Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1617

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

سورۂ مائدہ کی فضیلت کا بیان

3 hadiths in this chapter

8575

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8575

Sahih

۔ (۸۵۷۵)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: اُنْزِلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُوْرَۃُ الْمَائِدَۃِ، وَھُوَ رَاکِبٌ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ،فَلَمْ تَسْتَطِعْ اَنْ تَحْمِلَہٗفَنَزَلَعَنْہَا۔ (مسنداحمد: ۶۶۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ جب سورۂ مائدہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نزول ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، سواری میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس کیفیت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اٹھا سکے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے اتر آئے۔

8576

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8576

Sahih

۔ (۸۵۷۶)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ قَالَت: اِنِّیْ لَآخِذَۃٌ بِزَمَامِ الْعَضْبَائِ نَاقَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ اُنْزِلَتْ عَلَیْہِ الْمَائِدَۃُ کُلُّہَا، فَکَادَتْ مِنْ ثَقْلِہَا تَدُقُّ بِعَضُدِ النَّاقَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عضباء اونٹنی کی لگام تھامے ہوئے تھی کہ آپ پر سورۂ مائدہ نازل ہوئی، اس وحی کے بوجھ سے قریب تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جاتا۔

8577

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8577

Sahih

۔ (۸۵۷۷)۔ عَنْ أَ بِی الزَّاہِرِیَّۃِ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: ہَلْ تَقْرَأُ سُورَۃَ الْمَائِدَۃِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَإِنَّہَا آخِرُ سُورَۃٍ نَزَلَتْ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوہُ وَمَا وَجَدْتُّمْ فِیہَا مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوہُ، وَسَأَ لْتُہَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ: الْقُرْآنُ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حبیر بن نفیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم سورۂ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: یہ آخری سورت ہے، جو نازل ہوئی، اس لیے اس میں جو چیز حلال پاؤ،اس کو حلال سمجھو اور جو چیز اس میں حرام پاؤ، اسے حرام سمجھو۔ پھر جب میں نے سیدہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اخلاق قرآن تھا۔