Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8628
۔ (۸۶۲۸)۔ عن عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: أَ تَی الْحَارِثُ بْنُ خَزَمَۃَ بِہَاتَیْنِ الْآیَتَیْنِ مِنْ آخِرِ بَرَائَ ۃَ: {لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ} إِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: مَنْ مَعَکَ عَلٰی ہٰذَا؟ قَالَ: لَا أَ دْرِی وَاللّٰہِ، إِلَّا أَنِّی أَ شْہَدُ لَسَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَوَعَیْتُہَا وَحَفِظْتُہَا، فَقَالَ عُمَرُ: وَأَ نَا أَشْہَدُ لَسَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثُمَّ قَالَ: لَوْ کَانَتْ ثَلَاثَ آیَاتٍ لَجَعَلْتُہَا سُورَۃً عَلٰی حِدَۃٍ، فَانْظُرُوا سُورَۃً مِنْ الْقُرْآنِ فَضَعُوہَا فِیہَا فَوَضَعْتُہَا فِی آخِرِ بَرَائَـۃَ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۵)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حارث بن خزمہ، سورۂ توبہ کی یہ آخری دو آیتیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لائے، انہوں نے کہا: ان پر تمہارے ساتھ گواہ کون گواہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں ہے، ہاں میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ آیات سنی تھیں اور میں نے ان کو یاد کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھیں، اگر یہ تین آیاتہوتیں تو میں ان کو علیحدہ سورت بنا دیتا، اب تم دیکھو کہ کون سی سورت ان آیات کے لیے زیادہ مناسب ہے، پس اس میں ان کو لکھ دو، پس میں نے ان کو سورۂ توبہ کے آخر میں لکھ دیا۔