Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1629

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلٰی اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ} کی تفسیر

3 hadiths in this chapter

8594

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8594

Zaeef

۔ (۸۵۹۴)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَ بِی وَقَّاصٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} [الأنعام: ۶۵] فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ مَا إِنَّہَا کَائِنَۃٌ وَلَمْ یَأْتِ تَأْوِیلُہَا بَعْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار یہ ہونے والا ہے، لیکن ابھی تک اس کی تاویل پوری نہیں ہوئی (یعنی اس کی مصداق صورت سامنے نہیں آئی)۔

8595

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8595

Sahih

۔ (۸۵۹۵)۔ عَنِ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ لَمَّا نَزَلَتْ: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ} قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ عُوذُ بِوَجْہِکَ۔)) فَلَمَّا نَزَلَتْ: {أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ عُوذُ بِوَجْہِکَ۔)) فَلَمَّا نَزَلَتْ: {أَ وْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} [الأنعام: ۶۵] قَالَ: ((ہٰذِہِ أَ ہْوَنُ وَأَ یْسَرُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیری چہرے کی پناہ میں آتا ہوں۔ جب یہ حصہ نازل ہوا: {أَ وْ مِنْ تَحْتِ أَ رْجُلِکُمْ} … یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تیرے چہرے کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ اور جب یہ حصہ نازل ہوا: {أَ وْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} … یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ زیادہ ہلکا اور زیادہ آسان عذاب ہے۔

8596

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8596

Zaeef

۔ (۸۵۹۶)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فِی قَوْلِہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: {ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰی أَ نْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ} الْآیَۃَ [الأنعام: ۶۵]، قَالَ: ہُنَّ أَ رْبَعٌ وَکُلُّہُنَّ عَذَابٌ وَکُلُّہُنَّ وَاقِعٌ لَا مَحَالَۃَ، فَمَضَتْ اثْنَتَانِ بَعْدَ وَفَاۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِخَمْسٍ وَعِشْرِینَ سَنَۃً، فَأُلْبِسُوْا شِیَعًا وَذَاقَ بَعْضُہُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، وَثِنْتَانِ وَاقِعَتَانِ لَا مَحَالَۃَ الْخَسْفُ وَالرَّجْمُ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ۔} … کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمھارے اوپر سے عذاب بھیج دے، یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے، یا تمھیں مختلف گروہ بنا کر گتھم گتھا کر دے اور تمھارے بعض کو بعض کی لڑائی (کا مزہ) چکھائے، دیکھ ہم کیسے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں، تاکہ وہ سمجھیں۔ پھر سیدنا کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ چار امور ہیں، چاروں عذاب کی صورتیں ہیں، سب نے لامحالہ طور پر واقع ہونا ہے، بلکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے پچیس برس بعد واقع ہو چکی ہیں، ایک یہ کہ لوگ فرقوں میں بٹ گئے اور دوسرا پھر انہوں نے ایکدوسرے کو عذاب بھی چکھایا، باقی دو نے بھی لا محالہ طورپر ہو کر رہنا ہے، اور وہ ہیں: زمین میں دھنسنا اور پتھروں کا برسنا۔