Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1567

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} کی تفسیر

2 hadiths in this chapter

8490

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8490

Sahih

۔ (۸۴۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ: {وَکَذٰلِکَجَعَلْنَاکُمْاُمَّۃً وَّسَطًا} قَالَ: ((عَدَلًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا} میں وَسَطًا کا معنی عادل بیان کیا ہے۔

8491

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8491

Sahih

۔ (۸۴۹۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنْ أَ بِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُدْعٰی نُوحٌ علیہ السلام یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہُ: ہَلْ بَلَّغْتَ؟ فَیَقُولُ: نَعَمْ، فَیُدْعٰی قَوْمُہُ فَیُقَالُ لَہُمْ: ہَلْ بَلَّغَکُمْ؟ فَیَقُولُونَ: مَا أَ تَانَا مِنْ نَذِیرٍ أَ وْ مَا أَ تَانَا مِنْ أَ حَدٍ، قَالَ: فَیُقَالُ لِنُوحٍ: مَنْ یَشْہَدُ لَکَ؟ فَیَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہُ: قَالَ: فَذٰلِکَ قَوْلُہُ: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا} قَالَ: الْوَسَطُ الْعَدْلُ، قَالَ: ((فَیُدْعَوْنَ فَیَشْہَدُونَ لَہُ بِالْبَلَاغِ۔))، قَالَ: ((ثُمَّ أَشْہَدُ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلایا جائے گا اور ان سے کہاجائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: اب کون آپ کے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اوران کی امت، یہی صورت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مصداق ہے: {وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا کُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا}… ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے۔ وَسَط کا معنی عادل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میرے امت کے لوگوں کو بلایا جائے گا اور یہ نوح علیہ السلام کے حق میں گواہی دیں گے اور پھر میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا۔