Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 148 · Chapter 1490

نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب

(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)

12 hadiths in this chapter

8345

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8345

Sahih

۔ (۸۳۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اِثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَقُوْمُ بِہٖآنَائَاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَہُوَ یُنْفِقُہُ فِی الْحَقِّ آنَائَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ)) (مسند احمد: ۴۹۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا درست ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا ہو اور وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس پر عمل کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ مال عطا کرے اور وہ دن رات اس کو حق میں خرچ کرتا ہو۔

8346

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8346

Sahih

۔ (۸۳۴۶)۔ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْأَ خْنَسِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَنَافُسَ بَیْنَکُمْ إِلَّا فِی اثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ أَ عْطَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَقُومُ بِہِ آنَاءَ اللَّیْلِ وَآنَاءَ النَّہَارِ وَیَتَّبِعُ مَا فِیہِ، فَیَقُولُ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی أَ عْطَانِی مِثْلَ مَا أَعْطٰی فُلَانًا فَأَ قُومَ بِہِ کَمَا یَقُومُ بِہِ، وَرَجُلٌ أَعْطَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَہُوَ یُنْفِقُ وَیَتَصَدَّقُ، فَیَقُولُ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ اللّٰہَ أَعْطَانِی مِثْلَ مَا أَعْطٰی فُلَانًا فَأَ تَصَدَّقَ بِہِ۔))، فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ رَأَ یْتُکَ النَّجْدَۃَ تَکُونُ فِی الرَّجُلِ، وَسَقَطَ بَاقِی الْحَدِیثِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنایزید بن اخنس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی خواہش اور رغبت نہیں ہے، مگر دو آدمیوں کے مابین، ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہے اور وہ دن رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے، دوسرا آدمی اس پر رشک کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی یہ نعمت عطا کی ہوتی تو میں بھی اس کا اسی طرح اہتمام کرتا، جیسے وہ کرتا ہے۔دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اسے خرچ کرتا ہے اور صدقہ کرتا ہے، دوسرا آدمی کہتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی یہ نعمت دے دے تو میں بھی اس کی طرح صدقہ کروں گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! دلیری اور بہادری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ کسی آدمی میں ہو، … حدیث کا باقی حصہ ضائع ہو گیا۔

8347

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8347

Sahih

۔ (۸۳۴۷)۔ عَنْ سَہْلٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((مَنْقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ، نُبِتَ لَہٗ غَرْسٌ فِی الْجَنَّۃِ، وَمَنْ قَرَءَ الْقُرْآنَ فَاَکْمَلَہٗ وَعَمِلَ بِمَا فِیْہِ اُلْبِسَ وَالِدَاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَاجًا، ھُوَ اَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمَسِ فِیْ بُیُوْتٍ مِنْ بُیُوْتِ الدُّنْیَا، لَوْ کَانَتْ فِیْہٖ فَمَا ظَنُّکُمْ بِالَّذِیْ عَمِلَ بِہٖ؟)) (مسنداحمد: ۱۵۷۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ کہتا ہے، اس کے لئے جنت میں ایک پودا لگا دیا جاتا ہے اور جو قرآن پاک پڑھتا ہے، اسے مکمل کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کے والدین کو روزِ قیامت ایسا تاج پہنایا جائے گا کہ جس کی روشنی تمہارے اس دنیوی گھر سے بہتر ہو گی، جس میں سورج آ جائے، (یہ تو والدین کا مرتبہ ہے) اور جو اس پر عمل کرے گا، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔

8348

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8348

Sahih

۔ (۸۴۳۸م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَقِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیلُ علیہ السلام وَہُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَائِ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَکَ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ عَلٰی سَبْعَۃِ أَ حْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ مِنْہُمْ عَلٰی حَرْفٍ فَلْیَقْرَأْ کَمَا عَلِمَ وَلَا یَرْجِعْ عَنْہُ، قَالَ أَ بِی: وَقَالَ ابْنُ مَہْدِیٍّ: إِنَّ مِنْ أُمَّتِکَ الضَّعِیفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلٰی حَرْفٍ فَلَا یَتَحَوَّلْ مِنْہُ إِلٰی غَیْرِہِ رَغْبَۃً عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احجار المراء مقام پر جبریل علیہ السلام سے ملے، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:آپ کی امت سات قرائتوں میں قرآن مجید پڑھ سکتی ہے، جس کسی نے ایک قرائت پڑھ لی ہے، تو وہ اپنے علم کے مطابق پڑھتا رہے اور اس سے رک نہ جائے۔ ابن مہدی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جبریل علیہ السلام نے کہا: بیشک آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں، لہٰذا جو ایک قراء ت پر پڑھ لے، وہ اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے دوسری قراء ت کی طرف نہ جائے۔

8349

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8349

Sahih

۔ (۸۳۴۹)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ اَنَّ شُرَیْحًا الْحَضْرَمِیَّ ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ذَاکَ رَجُلٌ لَا یَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ)) (مسند احمد: ۱۵۸۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس شریح حضرمی کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایسا شخص ہے، جو قرآن کو تکیہ نہیں بناتا۔

8350

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8350

Sahih

۔ (۸۳۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِیْ بَیْتٍ مِنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُوْنَہٗ بَیْنَہُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ، وَحَفَّتْہُمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ،وَمَنْ اَبْطَأَ بِہٖ عَمَلُہٗ لَمْ یُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۷۴۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو لوگ اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بھی جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو باہم مل کر پڑھتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے،رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ان ہستیوں میں ذکر کرتاہے، جو اس کے پاس ہیں، اور جس کے عمل نے اس کو پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔

8351

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8351

Sahih

۔ (۸۳۵۱)۔ عن أَ نَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ أَبَا مُوسَی الْأَ شْعَرِیَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّۃِ طَعْمُہَا طَیِّبٌ وَرِیحُہَا طَیِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِی لَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ التَّمْرَۃِ طَعْمُہَا طَیِّبٌ وَلَا رِیحَ لَہَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِی یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الرَّیْحَانَۃِ مُرٌّ طَعْمُہَا وَرِیحُہَا طَیِّبٌ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِی لَا یَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَۃِ مُرٌّ طَعْمُہَا وَلَا رِیحَ لَہَا)) (مسند احمد: ۱۹۸۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کی تلاوت کرنے والے مومن کی مثال نارننگی کی مانند ہے، اس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے، تلاوت نہ کرنے والے مومن کی مثال کھجور کی مانند ہے، اس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، تلاوت کرنے والے فاجر کی مثال نیاز بو کی مانند ہے، اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، لیکن خوشبو اچھی ہوتی ہے اور تلاوت نہ کرنے والے فاجر کی مثال اندرائن کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتاہے اور خوشبو بھی نہیں ہوتی۔

8352

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8352

Sahih

۔ (۸۳۵۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہٖ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیئُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ، فَیَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ: اَنَا الَّذِیْ اَسْہَرْتُ لَیْلَکَ وَاَظْمَاْتُ ھَوَ اجِرَکَ)) (مسند احمد: ۲۳۳۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت قرآن پاک زرد رنگت والے آدمی کی مانند آئے گا۔ اپنے ساتھی سے کہے گا: میں نے تجھے رات بیدار رکھا اور تجھے دوپہر کے وقت پیاسا رکھا توا ٓج میں سفارش کروں گا۔

8353

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8353

Sahih

۔ (۸۳۵۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَّذِیْ یَقْرَاُ الْقُرْآنَ وَھُوَ مَاہِرٌ بِہٖ،مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ، وَالَّذِیْ یَقْرَئُہٗ وَھُوَ عَلَیْہٖ شَاقٌّ فَلَہٗ اَجْرَانِ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۷۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک پڑھتا ہے اور وہ اس میں ماہر ہو تو اس کا ساتھ سفید چہروں والے اور عزت والے نیکو کار فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور وہ جو اسے پڑھتا ہے اور یہ اس پرگراں ہو تو اسے دہرا اجر ملے گا۔

8354

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8354

Sahih

۔ (۸۳۵۴)۔ (وَعَنْہَا اَیْضًا) قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا یَقْرَاُ آیَۃً، فَقَالَ: ((رَحِمَہُ اللّٰہُ، لَقَدْ اَذْکَرَنِیْ آیَۃً کُنْتُ نُسِیْتُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو سنا، وہ ایک آیت کی تلاوت کر رہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے ایک آیت یاد دلا دی، مجھے تو وہ بھلا دی گئی تھی۔

8355

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8355

Zaeef

۔ (۸۳۵۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَقْرَاُ فِیْنَا الْعَرَبِیُّ وَالْعَجَمِیُّ وَالْاَسْوَدُ وَالْاَبْیَضُ اِذْ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَنْتُمْ فِیْ خَیْرٍ، تَقْرَءُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَفِیْکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہ، وَسَیَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَثْقَفُوْنَہٗ کَمَا یَثْقَفُوْنَ الْقَدَحَ، یَتَعَجَّلُوْنَ اُجُوْرَھُمْ وَلَا یَتَاَجَّلُوْنَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم قرآن پاک پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب لوگ بھی تھے اور عجمی بھی اور سیاہ رنگت والے بھی تھے اور سفید رنگت والے بھی، اچانک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم بھلائی پر ہو، تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کر رہے ہو، جبکہ تم میں اللہ کے رسول بھی موجود ہیں، عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ اس کتاب کو خوبصورت پڑھنے کے لیے اتنا مبالغہ کریں گے، جیسے تیرکو بڑی توجہ کے ساتھ سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن اس کے اجر کو (دنیا میں ہی) جلدی جلدی وصول کریں گے اور اس کو آخرت تک مؤخر نہیں کریں گے۔

8356

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8356

Sahih

۔ (۸۳۵۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَاِذَا فِیْہِ قَوْمٌ یَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ، قَالَ: ((اِقْرَءُوا الْقُرْآنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: فَاسْتَمَعَ، فَقَالَ: اِقْرَءُوْا فَکُلٌّ حَسَنٌ) وَابْتَغُوْا بِہِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَاْتِیَ قَوْمٌ یُقِیْمُوْنَہٗ اِقَامَۃَ الْقَدَحِ یَتَعَجَّلُوْنَہٗ وَلَا یَتَاَجَّلُوْنَہٗ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ مسجد میں کچھ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کریم پڑھو، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غور سے سنا اور پھر فرمایا: تلاوت کرو، تلاوت کرو، ہر ایک اچھا ہے، لیکن اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو تلاش کرو، ایسے لوگوں کے آنے سے پہلے پہلے کہ وہ اس کی تلاوت اس طرح ٹھیک ٹھیک کریں گے، جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن دنیا میں اس کا اجر طلب کریں گے اور آخرت تک اس کے ثواب کو مؤخر نہیں کریں گے۔