Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1675

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{وَیَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8658

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8658

Sahih

۔ (۸۶۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَتْ قُرَیْشٌ لِلْیَہُودِ: أَ عْطُونَا شَیْئًا نَسْأَ لُ عَنْہُ ہٰذَا الرَّجُلَ، فَقَالُوْا: سَلُوہُ عَنِ الرُّوحِ، فَسَأَ لُوہُ فَنَزَلَتْ: {وَیَسْأَ لُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَ مْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا} [الاسرائ: ۸۵] قَالُوْا: أُوتِینَا عِلْمًا کَثِیرًا، أُوتِینَا التَّوْرَاۃَ، وَمَنْ أُوتِیَ التَّوْرَاۃَ، فَقَدْ أُوتِیَ خَیْرًا کَثِیرًا، قَالَ: فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِکَلِمَاتِ رَبِّی لَنَفِدَ الْبَحْرُ} [الکھف: ۱۰۹]۔ (مسند احمد: ۲۳۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ قریش نے یہودیوں سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتاؤ، جس کے بارے میں ہم اس آدمی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )سے سوال کریں (اور اس کو لا جواب کر دیں)، انہوں نے کہا: اس سے روح کے بارے میں سوال کرو، پس جب انہوں نے سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَیَسْأَ لُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَ مْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا} … یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے رب کا حکم ہے، تمہیں صرف تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہمیں تو بہت زیادہ علم دیا گیا ہے، ہمیں تورات دی گئی اور جس کو تورات دے دی جائے، اس کو بہت زیادہ بھلائی دے دی جاتی ہے، ان کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: {قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا} … کہہ دےاگرسمندرمیرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔

8659

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8659

Sahih

۔ (۸۶۵۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنْتُ أَ مْشِی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَرْثٍ بِالْمَدِینَۃِ، وَہُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی عَسِیبٍ، قَالَ: فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنْ الْیَہُودِ فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوہُ عَنْ الرُّوحِ، قَالَ بَعْضُہُمْ: لَا تَسْأَ لُوہُ،فَسَأَ لُوْہُ عَنْ الرُّوحِ، فَقَالُوْا: یَا مُحَمَّدُ! مَا الرُّوحُ؟ فَقَامَ فَتَوَکَّأَ عَلَی الْعَسِیبِ، قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّہُ یُوحٰی إِلَیْہِ فَقَالَ: (({وَیَسْأَ لُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَ مْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا} [الاسرائ: ۸۵]۔)) قَالَ: فَقَالَ بَعْضُہُمْ: قَدْ قُلْنَا لَکُمْ: لَا تَسْأَ لُوہُ۔ (مسند احمد: ۳۶۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک ٹہنی پر ٹیک لگارہے تھے،اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا، انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس سے روح کے بارے میں سوال کرو، بعض نے کہا کہ اس سے کوئی بات مت پوچھو، لیکن پھر انہوں نے پوچھ لیا اورکہا: اے محمد! روح کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹہنی پر ٹیک لگا کرکھڑے ہو گئے، میں نے خیال کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَیَسْأَ لُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَ مْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا} … یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے رب کا حکم ہے، تمہیں صرف تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ پھر ان میں سے بعض افراد دوسروں سے کہنے لگے: ہم نے تم کو کہا تو تھا کہ ان سے سوال نہ کرو۔