Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1604

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

وَقَوْلِہٖ: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} وَقَوْلِہٖ: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ …} ان آیات کی تفسیر کا بیان

3 hadiths in this chapter

8552

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8552

Sahih

۔ (۸۵۵۲)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: أَصَبْنَا نِسَائً مِنْ سَبْیِ أَ وْطَاسٍ وَلَہُنَّ أَزْوَاجٌ، فَکَرِہْنَا أَ نْ نَقَعَ عَلَیْہِنَّ وَلَہُنَّ أَزْوَاجٌ، فَسَأَ لْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَ یْمَانُکُمْ} [النسائ: ۲۴] قَالَ: فَاسْتَحْلَلْنَا بِہَا فُرُوجَہُنَّ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ہم نے بنو اوطاس قبیلہ کی خواتین لونڈیوں کے طور پرحاصل کیں، جبکہ ان کے خاوند موجود تھے (یعنی وہ پہلے شادی شدہ تھیں اور ان کے خاوند زندہ تھے)، اس لیے ہم نے ان سے جماع کو ناپسند کیا، کیونکہ ان کے خاوند موجود ہیں، پھر جب ہم نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ}… اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام کی گئی ہیں) مگر وہ (لونڈیاں) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں۔ تو ملک یمین کی وجہ سے ہم نے ان سے صحبت کی۔

8553

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8553

Zaeef

۔ (۸۵۵۳)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! یَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو وَلَنَا نِصْفُ الْمِیرَاثِ، فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ} [النسائ: ۳۲]۔ (مسند احمد: ۲۷۲۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں جہاد میں شرکت نہیں کرتیں اور ہماری وراثت کا حصہ بھی مردوں سے آدھا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبُوْا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبْنَ وَسْـئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِـیْمًا}… اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

8554

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8554

Sahih

۔ (۸۵۵۴)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَرَاْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ سُوْرَۃِ النِّسَائِ فَلَمَّا بَلَغْتُ ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَہِیْدًا} [النسائ: ۴۱] قَالَ: فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۵۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سورۂ نساء تلاوت کی، جب میں اس آیت پر پہنچا: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَہِیْدًا} … وہ کیفیت کیسی ہو گی، جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان سب پرگواہ لائیں گے۔ اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔