Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1639

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8609

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8609

Sahih

۔ (۸۶۰۹)۔ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قُلْنَا لِلزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَا أَ بَا عَبْدِاللّٰہِ! مَا جَائَ بِکُمْ ضَیَّعْتُمْ الْخَلِیفَۃَ حَتّٰی قُتِلَ ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِہِ؟ قَالَ الزُّبَیْرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّا قَرَأْنَاہَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَ بِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} [الأنفال: ۲۵] لَمْ نَکُنْ نَحْسَبُ أَ نَّا أَ ہْلُہَا حَتّٰی وَقَعَتْ مِنَّا حَیْثُ وَقَعَتْ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مطرف کہتے ہیں: ہم نے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! کون سی چیز تم کو یہاں لائی ہے، تم نے خلیفہ راشد کو ضائع کر دیا ہے، حتیٰ کہ انہیں مظلوم شہید کردیا گیا ہے۔ اور پھر تم ان کے خون کا مطالبہ کرنے بیٹھ گئے ہو؟ سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم نے عہد ِ نبوی، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان کی خلافتوں میں یہ آیت پڑھی تھی: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً}… اس فتنہ سے ڈرو جو خاص طور پر صرف انہی لوگوں کو ہی نہیں پہنچے گا جو تم میں سے ظالم ہیں۔ یہ خیال تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم اس کی زد میں آ جائیں گے، بہرحال یہ واقع ہوا اور ہم پر واقع ہوا۔

8609

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8609

Sahih

۔ (۸۶۰۹م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ: قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ: قَالَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ: نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} [الأنفال: ۲۵] فَجَعَلْنَا: نَقُولُ: مَا ہٰذِہِ الْفِتْنَۃُ؟ وَمَا نَشْعُرُ أَ نَّہَا تَقَعُ حَیْثُ وَقَعَتْ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) حسن بصری کہتے ہیں:سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ خاصی تعدادمیں موجود تھے: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اور اس فتنے سے بچ جاؤ جو لازماً ان لوگوں کو خاص طور پر نہیں پہنچے گا جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا۔ اس وقت ہم نے کہا: یہ فتنہ کیا ہوتا ہے،پھر ہمیںپتہ بھی نہ چلا، لیکنیہ فتنہ واقع ہو گیا۔