Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 15 · Chapter 131

موزوں پر مسح کرنے کے ابواب

موزے پہننے سے پہلے باوضو ہونے کی شرط کا بیان

3 hadiths in this chapter

738

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #738

Sahih

۔ (۷۳۸)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا أَنْزِ عُ خُفَّیْکَ؟ قَالَ: ((لَا، اِنِّیْ أَدْخَلْتُہُمَا وَہُمَا طَاہِرَتَانِ ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِیًا بَعْدُ۔)) ثُمَّ صَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ۔ (مسند أحمد:۱۸۳۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کووضو کروایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے چہرہ اور بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے موزوں پر بھی مسح کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے موزوں کو اتار نہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: جی نہیں، جب میں نے یہ پہنے تھے تو میرے پاؤں پاک تھے اور اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نمازِ فجر ادا کی۔

739

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #739

Zaeef

۔ (۷۳۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ سَافَرَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَادِیًا فَقَضٰی حَاجَتَہُ ثُمَّ خَرَجَ فَأَتَاہُ فَتَوَضَّأَ فَخَلَعَ خُفَّیْہِ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا فَرَغَ وَجَدَ رِیْحًا بَعْدَ ذَالِکَ فَعَادَ فَخَرَجَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! نَسِیْتَ لَمْ تَخْلَعِ الْخُفَّیْنِ؟ قَالَ: ((کَلَّا، بَلْ أَنْتَ نَسِیْتَ، بِھٰذَا أَمَرَنِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۳۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مغیرہؓ سے ہی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک وادی میں داخل ہوئے، قضائے حاجت کی اور پھر باہر تشریف لے آئے اور میرے پاس آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور موزے اتار کر وضو کیا، لیکن جب فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو (پیٹ میں) ہوا محسوس ہوئی، اس لیے دوبارہ لوٹ گئے پھر آپ تشریف لائے اور پھر وضو کیا، لیکن اس بار موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ بھول گئے ہیں کہ موزے نہیں اتارے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہر گزنہیں، بلکہ تم بھول گئے ہو، مجھے اس طرح مسح کرنے کا تو میرے ربّ نے مجھے حکم دیا ہے۔

740

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #740

Sahih

۔ (۷۴۰)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَضِّئْنِیْ۔)) فَأَتَیْتُہُ بِوَضُوئٍ فَاسْتَنْجٰی ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی التُّرَابِ فَمَسَحَہَا ثُمَّ غَسَلَہَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رِجْلَاکَ لَمْ تَغْسِلْہُمَا، قَالَ: ((اِنِّی أَدْخَلْتُہُمَا وَہُمَا طَاہِرَتَانِ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے وضوء کرواؤ۔ پس میں وضو کا پانی لے کر آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کے ساتھ ملا،پھر اس کو دھویا اور وضو کیا، وضو میں موزوں پر مسح کیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنے پاؤں نہیں دھوئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک جب میں نے موزے پہنے تھے تو پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس وقت باوضو تھے۔