Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1643

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ توبہ اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کے نہ لکھنے کی وجہ کا بیان

5 hadiths in this chapter

8614

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8614

Zaeef

۔ (۸۶۱۴)۔ عَنْ یَزِیدَ قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَی الْأَنْفَالِ، وَہِیَ مِنَ الْمَثَانِی وَإِلٰی بَرَائَ ۃٌ، وَہِیَ مِنْ الْمِئِینَ فَقَرَنْتُمْ بَیْنَہُمَا وَلَمْ تَکْتُبُوْا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: بَیْنَہُمَا سَطْرًا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ وَوَضَعْتُمُوہَا فِی السَّبْعِ الطِّوَالِ، مَا حَمَلَکُمْ عَلَیذَلِکَ؟ قَالَ عُثْمَانُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ مِمَّا یَأْتِی عَلَیْہِ الزَّمَانُ، یُنْزَلُ عَلَیْہِ مِنْ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ، وَکَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ الشَّیْئُ،یَدْعُو بَعْضَ مَنْ یَکْتُبُ عِنْدَہُ یَقُولُ: ((ضَعُوْا ہٰذَا فِی السُّورَۃِ الَّتِییُذْکَرُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا۔))، وَیُنْزَلُ عَلَیْہِ الْآیَاتُ فَیَقُولُ: ((ضَعُوْا ہٰذِہِ الْآیَاتِ فِی السُّورَۃِ الَّتِییُذْکَرُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا۔))، وَیُنْزَلُ عَلَیْہِ الْآیَۃُ فَیَقُولُ: ((ضَعُوْا ہٰذِہِ الْآیَۃَ فِی السُّورَۃِ الَّتِییُذْکَرُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا۔)) وَکَانَتْ الْأَ نْفَالُ مِنْ أَ وَائِلِ مَا أُنْزِلَ بِالْمَدِینَۃِ وَبَرَائَ ۃٌ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ، فَکَانَتْ قِصَّتُہَا شَبِیہًا بِقِصَّتِہَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یُبَیِّنْ لَنَا أَ نَّہَا مِنْہَا، وَظَنَنْتُ أَنَّہَا مِنْہَا، فَمِنْ ثَمَّ قَرَنْتُ بَیْنَہُمَا وَلَمْ أَکْتُبْ بَیْنَہُمَا سَطْرًا بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: وَوَضَعْتُہَا فِی السَّبْعِ الطِّوَالِ۔ (مسند احمد: ۳۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم اس پرکیوں آمادہ ہوئے کہ سورۂ انفال جو کہ مَثَانِی سورتوں میں سے ہے اور سورۂ توبہ، جو کہ مِئِیْن سورتوں میں سے ہے، تم نے ان دونوں کو آپس میں ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر بھی نہیں لکھی اور تم نے اس کو سات لمبی سورتوں میں شامل کر دیا، کیا وجہ ہے؟سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بسا اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ کافی عرصے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہی نہ ہوتی اور کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ کئی سورتیں نازل ہو جاتیں، بہرحال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول ہوتا تو کاتب کو بلاتے اور اس سے فرماتے: یہ آیات اس سورت میں لکھو،جس میں ایسے ایسے امور کا ذکر موجود ہے، اگر پھر کوئی آیت اترتی تو پھر فرماتے: یہ آیت اس سورت میں لکھ دو، جس میں ایسا ایسا ذکر کیا گیا ہے۔ اب سورۂ انفال وہ سورت ہے، جو مدینہ میں شروع شروع میں نازل ہوئی اور سورۂ توبہ قرآن مجید کی آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے،جبکہ ان کا واقعہ آپس میں ملتا جلتا ہے، اور اُدھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے سامنے (ان دو سورتوں کے) بارے میں وضاحت نہیں فرمائی تھی، اس لیے میں نے خیال کیا کہ سورۂ انفال، سورۂ توبہ کا حصہ ہے، اس لئے میں نے دونوں کو آپس میں ملا دیا اور درمیان میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کی سطر نہیں لکھی اور اس کو سات لمبی سورتوں میں رکھ دیا۔

8615

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8615

Zaeef

۔ (۸۶۱۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ عَنْ أَ بِی بَکْرٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ بِبَرَائَ ۃٍ لِأَ ہْلِ مَکَّۃَ لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ وَلَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ وَلَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ، مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُدَّۃٌ فَأَ جَلُہُ إِلَی مُدَّتِہِ، وَاللّٰہُ بَرِیئٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَرَسُولُہُ، قَالَ: فَسَارَ بِہَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ: ((اِلْحَقْہُ، فَرُدَّ عَلَیَّ أَ بَا بَکْرٍ وَبَلِّغْہَا أَ نْتَ۔)) قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ بُو بَکْرٍ بَکٰی قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ حَدَثَ فِیَّ شَیْئٌ؟ قَالَ: ((مَا حَدَثَ فِیْکَ اِلَّا خَیْرٌ، اُمِرْتُ اَنْ لَا یُبَلِّغَہٗ اِلَّا اَنَا اَوْ رَجُلٌ مِنِّیْ۔)) (مسند احمد: ۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں امیر حج بنا کر بھیجا اوراہل مکہ سے اس براء ت کا اعلان کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا، کوئی آدمی برہنہ ہو کر طواف نہیں کرے گا، جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو گا، جو مسلمان ہو گا، جس شخص کا پیغمبراسلام ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کسی خاص مدت تک کوئی معاہدہ پہلے سے ہوا ہو، وہ اپنی مدت کے اختتام تک برقرار رہے گا اور یہ کہ اللہ اور اس کا پیغمبر مشرکین سے بری ہیں۔ جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس پیغام کو لے کر روانہ ہوگئے اور تین دن کی مسافت طے کرچکے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: ابوبکر کو پیچھے سے جا ملو، انہیں میری طرف واپس کر دو اور یہ اعلان تم نے کرنا ہے۔ سو انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس آئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول!کیا میرے بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے کہ (مجھے واپس بلا لیا)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے بارے صرف خیر ہی پیش آسکتی ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ پیغام خود مجھے پہنچانا چاہیےیا میرے خاندان کے کسی آدمی کو۔

8616

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8616

Sahih

۔ (۸۶۱۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عَشْرُ آیَاتٍ مِنْ بَرَائَ ۃٍ عَلٰی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، دَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ بَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَبَعَثَہُ بِہَا لِیَقْرَأَ ہَا عَلَی أَ ہْلِ مَکَّۃَ، ثُمَّ دَعَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی: ((أَ دْرِکْ أَ بَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَحَیْثُمَا لَحِقْتَہُ فَخُذِ الْکِتَابَ مِنْہُ، فَاذْہَبْ بِہِ إِلٰی أَ ہْلِ مَکَّۃَ فَاقْرَأْہُ عَلَیْہِمْ۔)) فَلَحِقْتُہُ بِالْجُحْفَۃِ فَأَخَذْتُ الْکِتَابَ مِنْہُ، وَرَجَعَ أَ بُوبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَزَلَ فِیَّشَیْئٌ؟ قَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّ جِبْرِیلَ جَائَ نِیْ فَقَالَ: لَنْ یُؤَدِّیَ عَنْکَ إِلَّا أَ نْتَ أَ وْ رَجُلٌ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب سورۂ براء ت کی دس آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا کہ وہ مکہ والوں کے سامنے ان کی تلاوت کریں، پھر مجھے (علی کو) کو بلایا اور فرمایا: ابو بکر کو جا ملو، جہاں بھی تم ان کو ملو، ان سے یہ پیغام لے لینا اور پھر اہل مکہ کے سامنے جا کر پڑھ دینا۔ پس میں نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حجفہ میں جا ملا اور ان سے خط لے لیا۔ پھر جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹے تو پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، کوئی حکم نہیں ہے، بس جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ پیغام یا تو آپ خود پہنچائیں یا آپ کے خاندان کا کوئی آدمی پہنچائے۔

8617

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8617

Sahih

۔ (۸۶۱۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ بَعَثَہٗبِبَرَائَۃٍ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَسْتُ بِاللَّسِنِ وَلَا بِالْخَطِیبِ، قَالَ: ((مَا بُدٌّ أَ نْ أَ ذْہَبَ بِہَا أَ نَا أَ وْ تَذْہَبَ بِہَا أَ نْتَ۔)) قَالَ: فَإِنْ کَانَ وَلَا بُدَّ فَسَأَ ذْہَبُ أَ نَا، قَالَ: ((فَانْطَلِقْ فَإِنَّ اللّٰہَ یُثَبِّتُ لِسَانَکَ وَیَہْدِی قَلْبَکَ۔))، قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی فَمِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو سورۂ براء ت کا اعلان دے کر بھیجا تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نہ زیادہ زبان دان ہوں اور نہ ہی خطیب ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بغیر کوئی چارئہ کار نہیں ہے کہ میں خود جاؤں، یا پھر تم جاؤ۔ انھوں نے کہا: اگر کوئی چارۂ کار نہیں ہے تو پھر میں ہی چلا جاتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم چلے جاؤ،اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو ثابت قدم رکھے گا اور تمہارے دل کی رہنمائی کرے گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے منہ پر رکھا۔

8618

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8618

Sahih

۔ (۸۶۱۸)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أُثَیْعٍ رَجُلٍ مِنْ ہَمْدَانَ، سَأَ لْنَا عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِأَ یِّ شَیْئٍ بُعِثْتَ یَعْنِییَوْمَ بَعَثَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ أَ بِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی الْحَجَّۃِ؟ قَالَ: بُعِثْتُ بِأَ رْبَعٍ: لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَۃٌ، وَلَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ، وَمَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَہْدٌ فَعَہْدُہُ إِلٰی مُدَّتِہِ، وَلَا یَحُجُّ الْمُشْرِکُونَ وَالْمُسْلِمُونَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا۔(مسند احمد: ۵۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ہمدان کا باشندہ زید بن اثیع سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ ان کو کس چیز کے ساتھ بھیجا گیا تھا، جس دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حج کے لیے بھیجا تھا؟ انھوں نے کہا: مجھے چار چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا تھا:(۱) جنت میں صرف مومن آدمی داخل ہوگا، (۲) کوئی برہنہ آدمی بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، (۳) جس کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی معاہدہ ہے،تو وہ عہد اپنی مدت تک قائم رہے گا اور (۴) اس سال کے بعد مشرک اور مسلمان ایک ساتھ حج نہیں کریں گے۔