Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1625

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8589

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8589

Zaeef

۔ (۸۵۸۹)۔ عَنْ أَ بِی عَامِرٍ الْأَ شْعَرِیِّ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْہُمْ بِأَ وْطَاسٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَ بَا عَامِرٍ! أَ لَا غَیَّرْتَ۔)) فَتَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} [المائدۃ: ۱۰۵] فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((أَ یْنَ ذَہَبْتُمْ؟ إِنَّمَا ہِیَ: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْکُفَّارِ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو عامر اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ان میں سے ایک آدمی اوطاس کی جنگ میں شہید ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اے ابو عامر! تو نے اس برائی کو کیوں نہیں بدلا (یعنی اس سے روکا کیوں نہیں)؟ آگے سے اس نے یہ آیت پڑھی: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غصہ آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہاں چلے گئے ہو، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے ایماندارو! جب تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ تو گمراہ ہونے والے کافر تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

8590

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8590

Sahih

۔ (۸۵۹۰)۔ عَنْ قَیْسٍ قَالَ: قَامَ أَ بُوبَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَ ثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: یَا أَ یُّہَا النَّاسُ! إِنَّکُمْ تَقْرَئُ وْنَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ} [المائدۃ: ۱۰۵] وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَ وُا الْمُنْکَرَ فَلَمْ یُنْکِرُوہُ، أَوْشَکَ أَ نْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ بِعِقَابِہِ۔))، قَالَ: وَسَمِعْتُ اَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: اِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَاِنَّ الْکَذِبَ مُجَانِبٌ لِلْاِیْمَانِ۔ (مسند احمد: ۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ قیس سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: {یَا أَ یُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَ نْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ}… اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے۔ جبکہ ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہفرماتے ہوئے سنا کہ جب لوگ جب برائی کو دیکھیں اور اسے تبدیل نہیں کریں گے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عام عذاب میں مبتلا کر دے۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ ایمان سے مختلف چیز ہے۔