Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1584

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاِنْ تُبْدُوْ مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہٗ…}کی تفسیر

4 hadiths in this chapter

8523

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8523

Sahih

۔ (۸۵۲۳)۔ عَنْ أَ بِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {لِلَّہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ، فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ} فَاشْتَدَّ ذٰلِکَ عَلٰی صَحَابَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ تَوْا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جَثَوْا عَلَی الرُّکَبِ، فَقَالُوْا: یَارَسُولَ اللّٰہِ! کُلِّفْنَا مِنْ الْأَ عْمَالِ مَا نُطِیقُ الصَّلَاۃَ وَالصِّیَامَ وَالْجِہَادَ وَالصَّدَقَۃَ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَیْکَ ہٰذِہِ الْآیَۃُ وَلَا نُطِیقُہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ تُرِیدُونَ أَ نْ تَقُولُوْا کَمَا قَالَ أَ ہْلُ الْکِتَابَیْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا، بَلْ قُولُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ۔)) فَقَالُوْا: سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ، فَلَمَّا أَ قَرَّ بِہَا الْقَوْمُ وَذَلَّتْ بِہَا أَ لْسِنَتُہُمْ أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی إِثْرِہَا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ، کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہِ} قَالَ عَفَّانُ: قَرَأَ ہَا سَلَّامٌ أَ بُو الْمُنْذِرِ یُفَرِّقُ {وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ} فَلَمَّا فَعَلُوْا ذَلِکَ نَسَخَہَا اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِقَوْلِہِ: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} فَصَارَ لَہُ مَا کَسَبَتْ مِنْ خَیْرٍ وَعَلَیْہِ مَا اکْتَسَبَتْ مِنْ شَرٍّ، فَسَّرَ الْعَلَائُ ہٰذَا { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا} قَالَ: نَعَمْ، {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ} قَالَ: نَعَمْ، {وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ۔} (مسند احمد: ۹۳۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی {لِلَّہِ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ، فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَائُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَشَائُ وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ}… اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جسے چاہے گابخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ یہ آیت صحابہ کرام پر بہت گراں گزری، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس آیت میں ان اعمال کا مکلف بنایا گیا ہے، جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں، نماز ہے، روزہ ہے، جہاد ہے، صدقہ ہے،(ہم ان اعمال کو سرانجام دے سکتے ہیں)، لیکن اب آپ پر جو آیت نازل ہوئی ہے، اس کی ہم میں طاقت نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم بھی وہی بات دہرانا چاہتے ہو، جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی، بلکہ یہ کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطااعت کی، اے ہمارے پروردگار! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے۔ صحابہ کرام نے کہا: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف لوٹنا ہے، جب لوگوں نے اس کا اقرار کیا اور ان کی زبانیں اس حکم کے سامنے پست ہوئیں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ، کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہِ} عفان نے کہا: ابو منذر سلام نے یُفَرِّقُ پڑھا ہے، {وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ} جب صحابہ کرام نے ایسے ہی کیا تو اللہ تعالیٰ اس آیت کے حکم کو اس فرمان کے ساتھ منسوخ کر دیا: {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} نفس کے حق میں وہ خیر ہے، جو وہ کمائے اور اسی پر وہ شرّ ہے، جس کا وہ ارتکاب کرے۔ { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا} اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا} اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ} اللہ تعالیٰ نے کہا: ہاں،{وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ۔}

8524

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8524

Sahih

۔ (۸۵۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَہُمْ مِنْہَا شَیْئٌ لَمْ یَدْخُلْ قُلُوبَہُمْ مِنْ شَیْئٍ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُوْلُوْا سَمِعْنَا وَأَ طَعْنَا وَسَلَّمْنَا۔))، فَأَ لْقَی اللّٰہُ الْإِیمَانَ فِی قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَ حَدٍ مِنْ رُسُلِہٖ،وَقَالُوْاسَمِعْنَاوَأَطَعْنَاغُفْرَانَکَرَبَّنَاوَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ، لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ، رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِینَا أَ وْ أَ خْطَأْنَا، رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا، رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَ نْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ} (قَالَ اَبُوْعَبْدِ الرَّحْمٰنِ (یَعْنِیْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ): آدَمُ ھٰذَا ھُوَ اَبُوْ یَحْیَی بْنُ آدَمَ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ…}… اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ تو صحابہ کے دلوں میں ایک خیال گھس گیا اور وہ غمگین ہو گئے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کییا ہم نے تسلیم کیا، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا اور اتنے میں یہ آیات نازل کر دیں: {اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰیِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ لَانُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاغُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰینَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ۔}

8525

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8525

Sahih

۔ (۸۵۲۵)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: یَا أَ بَا عَبَّاسٍ کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَقَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ فَبَکٰی، قَالَ: أَ یَّۃُ آیَۃٍ قُلْتُ: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ أَ نْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ حِینَ أُنْزِلَتْ غَمَّتْ أَ صْحَابَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَمًّا شَدِیدًا، وَغَاظَتْہُمْ غَیْظًا شَدِیدًا،یَعْنِی وَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَلَکْنَا إِنْ کُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَکَلَّمْنَا وَبِمَا نَعْمَلُ، فَأَ مَّا قُلُوبُنَا فَلَیْسَتْ بِأَ یْدِینَا، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُولُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا۔)) قَالَ: فَنَسَخَتْہَا ہٰذِہِ الْآیَۃُ: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ} إِلٰی {لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} فَتُجُوِّزَ لَہُمْ عَنْ حَدِیثِ النَّفْسِ وَأُخِذُوا بِالْأَ عْمَالِ۔ (مسند احمد: ۳۰۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مجاہد کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس داخل ہوا اور کہا: اے ابو عباس! میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس تھا، انھوں نے یہ آیت پڑھی اور رو پڑے، انھوں نے کہا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: یہ آیت{لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْأَ رْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ…}… اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور اگر تم اسے ظاہر کرو جو تمھارے دلوں میں ہے، یا اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام سخت غمزہ ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو ہلاک ہو گئے ہیں، اگرہماری باتوں اور اعمال کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ کیا جائے (تو یہ تو ٹھیک ہے)، اب ہمارے دل تو ہمارے قابو میں نہیں ہے۔ آگے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو: ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر اس آیت نے اس آیت کے حکم کو منسوخ کر دیا{آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ … … لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ} پس نفس کے خیالات کو معاف کر دیا گیا اور اعمال کا مؤاخذہ کیا گیا۔

8526

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8526

Zaeef

۔ (۸۵۲۶)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أُمَیَّۃَ أَ نَّہَا سَأَ لَتْ عَائِشَۃَ عَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَ نْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} وَعَنْ ہٰذِہِ الْآیَۃِ: {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} فَقَالَتْ: مَا سَأَ لَنِی عَنْہُمَا أَ حَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہُمَا، فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! ہٰذِہِ مُتَابَعَۃُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا یُصِیبُہُ مِنْ الْحُمّٰی وَالنَّکْبَۃِ وَالشَّوْکَۃِ حَتَّی الْبِضَاعَۃُیَضَعُہَا فِی کُمِّہِ، فَیَفْقِدُہَا فَیَفْزَعُ لَہَا، فَیَجِدُہَا فِی ضِبْنِہِ، حَتّٰی إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِہِ کَمَا یَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَ حْمَرُ مِنْ الْکِیرِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امیہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ان آیات کے بارے میں سوال کیا: {إِنْ تُبْدُوْا مَا فِی أَنْفُسِکُمْ أَ وْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ} اور {مَنْ یَعْمَلْ سُوئً ا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا عمل کرے گا، اس کو اس کا بدلہ دیا جائے گا) سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: جب سے میں نے ان کے متعلق نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تھا، اس وقت سے اب تک کسی نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال نہیں کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایاتھا: اے عائشہ! یہ اللہ تعالیٰ بندے کا مؤاخذہ کرتے رہتے ہیں، ان عوارض کے ذریعے جو بندے کو لاحق ہوتے رہتے ہیں، مثلاً: بخار ہو گیا، مصیبت آ گئی، کانٹا چبھ گیا،یہاں تک کہ وہ سامان، جو بندہ اپنی آستیں میں رکھتا ہے، پھر اس کو گم پانے کی وجہ سے پریشان ہو جاتا ہے، اتنے میں اسی اپنی پہلو یا بغل میں پا لیتا ہے،(بیماریوں اور پریشانیوں کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح صاف ہو جاتا ہے، جس طرح سونے کی سرخ ڈلی صاف ہو کر بھٹی سے نکلتی ہے۔