِنْتَ الصِّدِّیقِ! وَلٰکِنَّہُ الَّذِییُصَلِّی وَیَصُومُ وَیَتَصَدَّقُ وَہُوَ یُخَافُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آیت: {الَّذِینَ یُؤْتُوْنَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُہُمْ وَجِلَۃٌ أَ نَّہُمْ إِلٰی رَبِّہِمْ رَاجِعُونَ}… اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں (سورۂ مومنون: ۶۰) میں نے کہا: (اے اللہ کے رسول!) کیا اس آیت کا مصداق وہ آدمی ہے، جو چوری کرنے والا، زنا کرنے والا اور شراب پینے والا ہو، جبکہ وہ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی ڈر رہا ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اے بنت ِ صدیق! اس آیت سے مراد وہ آدمی ہے، جو نماز بھی پڑھتا ہے، روزے بھی رکھتا ہے اور صدقہ بھی کرتا ہے، لیکن یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اعمال قبول ہی نہ ہوں۔